واشنگٹن: پاکستان کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگر امریکا ہماری مکمل امداد منسوخ کردیتا ہے تب بھی پاکستان اپنے سیکیورٹی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انگریزی اخبار دی فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکم جنوری 2018 کو کیے گئے پاکستان مخالف ٹوئٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگ صبح سویرے اٹھتے ہیں اور ٹوئٹ کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا ٹوئٹ کیا تھا‘۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’امریکا نے پاکستان کو 15 سال میں 33 ارب ڈالر سے زائد امداد دے کر بے وقوفی کی، پاکستان نے امداد کے بدلے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا جبکہ وہ ہمارے رہنماؤں کو بیوقوف سمجھتا ہے‘۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے اور افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں معمولی مدد ملتی ہے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔‘

بعد ازاں اس ٹوئٹ کے 3 روز بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کی سیکیورٹی امداد معطل کردی تھی اور کہا تھا کہ اگر پاکستان امداد کی بحالی چاہتا ہے تو دہشتگرد گروپوں کے خلاف اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا۔

تاہم انٹرویو کے دوران مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس طرح کا دباؤ اسلام آباد کو اس کے سیکیورٹی مفادات ترک کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا اور اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ امریکا جان بوجھ کر بھارت کو افغانستان میں ایک بڑا کردار دے رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے کیمپس قائم کرنے کے لیے بھارت نے مدد کی، جو اب پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ ’پاکستان، دنیا میں چھٹی یا ساتویں بڑی ریاست ہے اور ہماری فوج دنیا کی 7 ویں بڑی فوج ہے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ چند ہزار ڈالروں کی خاطر اپنے قومی اور سیکیورٹی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے‘۔

دوران انٹرویو مشیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نئی دہلی کے ساتھ مل کر کام کر رہا اور مجھے لگتا ہے کہ امریکا اور بھارت مل کر پاکستان کو شرمندہ کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

اس کے باوجود امریکا اور پاکستان اب بھی رابطے میں ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی پر مشاورت کے لیے جنوری سے اب تک کئی سینئر امریکی سول اور عسکری حکام اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے بھی واشنگٹن کا دورہ کیا تھا اور امریکی حکام سے اپنے موقف پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی واشنگٹن کی جانب سے ایک اور سفیر ایلس ویلز نے اچانک اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور پاکستانی حکام کو کہا تھا کہ خطے سے دہشت گردوں کے خاتمے کے معاملے پر امریکا پاکستانی حکومت سے تمام طرح سے تعلق رکھنا چاہتا ہے۔

تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے اس دورے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک ان مذاکرات کو مزید مفید بنانے کے لیے ’مشترکہ امور‘ پر غور کر رہے ہیں۔

اس بارے میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے امریکی حمایت یافتہ ریڈیو فری یورپ کو کہا تھا کہ ’ان مذاکرات کا اصل مقصد مشترکہ امور تلاش کرنا تھا‘۔

تاہم واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے ڈان کو بتایا تھا کہ امریکا باہمی تعاون کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ مسلسل مذاکرات جاری رکھے گا اور اس عمل میں تمام سطح کی حکومتوں کو شامل کیا جائے گا۔