ہمارے جسم کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ ہم نہیں جانتے‘ ہم روز 67 مرتبہ موت کے قریب سے گزرتے ہیں۔

’’میں وہ ہوں جس نے لائیو شو میں گلاس مارا تھا‘‘ یہ فقرہ مرحوم نعیم الحق کا میرے ساتھ پہلا مکالمہ تھا‘ یہ عمران خان کے ساتھ ہمارے اسٹوڈیو آئے تھے‘ میں نے سلام کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انھوں نے میرا ہاتھ جھلاتے ہوئے کہا تھا ’’میں نعیم الحق ہوں‘ میں وہ ہوں جس نے لائیو شو میں گلاس مارا تھا‘‘ میں نے قہقہہ لگایا جب کہ عمران خان نے مخصوص شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی گردن دائیں بائیں ہلانی شروع کر دی۔

یہ نعیم الحق سے میری پہلی ملاقات تھی‘ میں اعتراف کرتا ہوں میں پانچ برس کے ریلیشن کے باوجود نعیم الحق کو پوری طرح جان نہیں سکا تاہم میں نے انھیں دیکھ دیکھ کر ان کے بارے میں ایک رائے بنا لی تھی‘ یہ رائے صحیح تھی یا غلط تھی اب اس کا کوئی فائدہ نہیں‘جب وہ شخص ہی نہیں رہا تو پھر اس کے بارے میں رائے کی کیا حیثیت ہے لیکن مجھے ایک واقعہ یاد ہے‘ مرحوم نے ایک دن مجھ سے پوچھا تھا ’’کیا تم لوگ اپنے شوز کے مہمانوں کی گریڈنگ بھی کرتے ہو‘‘ میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیاتھا ’’لائیو سیاسی پروگرام صرف پروگرام نہیں ہیں‘ یہ لوگوں کو جج کرنے کا ایک خوف ناک فارمولا اور ایک خوف ناک اسٹڈی بھی ہیں‘‘ وہ بولے ’’کیسے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’سیاسی پروگراموں کی سات سیڑھیاں ہیں۔

سیاسی پروگراموں کے مہمان شروع میں ہر صورت شوز میں آنا چاہتے ہیں‘ یہ اس کے لیے لابنگ بھی کرتے ہیں‘ پروڈیوسروں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں‘ اینکرز سے ملاقاتیں اور مشورے بھی کرتے ہیں حتیٰ کہ کیمرہ مینوں تک کو فون کرتے ہیں‘ پھول‘ کتابیں‘ پھل اور مٹھائیاں بھیجتے ہیں اور پھر کسی دن کسی پروگرام میں مہمانوں کا بحران پیدا ہو جاتا ہے اور کوئی نہ کوئی پروڈیوسر افراتفری میں بالآخر انھیں بلا لیتا ہے اور یہاں سے پہلا درجہ شروع ہو جاتا ہے‘ مہمان پروگرام سے گھنٹہ پہلے اسٹوڈیو پہنچ جاتا ہے‘ یہ پروڈیوسروں اور ریسرچ ٹیم سے مشورے کرتا ہے اور اس میں اگر دم ہو تو پھر یہ آہستہ آہستہ مختلف شوز میں آتا چلا جاتا ہے۔

دوسرا درجہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ پروگرام سے پہلے موضوع پوچھتا ہے‘ موضوع بتا دیا جاتا ہے‘ تیسرے درجے میں یہ ساتھی مہمانوں کے نام اور پارٹیز پوچھتا ہے‘ اس کے بعد چوتھا درجہ آتا ہے‘اس میں مہمان پروڈیوسروں کو بتاتا ہے میں فلاں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا‘ تم اسے ڈراپ کرو میں پھر آؤں گا یا آؤں گی‘ پانچویں درجے میں اسے چینل اور اینکر دونوں جانب دار لگنے لگتے ہیں‘ یہ کہتا ہے تمہارا اینکر فلاں پارٹی سے ملا ہوا ہے اور پورا چینل ہی ’’اس‘‘ نے خرید لیا ہے وغیرہ وغیرہ‘ چھٹے درجے میں یہ اسٹوڈیو آنا پسند نہیں کرتا۔

