جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی کمپنیاں بنانے کا ایک اور کیس سامنے آگیا اور اس بار کراچی میں تل کے لڈو فروخت کرنے والا نابینا شخص کروڑ پتی نکل آیا۔

تل کے لڈو فروخت کرنے والے برزٹا لائن کے رہائشی نابینا شخص کے اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے کی موجودگی کے انکشاف کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے متاثرہ شہری کے گھر پر چھاپہ مارا۔

ایف بی آر کے مطابق شہری کے اکاؤنٹ سے ڈھائی کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی، جبکہ مزید تحقیقات کے لیے شہری کو چند روز بعد ایف بی آر کے دفتر طلب کیا گیا ہے۔

دوسری جانب نابینا لیاقت کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے چھاپے کے بعد کمپنی اور جعلی اکاؤنٹ کا علم ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا شناختی کارڈ تین بار کھو چکا ہے جس کے انہوں نے مقدمات بھی درج کرائے ہیں، جبکہ وہ تل کے لڈو فروخت کرکے گذر بسر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو جعلی اکاؤنٹس کے بعد جعلی کمپنیوں کا بھی انکشاف ہوا تھا اور محکمہ صحت سندھ کا نائب قاصد ایک کمپنی کا مالک نکلا تھا۔

کورنگی کے رہائشی زاہد انور کو اپنی کمپنی کا اس وقت پتہ چلا تھا جب ایف بی آر نے انہیں 16 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس کی چوری کا نوٹس بھیجتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔

اس سے قبل 12 اکتوبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے رکشہ ڈرائیور کے بینک اکاؤنٹ سے 2 ارب 50 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف کیا تھا۔

ایف آئی کے مطابق کراچی کے نجی بینک یو بی ایل میں رکشہ ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں 2 ارب 50 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کا نام رشید ہے اور وہ اورنگی ٹاؤن کا رہائشی ہے‘۔

ایف آئی اے نے جب رشید کو بیان کے لیے بلایا تو وفاقی ایجنسی کو معلوم ہوا کہ وہ رکشہ چلاتا ہے۔

ایف آئی اے نے بتایا کہ رکشہ ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں 2 ارب 50 کروڑ کی رقم منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوئی۔

اس سے چند روز قبل حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں راتوں رات کروڑوں روپے کی منتقلی کا انکشاف سامنے آیا تھا۔

پردیپ کمار کا کہنا تھا کہ ’میں ہفتہ (6 اکتوبر) کو بینک سے اپنی تنخواہ نکلوانے گیا تھا، پہلے بینک میں موجود بیلنس چیک کیا تو اس میں بہت بڑی رقم موجود تھی تو میں نے ڈر کی وجہ سے رقم نہیں نکلوائی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں گھر آیا تو خوف کی وجہ سے گھر میں بھی کسی کو نہیں بتایا کہ کہیں گھر والے پریشان نہ ہوجائیں، ہم غریب لوگ ہیں’۔

قبل ازیں ستمبر میں فالودہ بیچ کر اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنے والے عبدالقادر کو ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے اکاؤنٹ میں 2 ارب 25 کروڑ روپے موجود ہیں جبکہ وہ اس رقم کی منتقلی سے لاعلم تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایک مزدور اور سبزی فروش کے اکاؤنٹس سے 2 سے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف ہوا تھا۔