شہباز شریف کی سپریم کورٹ میں پیشی

چیف جسٹس ثاقب نثار اور شہباز شریف کے درمیان مکالمہ

صوبےکےعوام کی خدمت کےلئےپوری کوشش کررہاہوں،شہبازشریف

وزیراعلیٰ پنجاب عوامی آدمی ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

لاہور:سپریم کورٹ رجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت

آئی جی کی2ہفتےکی استدعامسترد،ایک ہفتےمیں مقابلوں کی رپورٹ جمع کرائیں،چیف جسٹس

ہم نےآزادعدلیہ کےلئے تحریک چلائی،وزیراعلیٰ شہباشریف

آپ کاصوبہ باقی صوبوں کی نسبت اچھاکام کررہاہے،چیف جسٹس

لاہور:ہمیں پتہ ہے آپ عدالت کی عزت کرتے ہیں،چیف جسٹس

ہم نےکئی منصوبوں پرعوام کےپیسےبچائے،وزیراعلیٰ پنجاب

کیامیں ٹھیک کررہاہوں؟چیف جسٹس کاوزیراعلیٰ پنجاب سےاستفسار

لاہور:جی آپ ٹھیک کررہےہیں،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف

آپ اگلے مورچوں پرلڑنےوالےہیں،چیف جسٹس کاوزیراعلیٰ سےمکالمہ

3ہفتے دیں،ہم پلان کےساتھ آئیں گے،وزیراعلیٰ پنجاب

آپ میری نوکری کے پیچھے کیوں پڑگئے،وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور:میاں صاحب صاف اور شفاف الیکشن کروائیں،چیف جسٹس

لاہور:ہم نےڈرکےنہیں چلنا،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار

دریاؤں میں گنداپانی جارہاہے،حکومت نےٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے،چیف جسٹس

لاہور:تین دفعہ کہہ رہا ہوں کہ صاف اورشفاف الیکشن کروانےہیں،چیف جسٹس

لاہور:میرا خیال ہےاگلےوزیراعظم آپ ہی ہوں گے،چیف جسٹس

تعلیم اور صحت کے مسائل میں سپریم کورٹ آپکی معاونت کرےگی، چیف جسٹس

لاہور:ہم نےدرجنوں ترقیاتی منصوبےسمیت کول پاورپلانٹ لگائے،شہبازشریف

کیاکول پاورپلانٹ کےباعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوگا،جسٹس اعجازالاحسن

ماحولیاتی آلودگی کوروکنےکےلیےخاطرخواہ اقدامات کررہےہیں،شہبازشریف

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے صوبائی دارالحکومت میں اہم مقامات سے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ نے شہر بھر میں سیکیورٹی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز نے عدالت کو بتایا کہ ماڈل ٹاؤن، گورنر ہاؤس اور جاتی امرا سمیت اہم مقامات کو سیکیورٹی کے نام پر بند کیا گیا ہے اور راستوں میں بیریئرز لگائے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو ماڈل ٹاؤن، جاتی امرا سمیت تمام اہم مقامات سے سیکیورٹی کے نام پر لگائی گئی تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار نہیں کیا جاسکتا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اہم شخصیات کو سیکیورٹی مسائل کا سامنا ہے تو انہیں اس مسئلے کو کسی دوسرے طریقے سے حل کیا جائے اور عوام کا پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے۔

چیف جسٹس نے صوبہ پنجاب میں گزشتہ برس ہونے والے تمام پولیس مقابلوں پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان تمام مقابلوں کا ڈیٹا بھی طلب کرلیا۔

آئی جی پنجاب کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں تمام مقابلوں کی رپورٹ جمع کروانے کے لیے 10 روز کا وقت دیا جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تو ان تمام مقابلوں کا علم فنگر ٹپس پر ہونا چاہیے۔

بعدِ ازاں عدالت نے آئی جی پنجاب کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے انہیں 7 روز کے اندر تمام پولیس مقابلوں کی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن (ر) عارف نواز سے شہر میں سیکیورٹی بیریرز کی تفصیلات طلب کیں تھیں جبکہ اس معاملے پر چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی طلب کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کو تنگ نہ کیا جائے اور عدالت کو بتایا جائے کہ لاہور شہر میں کس کس جگہ پر سیکیورٹی کی آڑ میں راستے بلاک کیے گیے ہیں۔