اس سارے قتل و غارت کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے۔ یہ وہ ہے جو اس بے حس قاتل کی طرح اپنا چہرہ معصومانہ بنا لیتا ہے، ماتم شروع کردیتا ہے اور لوگوں کے ساتھ مقتول کے جنازے میں بھی شریک ہوتا ہے حالانکہ قتل بھی اسی نے کیا ہوتا ہے۔ گذشتہ بیس سالوں کے قتل و غارت کا کوئی ایک بڑا ذمہ دار اگر کسی کو قرار دینا ہو تو وہ صرف اور صرف میڈیا ہے۔ اس میں اخبارات و جرائد، رسائل وکتب نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ لاتعداد ٹیلی ویڑن چینل آپ کو نفرت کی آگ سلگانے سے لے کر اس پر پٹرول چھڑکنے اور پھر اس آگ میں جلتے، بھسم ہوتے انسانوں کا لائیو تماشہ نشر کرنے تک ہر سطح پر ملوث ہیں۔ اس “مین سٹریم میڈیا” کی نفرت سے گلی گلی اور محلے محلے میں ایک ایسی نسل تیار ہوئی جس نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں سے نفرت اور انکے قتل کی آگ بھڑکائی۔ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتل عام پر ٹسوے بہانے والا یہ عالمی میڈیا کیا اپنی گذشتہ بیس سالوں پر محیط اسلام کے خلاف نفرت پر مبنی اس مہم کا جواب دے سکتا ہے،جس نے ایسے لاتعداد قاتل تیار کیے ہیں۔مسلمانوں کے ہر قتل پر اس میڈیا کے پراپیگنڈے کی انگلیوں کے نشان ثبت ہیں۔ نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں پچاس مسلمانوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے والا بر ینٹن ٹیرینٹ Tarrant” “Brentonآسٹریلیا کے ایک خاموش سے مضافاتی علاقے گرافٹن کا رہائشی تھا، جو اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر نہیں بلکہ دوسرے ملک جا کر مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ، ان سے لذت اٹھاتے ہوئے میڈیا کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے اس نے اسے لائیو نشر بھی کیا۔یہاں پوری دنیا کے میڈیا کے اس ترغیباتی جرم کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ صرف اسی ایک دہشت گرد کے ملک آسٹریلیا کے میڈیا کا ایک سالہ کردار دیکھ لیتے ہیں کہ اس میڈیا نے کسی طرح برینٹن ٹیرینٹ جیسے لاتعداد کرداروں کو تخلیق کرنے کے لیے شدید محنت اور جانفشانی سے کام کیا۔ آسٹریلیا کے ایک تحقیقاتی ادارے ون پاتھ نیٹ ورک نے اس “عظیم” اور “آزادی اظہار” کے علمبردار میڈیا کے اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے اور مسلمانوں کو زمین کا بوجھ ثابت کرنے کے صرف ایک سال کے اعداد و شمار جمع کیے ہیں جو حیران کن نہیں خوفناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے پانچ بڑے اخبارات میں ایک سال میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تقریبا تین ہزار مضامین شائع ہوئے۔ ان میں اسلام کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی وہ اسلامی تشدد ( Islamic violence)، اسلامی انتہا پسندی ( Islamic extremism)،اسلامی دہشت گردی ( Islamic terrorism)،اسلامی شدت پسندی Islamic Radicalism کے بارے میں تھی۔ یعنی ہر روز ان پانچ بڑے اخبارات میں آٹھ مضامین چھپتے رہے جو اسلام اور مسلمانوں کا منفی چہرہ پیش کرتے رہے۔ یہ صرف ایک سال یعنی 2017 کی بات ہے۔ ان تین ہزار مضامین میں سے 152 ایسے تھے جو اخبارات کے صفحہ اول پر باکس بنا کر یا پھر شہ سرخیوں سے شائع کیے گئے۔ یعنی ہر دوسریدن اخبارات کے صفحہ اول سے آسٹریلیا کی عوام کے دماغ پر میڈیا کا یہ ہتھوڑا برستا رہا کہ مسلمان اس دنیا کی بدترین مخلوق ہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ہر روز ان اخبارات کے بیچ کے ان دو صفحات پر جو کھل کر ایک صفحہ بن جاتے ہیں یعنی “سنٹر پیج ” جن پر ہمارے ہاں عموما ماڈل کی تصویریں لگائی جاتی ہیں، آسٹریلیا کے ان پانچوں بڑے اخبارات میں اسلام سے دنیا کولاحق خطرات اور خوف( The Perils and Dangerous of Islam ) کے عنوان سے مضامین شائع ہوتے تھے، جن میں مسلمانوں کو خونخوار اور اسلام کو ایک خونی مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس تحقیقاتی ادارے نے آسٹریلیا کے عوام کے وہ سروے بھی اکٹھے کیے جو مختلف ادارے کرتے رہتے ہیں۔ 2017 کے اس طوفانی اسلام دشمن پراپیگنڈے سے ایک سال پہلے یعنی 2016 میں مشہور Essential reportکے مطابق 49 فیصد آسٹریلوی باشندوں کی رائے یہ تھی کہ مسلمانوں کی امیگریشن پر پابندی لگا دی جائے لیکن اب 2018 میں یہ تعداد دوگنا ہو چکی ہے۔ لیکن اس میڈیا کا کمال دیکھیں کہ اس نے یہ رائے عامہ ان لوگوں میں پیدا کی جو اسلام اور مسلمان دونوں کو سرے سے جانتے ہی نہیں تھے۔ گریفتھ (Griffith) یونیورسٹی نے2016میں اسلام اور مسلمان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق آسٹریلیا کے ستر فیصد عوام کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بہت کم علم تھا۔ یہ تھا میڈیا کا کمال کہ آسٹریلیا کے عوام اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں لیکن وہ ان سے نفرت ضرور کرتے ہیں۔ کیا آسٹریلیا کے ان پانچ اخبارات کے پاس اسلام اور مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور موضوع نہیں تھا۔تھا ، لیکن اسلام دشمن چورن خاص طور پر بیچا گیا۔ جو میڈیا ایسے لوگوں کے دلوں میں بھی نفرت کا بیج بو دیتا ہے جو نہ ہی مسلمانوں کو جانتے ہیں اور نہ اسلام کے بارے میں انہیں کچھ علم ہوتا ہے، وہ میڈیا نیوزی لینڈ کی مساجد میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے متعصب تاریخ کے طالب علم کا کیسے خون گرماتا ہوگا اور وہ کیسے اس میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثرہوا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو زمین کا بوجھ سمجھ کر انہیں ختم کرنے کیلئے اپنے ملک آسٹریلیا سے نیوزی لینڈ روانہ ہوا تھا۔ یہ معاملہ صرف اخبارات تک محدود نہیں، ٹیلی ویژن پروگراموں، ٹاک شوز ، ڈاکو منٹریوں کی ایک کثیر تعداد ہے جو روزانہ عوام کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کے بیج بوتی ہیں۔ یہ سلسلہ صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں ہے بلکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد ایک منصوبے کے تحت یہ سب کیا گیا ۔ دنیا کے دو بڑے میگزین نیوز ویک اور ٹائم نے اسلام کے بارے میں اپنے بیس اہم مضامین علیحدہ کر کے شائع کیے جن میں 59 فیصد مواد اسلام کے خلاف تھا اور صرف چھ فیصد معلومات اسلام کے حق میں تھیں۔ امریکہ میں 2009 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی “The Roots of Islamo Phobia”اسلام سے نفرت کی جڑیں۔ اس کے مطابق سات رفاحی تنظیموں نے 2001 سے 2005 تک 43 ملین ڈالر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے پر خرچ کیے۔ برکلے کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق مطابق صرف 5 سالوں میں 206 ملین ڈالر 33 گروپس کو دیے گئے تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع کریں۔ یہ موضوع اس قدر طویل ہے کہ اس پر پورا ایک سال کالم لکھے جاسکتے ہیں اور میڈیا کا قاتل اور نفرت انگیز چہرہ بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ صرف مغربی میڈیا ہے جو ایسا کرتا ہے۔ ہمارے مرعوب ، کاسہ لیس اور ٹیکنالوجی کے بت کے سامنے سجدہ ریز کالم نگار اور میڈیا پرسن بھی ان سے کم نہیں۔ نیوزی لینڈ کے اس خونی واقعہ کے بعد مجھے اپنے میڈیا، سوشل میڈیا اور این جی اوز میں ایسے لاتعداد چہرے نظر آئے جنہیں مسلمانوں کے اس قتل عام کے ذکر کے ساتھ یہ ضرور یاد رہا کہ مسلمانوں کو بھی کسی طرح اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ کسی کالم نگار کو اس قاتل کی سوانح بیان کرتے ہوئے کوئنیز سٹریٹ پر ٹرک کے نیچے لوگوں کو کچلنے والا مسلمان ڈرائیور یاد آ گیا اور اس نے اسکا ذکر کر دیا ،تو کسی کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی حسین شامیں یاد آگئیں۔ روتی ہوئی وزیراعظم کا خصوصی ذکر کیا گیا جس کی ناک کے نیچے بیس سال میڈیا نفرت اگلتا اور ایسے قاتل پیدا کرتا رہا۔ موم بتیاں روشن کرنے والوں نے موم بتیوں کیساتھ بینر لگاتے ہوئے لکھا کہ ہم نیوزی لینڈ اور یمن کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر کیسے یمن بھی یاد آگیا۔عراق اور افغانستان کیوں یاد نہیں آتا اس لئے کہ وہاں قاتل امریکہ ہے۔ مقصد صرف ایک تھا کہ اس دکھ کی گھڑی میں بھی مسلمانوں کے چہرے پر کالک ضرور ملی جائے، انہیں ظالموں کی فہرست سے خارج نہ کیا جائے۔ یہ ہے میڈیا۔۔۔ جو گذشتہ بیس سال کے قتل عام کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے۔