صحافی مبشر علی زیدی نے نعیم الحق کی وفات کا مذاق اڑایا اور ٹویٹ کیا کہ میں جارہا ہوں، آپ بھی سامان باندھ لیں

مبشرزیدی کا مخاطب وزیراعظم عمران خان تھے۔ اس پر عامرلیاقت نے مبشرزیدی کی کلاس لے لی اور ٹویٹ کیا کہ ایک داغ صحافت ,نعیم بھائی کی وفات پر علم بکواسیات سےاندھے چراغ جلا رہا ہے ,جل ککڑے سے کہتا ہوں”مت کہو اپنے آپ کو زیدی،تم تو الٹ پلٹ کے یزید سے بنائے گئے ہو!اصلی اور نسلی زیدی خانوادہ زین العابدین کی جان ہیں جو دشمن کی موت پر بھی جشن نہیں مناتے

اس پر مبشرزیدی نے ٹویٹ کیا کہ میں ادھر اسلام آباد ہی بیٹھا ہوں۔ کسی نے کچھ اکھاڑنا ہے تو اکھاڑ لے

اس پر عامر لیاقت نے کہا کہ تہ بتانا مجھے ملنے آنا ہے

عامرلیاقت نے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں ایک باپ کی اولاد ہے تو پتہ بتا مجھے اپنے نام میں موجود اس حسین کی قسم جس کا میں غلام ہوں تجھ سے ملنے نہ آیا تو پاکستان کے لیے جینا حرام ہے۔

عامر لیاقت نے مزید کہا کہ نہیں بتائے گا؟ رُک اسلام آباد ہی۔۔۔ میں رٌک جانا نہیں تجھے اپنی گندی سوچ, گھٹیا فکر اور 100 لفظوں کی فحش زبان کی قسم! بس تو ایک دن رُک… ڈھونڈنے والے ڈھونڈ ہی نکالیں گے. اگر یہیں ہے .. نعیم بھائی کو سپرد خاک کر کے آریا ہوں , تُو مجھے جیو سے جانتا ہے۔

اس پر مبشرزیدی نے عامرلیاقت کی اہلیہ پر گھٹیا اور غلیظ جملے بازی کی تو عامرلیاقت نے پھر مبشرزیدی کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ تُو جہنم چھوڑ بس پتہ بتادے ورنہ مان لے تو اسلام آباد میں نہیں ہے, اور ہاں تیرے جیسا گرا ہوا نہیں جو گھر والوں کو بیچ میں لاؤں تُو نے ثابت کردیا تو زیدی نہیں ہے .. میں نے صرف پتہ پوچھا ہے جو تُو نہیں بتا رہا.. بیویاں کس کی کیسی ہیں یزید پوچھتا تھا شکر کہ تو یزید ہی نکلا

اس پر مبشرزیدی نے پھر عامر لیاقت پر غلیظ حملہ کیا جس پر عامر لیاقت نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تو ختم کر نا بواسیر اور بتا دے ۔ پتہ جانتا ہے نا بار بارکیوں پوچھ رہا ہوں؟ لوکیشن ٹریس کرنے والے ٹریس کر ہی لیتے ہیں۔۔ اسی طرح جواب دیتا رہے،وی پی این دوسرا استعمال کر، ہرچیز مفت کی مت چلا اور ہاں اپنے والد ابوجہل کو درمیان میں کیوں لاتا ہے اسے ہم بدر میں فارغ کرچکے۔

واضح رہے کہ مبشرعلی زیدی جیو کا صحافی رہ چکا ہے اور سولفظوں کی کہانی کے عنوان سے لکھتا رہا ہے۔ اس نے نعیم الحق کی موت کا مذاق اڑایا تو اسے لینے کے دینے پڑگئے اور اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ہی لاتعلقی کا اظہار کردیا اور کہا کہ یہ میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں ہے ، میرا ٹوئٹر اکاؤنٹ کوئی اور ہے جبکہ حقیقت میں مبشرزیدی اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اپنے ٹوئٹس اور اپنی سو لفظوں کی کہانی شئیر کرتا رہا ہے

یادرہے کہ اس سے پہلے بھی مبشرزیدی ذاتی حملے کرچکا ہے۔ جب وزیراعظم عمران خان نے بشریٰ بی بی سے شادی کی تو مبشرزیدی نے وزیراعظم کی اہلیہ پر غلیظ اور گھٹیا جملے بازی کی اور خاتون اول کی ذات کو نشانہ بنایا۔ جس کے بعد اس پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید ہوئی۔