میرا عمران خان سے رابطہ کبوتر کے ذریعے ہوتا ہے چودھری نثار

39

 

شمولیت کی دعوت پر عمران خان کا شکریہ ،چوہدری نثار

سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے عمران خان کی پارٹی میں شمولیت کی دعوت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے لیے باعث عزت ہے ایک بڑی پارٹی کے لیڈر مجھے دعوت دے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار نے کہا ہے کہ عمران خان اور نواز شریف میرے متعلق سوال پر چپ ہوجاتے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ میری سیاسی تاریخ دیکھ لیں،دو نمبر لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ آج پریس کانفرنس اس لیے بلائی کہ بتاؤں میں سیاسی طورپر کہاں کھڑا ہوں، میں پارٹی سے ناراض نہیں ہوں، میرے کوئی مطالبات نہیں،پارٹی سے کبھی عہدہ نہیں لیا۔

چوہدری نثار نے مزید کہا کہ ن لیگ کی تشکیل سے اس کا بانی رکن ہوں،34سال سے میاں نوازشریف کے ساتھ ہوں،اس جماعت کے بانی اراکین 20،22 اور بھی تھے لیکن میرے سوا اب کوئی بھی ن لیگ میں نہیں ہے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاناما لیکس شروع ہوا تو میں نے سپریم کورٹ نہ جانے کا مشورہ دیا،تقریر کا فیصلہ کیا گیا تو میں نے مخالفت کی،جے آئی ٹی بنی تو میں نے آرمی چیف سے مشاورت کا مشورہ دیا۔

 

چودھری نثار کو نواز شریف کے چہرے میں فرعوں کیوں نظر اتا ہے؟؟

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے نواز شریف سے کہاکہ فوج اور عدلیہ کے خلاف اپنی ٹون ذرا نیچے لے کر آئیں،نوازشریف نے پوچھا پھر میں کیا کہوں،میں نے کہاکہ آپ سختی سے کہیں آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں سیاست دنگل یا جنگ نہیں، میں غلط ہوسکتا ہوں لیکن اسے بدنیتی تو قرار نہیں دیا جاسکتا،ہمیں کس نے کہا تھاکہ سپریم کورٹ جائیں؟ہم خود گئے، ہمیں کس نے کہا تھاکہ جے آئی ٹی قبول کریں؟ہم نے خود قبول کی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب نوازشریف کی نااہلی ہوئی تو نالاں ایم این ایز کا ایک طوفان تھا،اگر میں خاموشی سے ایسا کرتا تو 40 سے 45 اراکین کا گروپ میرے ساتھ موجود تھا،اب بھی کئی ایم این ایز آتے ہیں میں ان سے کہتا ہوں ن لیگ میں رہنا ہے۔

پریس کانفرنس کےد وران چوہدری نثار نے کچھ شکوے اور کچھ شکایتیں بھی کیں اور کہا کہ میاں صاحب اور ان کی بیٹی نے کبھی شعر اور کبھی بیان بازی کے ذریعے طعنہ زنی کی ، پھر ان کے ذاتی ملازم نے بھی طعنہ زنی کی جس نے کبھی الیکشن نہیں لڑا ۔

سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ مشرف کے 4 ساتھیوں کو ہم نے سینیٹ کا ٹکٹ دیا، سینیٹ الیکشن میں امیدواران پر شدید تحفظات تھے لیکن پارٹی امیدوار کو ووٹ دیے،میں نے کونسی جگہ پارٹی سے بے وفائی کی ہے؟

چوہدری نثار نے یہ بھی کہا کہ میں نےساری زندگی نواز شریف اور ن لیگ کا سیاسی بوجھ اٹھایا ہے،لیکن میں کسی کی جوتیاں اٹھانے والانہیں ہوں،ہم تو ساتھ کھڑے ہیں کب انہیں چھوڑا ہے،جن پر مشکل وقت ہوتا ہے ان پر بھی ذمہ داری ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ موقف میں اختلاف تو میں نے وزارت چھوڑی تاکہ انہیں پریشانی نہ ہو،جہاں جہاں مدعو کیا گیا میں گیا،یہ میرا مشورہ نہیں چاہتے تھے اختلاف تھا لیکن میں پارٹی کے ساتھ تھا، معیار کیا ہے ؟ پرانے ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا خوشامدیوں کو ،میں پارٹی میں ہوں لیکن اس پارٹی میں نہیں جہاں اختلاف رائے بہت بڑا جرم ہے۔

ان کا کہناتھاکہ ڈان لیکس کے مسئلے میں نے ان کی سب سے زیادہ سپورٹ کی ،جس طرح وہاں سے پیغامات اور کھسر پھسر کے ذریعے مجھ پر حملے ہورہے ہیں انہیں ہضم کرنا مشکل ہے ، میرے خط کا جواب تک نہیں آیا، اب بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہوں،نہ میرا پارٹی چھوڑنے کا ارادہ ہے نہ کوئی عزائم ہیں۔

اگر نوازشریف خوشامدیوں کے جھرمٹ سے نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلہ کريں گے تو پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی،خلائی مخلوق کے بیان پر مجھے افسوس ہوا کہ ہم اس وقت حکومت میں ہیں،دنیا میں جگ ہنسائی ہورہی ہے ،مجھے عمران کے بیان پر بھی افسوس ہوا ،پہلی ذمہ داری حکومت کی پھر سیاستدانوں کی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر نہیں ہوں ، سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے ذریعے میرے خلاف روز ایک نئی کہانی آتی رہی، جب بھی سول ملٹری مسئلہ آیا میں نے نوازشریف کا ساتھ دیا، جنرل آصف نواز سے دو پشتو سے ہمارے ذاتی تعلقات تھے ،جنرل مشرف سے میرااس وقت سے تعلق ہے جب وہ کرنل تھے

 

مریم نواز کے ماتحت کام نہیں کر سکتا.. چوہدری نثار

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ جب میں نے محسوس کیا کہ جنرل پاشا نقصان پہنچارہے ہیں میں نے کہا سپریم کورٹ جائوں گا،میں سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں ،میں اپنے ہر کہے اور کئے کا جواب دہ ہوں،مشکل میں سچ بولنا اور سننا اہم ہوتا ہے۔

جمہوریت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنی وضاحت کا حق ہونا چاہیے ،خلائی مخلوق کی بات سیاسی بیانات نہیں ، یہ تو ڈان لیکس کو دہرایا جارہا ہےملٹری اسٹیبلشمنٹ کا پاکستان کی سیاست میں بلاواسطہ اور بالواسطہ کردار رہا ہے ،اب بھی سمجھتا ہوں کہ شاہد خاقان عباسی نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلائيں اور مسئلہ حل کرائیں ۔

انہوں نے اس موقع پر عمران خان شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ میرے لئے باعث عزت بات ہے کہ ایک بڑی پارٹی کے لیڈر نے مجھے دعوت دی ، اس سے قبل صحافی کےسوال پر ہنستے ہوئے کہا تھاکہ میرا عمران خان سے رابطہ کبوتر کے ذریعے ہوتا ہے ،اس میں میرا کیا قصور نوازشریف اور عمران خان میری فیملی کو اچھی طرح جانتے ہیں۔