میاں نواز شریف کا انجام کیا ہونے والا ہے اس بارے میں سبھی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں ۔ میاں نواز شریف ، مریم نواز اور میاں نواز شریف کے خاندان کو یہ یقین ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہوں نے دس روپے کی بھی کرپشن نہیں کی ہے ۔ دوسری جانب ایسے تجزیہ کاروں کی بھی کمی نہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ میاں نواز شریف جلد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے ۔ میڈیا ہو یا سوشل میڈیا اس سلسلے میں ایک واضح تفریق نظر آتی ہے ۔ ایک حلقہ میاں صاحب کا حامی ہے تو ایک میاں نواز شریف کا مخالف ۔ صورت حال ویسی ہی ہے جیسی دو ہزار چودہ کے پی ٹی آئی دھرنے کے موقع پر تھی اور پھر ایک عرصے تک برقرار رہی تھی ۔

موجودہ حالات میں تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد یہ مانتی ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کا خاندان جے آئی ٹی اور عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور اپنی بیروں ملک جائیداد اور کاروبار کے جائز ہونے کا جواز اور ثبوت بھی نہیں دے سکا اس لیے سزا یقینی ہے ۔ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ نیب کی جانب سے سب کچھ تقریبا مکمل ہونے کے بعد بھی مزید مہلت کیوں مانگی گئی ۔ اس سوال کے جواب میں جتنے منہ اتنی باتیں مگر سینئر تجزیہ کار انصار عباسی کا ماننا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف سب کچھ مکمل ہونے کے باوجود مہلت مانگنا محض حکمت عملی ہے ۔ اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ جب میاں نواز شریف کو سزا دی جائے تومسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت نہ ہو ۔ روزنامہ جنگ نے انصار عباسی کا تجزیہ چھاپتے ہوئے لکھا ہے کہ نیب حکام کو یقین ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی حکومت کے رہتے سزا دے دی گئی تو ن لیگ کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ایوان صدر میں سمری موو کرتے صدارتی اختیار کے تحت سزا معاف کرالیں گے ۔ انصار عباسی نے اس سلسلے میں ’’صدر بھی اپنا آدمی ہے ‘‘ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔

انصار عباسی لکھتے ہیں کہ صدر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کا استعمال کریں گے اور میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی سزا معاف کردیں گے ۔ انصار عباسی کے مطابق عبوری سیٹ اپ آنے کے بعد ایسا نہیں ہوگا اور نیب حکام یہ چاہیں گے کہ میاں نواز شریف کو سزا عبوری حکومت کے قیام کے بعد سنائی جائے ۔

یاد رہے کہ میاں نواز شریف کی سزا اسی انداز میں پہلے بھی معاف ہوچکی ہے ۔ معاہدہ طے پاجانے کے بعد جنرل مشرف نے اپنے اقتدار میں صدر رفیق تارڑ کو ایڈوائس دی تھی کی میاں نواز شریف کو تیس اکتوبر دوہزار اور بائیس جولائی دو ہزار کو سنائی گئی عمر قید کی سزائیں معاف کردی جائیں ۔