بیسویں صدی کے آغاز میں جب سودی بینکاری کے سرمائے سے کارپوریٹ سرمایہ داری نظام مضبوط ہوا تو عورت کی آزادی اور مساوی انسانی حقوق کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ یہ آوازیں کسی شعوری ترقی یا علمی انقلاب کا نتیجہ نہیں تھیں بلکہ ایک کاروباری ضرورت کے تحت بلند ہوئیں، کیونکہ اب کثیر تعداد میں سستے کارپوریٹ مزدوروں کی ضرورت تھی۔ مرد تو معاشی مزدوری صدیوں سے کر ہی رہے تھے لیکن اب سرمایہ دار کے کارخانوں کا ایندھن بننے کے لیے گھروں سے عورتوں اور بچوں تک کو بھی اس جہنم میں جھونکنا ضروری ہوگیا تھا۔ کھیتوں پر کئی صدیوں سے جانوروں کی طرح ہانکے ہوئے افریقی سیاہ فام غلام مرد، عورتیں اور بچے پہلے ہی سے کام کر رہے تھے، لیکن صنعتی انقلاب کی ضروریات اور طرح کی تھیں۔اب جدید اور پڑھے لکھے غلام چاہیے تھے۔ایسے غلام جنہیں احساس تک نہ ہو کہ وہ غلام بنا لئے گئے ہیں بلکہ وہ اسے اپنی عزت افزائی تصور کریں۔ آزادی نسواں کی ان تحریکوں کی بنیاد وہی تھی جو اس عالمی کارپوریٹ تبدیلی کے آغاز میں رکھی گئی تھی، یعنی جمہوریت اور ووٹ کا حق۔ وہ دھوکا جو پہلے مردوں کو دیا گیا کہ اب تمہاری مرضی حکمرانوں پر چلے گی۔ ویسا ہی فریب زدہ خواب عورتوں کو بھی دکھایا گیا۔ حقوق نسواں کی تحریک آغاز میں عورتوں کے ووٹ کا نعرہ بلند کر کے ابھری۔اسے دنیا بھر میں Suffrage موومنٹ کا نام دیا جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں 18 اگست 1920ء کو امریکی آئین میں انیسویں ترمیم پاس ہوئی اور عورتوں کو ووٹ دینے کا حق مل گیا اور اسی دوران باقی مغربی ممالک میں بھی ایسے ہی قوانین منظور ہوگئے۔ لیکن اس تحریک کا خاموش آغاز ایک دہائی قبل عورت کو اشتہار کی زینت بنا کر کیا گیا۔ یہ 1912ء کا سال تھا۔ تمباکو پینے کو سگار اور پائپ کی جھنجھٹ سے نکال کر عام آدمی تک اس کی ترسیل کو آسان کرنے کے لیے نیبو (Nebo)برانڈ کا سگریٹ مارکیٹ میں لایا گیا تھا۔ اس کی تشہیر کے لیے سب سے پہلے کسی مال کو بیچنے کے لئے نہ صرف عورت کو اشتہار میں استعمال کیا گیا بلکہ اس اشتہار سے کئی مقاصد بھی حاصل کیے گئے۔ عورت مرکز نگاہ بلکہ تماشا گاہ بن گئی، مال زیادہ بکنے لگا اور خواتین کے استحصال کا پیغام بھی لوگوں تک پہنچا دیا گیا۔ یوں ایک غیر محسوس طریقے سے وہ تمام اہداف حاصل کرلیے گئے۔ اشتہار کا لب لباب اور اس کے الفاظ ملاحظہ کریں۔ سگریٹ پیتی ہوئی عورت کو “Suffragette” یعنی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سگریٹ نوش کہا گیا۔ اشتہار کہتا ہے کہ کوئی ایسی آزاد خیال سگریٹ نوش خاتون (Suffragette) تمہیں غیر مہذب لگے تو اسے کچھ مت کہو، بلکہ آرام سے ایک “Nebo” کا سگریٹ سلگاؤ اور اس کی خوابناک آنکھوں میں جھانکو جہاں تمہیں ایک پکار نظر آئے گی I Wish I Were a man(کاش میں ایک مرد ہوتی)۔ یہ وہ پیغام تھا جو ایک خاموش زہر کی صورت معاشرے کو دیا گیا تھا کہ اور یوں پرسکون معاشرتی ماحول میں عورت اور مرد کو آپس میں دست و گریباں کر کے اسے ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ اکھاڑے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا۔مقصد یہ تھا کہ وہ اس اہم ذمہ داری سے علیحدہ ہو جائے جس سے خاندان کا ادارہ مضبوط ہوتاتھا اور نئی نسل کی اخلاقی، معاشرتی، تہذیبی اور مذہبی تربیت ہوتی ہے۔ میڈیا ایک ایسا ہتھیار بن کر نکلا جس سے اب معاشرے میں رول ماڈل بنائے جاتے ہیں۔ ایک خاتون اور پھر جاذب نظر خاتون کو میڈیا کے سینٹر سٹیج پر لانے کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ ایک ایسی چکا چوند گلیمر کی دنیا آباد کی جائے جس کی آنکھیں چندھیا دینے والی روشنی میں اخلاق، اقدار، ماحول بھی مرضی کے مطابق تبدیل ہو جائے اور مال بھی خوب بکے۔ لیکن اس سارے دھندے میں جو ظلم اس بیچاری عورت کے ساتھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔میڈیا نے اپنے اشتہارات میں ایک ایسی خاتون کا تصور بنا کر پیش کیا جو اصل دنیا میں وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔ ایک باربی گڑیا (Doll) جسے جھریاں نہیں پڑتیں، جس کے جسم پر داغ، دھبے، تل، چھائیاں نہیں ہوتیں ، جس کے جسم پر کسی زخم یا بیماری کا نشان بھی نہیں رہتا ، جس کی ٹانگیں لمبی، شفاف و چمکدار اورایک مخصوص سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہیں اور جس کے جسم کے پرکشش حصے زمین کی کشش ثقل سے آزاد ہوتے ہیں اور زندگی بھر ڈھلکتے نہیں۔ اشتہارات کی اس دنیا نے مردوں کو بچپن ہی سے خوابوں میں آباد”باربی گڑیا “کی طلب کا دیوانہ بنادیا۔ عام اشتہارات سے لے کر پلے بوائے کے درمیانی صفحات تک مردوں کی آنکھوں کے سامنے جس عورت کی طلب ناچ رہی ہوتی ہے وہ ایک ناممکن (impossible) وجود ہے جسے گھنٹوں کے میک اپ، کیمرہ لائٹنگ اورفلم کی بعد میں نوک پلک درست کرنے (Retouching) سے بنایا جاتا ہے۔ شوبز اشتہارات اور میڈیا کی دنیا میں ان خواتین کی عمر بہت کم ہوتی ہے۔یہ خواتین جوان ہونے تک ایسی ہی “باربی گڑیا” کی طرح لگنے کے لیے محنت کرتی رہتی ہیں اور پھر چند سال اس چکا چوند میں گزار کر باقی زندگی گمنامی اور ڈپریشن کے اندھے کنویں میں گزار دیتی ہیں۔لیکن ان سے جو کام لینا ہوتا ہے وہ لے لیا جاتا ہے جو بہت خوفناک ہے۔ یہ کام ایک غیر محسوس طریقے سے اقدار، روایت، ماحول، تہذیب، احترام اور معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے کا کام ہے۔ اشتہار کے ذریعے یہ “باربی گڑیا” جیسی خواتین دنیا کے ہر شعبے میں کامیاب و کامران بھی دکھائی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ بے انتہا خوبصورت بھی۔ وہ اشتہار میں پائلٹ ہوں، ڈاکٹر ہوں، نرس ہوں، استاد، کھلاڑی یا کچھ بھی ہوں، ان کا چہرہ جھریوں سے پاک اور جسم باربی گڑیا کے معیار سے کم نہیں دکھایا جاتا۔ بلکہ اگر کردار کی ضرورت کے لیے ذرا زیادہ کپڑے زیب تن کرنا پڑیں تو ان کی تراش خراش یا ماڈل کی نشست و برخاست سے ان کے جسمانی خدوخال کو نمایاں کر دیا جاتا ہے۔ اس ساری میڈیا انڈسٹری میں عورت ایک مال ہے، سودا ہے یا بازاری جنس ہے جسے انگریزی زبان کے مطابق ایک “commodity” کہا جاتا ہے۔ اس عورت کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جیسا زائد المعیاد خوراک، ادویات یا دیگر اشیا کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ بھی اپنی ضرورت کی عمر گزارنے کے بعد زائد المعیاد ہوکر معاشرے کے ڈسٹ بن کا حصہ بن جاتی ہیں۔ 1912 سے لے کر آج تک تقریبا سو سال کے اس سفر میں جو کچھ امریکہ و یورپ نے کھویا ہے وہ ایک المناک کہانی ہے۔ بلند و بالا عمارتوں، سجے ہوئے بازاروں اور رات بھر جاگتے شہروں میں اولڈ ایج ہومز میں بوڑھے آباد ہیں، بار بار بیوفا یوں اور طلاقوں سے تھکی ہوئی عورتیں ہیں، محبت کی قوس و قزح پر جنسی بے راہ روی کے جھولے جھولتی ہوئی نوجوان نسل ہے، غیر شادی شدہ کم سن مائیں ہیں اور کیریئر، بزنس اور مستقبل کے گھوڑے پر سوار ایک دوسرے کو روندتے ہوئے مرد و زن ہیں۔ یہ سب اس مغربی معاشرے کا رول ماڈل ہیں جو میڈیا نے بڑی محنت سے تخلیق کیے ہیں۔ یہی رول ماڈل اب میرے ملک میں بھی تخلیق کیے جا رہے ہیں۔ ویسے ہی اشتہارات کے میٹھے زہر سے میرے ملک میں نئی اقدار بنائی جا رہی ہیں۔ باپ کو ناراض کر کے لڑکی کرکٹ کھیلنے چلی جاتی ہے اور پھر اسے کامیاب ہیرو بنتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ بالوں کی مضبوطی سے اسے مرد کے مقابلے میں کھڑے ہونے اور مقابلہ کرنے کا درس دیا جاتا ہے، جو عورت گھر میں ایک قیمتی سرمائے یعنی آنے والی نسل کو تربیت دیتی ہے اور مرد کما کر لاتا ہے اور وہ سرمائے سے عورت کے اس عظیم کام میں ممدو معاون ہوتا ہے، اس عورت کو خاوند کے ساتھ کپڑے دھوتے ہوئے، ایک ساتھ کمائی کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ فیشن انڈسٹری کے اشتہارات جس طرح باتھ روموں میں غسل سے لے کر بالوں سے پاک نرم و ملائم جسم کی نمائش تک جا پہنچے ہیں وہ ناقابل بیان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اب ہمیں یہ سب کچھ برا بھی نہیں لگتا، اب ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمارے مردوں کی خوابوں میں اب “باربی گڑیا” بس چکی ہیں اور ہماری بچیاں ویسی گڑیا بننے کی کوشش میں تھک تھک کر ہلکان ہو رہی ہیں۔ بیوٹی پارلرز سے لیزرتھراپی ، جم، کاسمیٹک سرجری اور جسم اور چہرے کی موزونیت کے لیے لاتعداد آپریشن۔ ہماری عورت بھی مردوں کے خوابوں میں یہی “باربی گڑیا” جیسی بننے کی دوڑ میں گم ہو چکی ہے، ایسی گڑیا جس کااس دنیا میں وجود ہی نہیں، جو ایک ناممکن خواب ہے۔