یہ گھر میں ڈی ایس این جی مانگتا ہے اور اسٹوڈیو میں بھی اسے اپنی پسند کا مہمان چاہیے ہوتا ہے اور ساتویں اور آخری درجے میں یہ ’’ون آن ون‘‘ انٹرویو کا مطالبہ کرتا ہے اور اس میں بھی اس کی مرضی کے سوال ہونے چاہییں اور اسے جواب کے لیے کم از کم دو گھنٹے دیے جائیں اور اس دوران اگر اینکر نے ’’کراس کوئسچن‘‘ کی گستاخی کر دی تو مہمان ناراض ہو جاتا ہے‘‘ نعیم الحق نے قہقہہ لگایا اور پوچھا ’’پھر تم لوگ کیا کرتے ہو‘‘ میں نے عرض کیا ’’پاکستان کے پرانے سیاسی پروگرام اور پرانے اینکرز اس صورت حال سے اچھی طرح واقف ہیں‘ یہ چار پانچ حکومتیں اور اپوزیشن بھگتا چکے ہیں۔

ہماری ٹیمیں بھی مہمانوں کے مزاج سے واقف ہوتی ہیں لہٰذا یہ تیسرے اور چوتھے درجے تک مہمانوں کو آسانی سے برداشت کر جاتے ہیں لیکن جوں ہی مہمان کہتا ہے ’’یارآپ کا اینکر جانبدار ہے‘‘ تو یہ ہنس کر اس مہمان کو نیگیٹو لسٹ میں ڈال دیتے ہیں اور نئے مہمانوں کو متعارف کرانا شروع کر دیتے ہیں‘‘ نعیم الحق نے پوچھا ’’ہم میڈیا ٹیم بنا رہے ہیں‘ آپ مجھے کیا مشورہ دیں گے‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’آپ اپنے لوگوں کو عاجزی کا درس دیں‘ یہ جس دن میڈیا سے بدتمیزی کریں گے اس دن پارٹی کا زوال شروع ہو جائے گا‘‘۔

نعیم الحق نے گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر ان کے ساتھ میرا چھوٹا سا تعلق بن گیا‘ میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں یہ تعلق خالص پیشہ وارانہ تھا‘ میری ان کے ساتھ تمام ملاقاتیں اسٹوڈیو میں ہوئیں یا پھر بنی گالا میں عمران خان کے انٹرویوز کے دوران‘ میری کمپنی نے ایک بار ’’اینگرو‘‘ کے ساتھ ایک چھوٹا سا پراجیکٹ کیا تھا‘ اس پراجیکٹ کے دوران نعیم الحق کے بیٹے سے بھی ملاقات ہوئی‘ پتہ چلا یہ اینگرو میں کام کرتے ہیں۔

2014کے دھرنوں میں صورت حال بدل گئی‘ صاف نظر آنے لگا عمران خان اگلے وزیراعظم ہوں گے چنانچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف میں نئے پنچھی بھی آتے رہے اور پرانے لوگوں کے دماغ بھی آسمان کو چھوتے چلے گئے‘ ہم نے اس دوران دیکھا ہمارے مہمان پہلے دوسرے درجے سے براہ راست چھٹے اور ساتویں پر پہنچ جاتے تھے‘ یہ سیدھا فرما دیتے تھے ہم ’’ون آن ون‘‘ آئیں گے اور اینکر کو بتا دیں وہ ہمیں درمیان میں نہیں ٹوکے گا‘ یہ وہ جواب تھا جس سے میڈیا انڈسٹری کے بزرگوں کو 2018کے الیکشن سے دو سال پہلے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا انجام نظر آ گیا اور ہمارے سینئرز کہنے لگے ’’ان لوگوں کو ان کا غرور‘ ان کی ایروگینس مار دے گی‘‘ میں بھاری دل سے لکھ رہا ہوں نعیم الحق کے اندر عاجزی بھی تھی اور وہ گفتگو بھی تہذیب کے ساتھ کرتے تھے مگر وہ اپنے ساتھیوں سے مختلف نہیں تھے۔

وہ بڑے بڑے شوز کے اینکرز کو بھی براہ راست کہہ دیتے تھے ’’بس بھائی صاحب آپ مجھے پانچ منٹ کے لیے ٹیلی فون پر لے لیجیے گا‘‘ لہٰذا آپ 2017 سے 2020 ان کے انتقال تک دیکھ لیجیے‘ یہ آپ کو میڈیا پر بہت کم نظر آئیں گے‘ یہ بہرحال ان کا ذاتی فعل تھا‘ میڈیا میں آنا یا نہ آنا ہر انسان کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور کوئی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا تاہم ایک دن انھوں نے مجھ سے پوچھا ’’آپ مجھے کس درجے پر دیکھ رہے ہیں‘‘۔

میں نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ’’آٹھویں درجے پر‘ آپ صدر اور وزیراعظم سے بھی آگے نکل گئے ہیں‘‘ وہ اچھے انسان تھے‘ شاید اسی لیے ان کی بیماری‘ ان کے انتقال اور آخر میں ان کے جنازے نے چند سوال اٹھا دیے‘ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کے بارے میں کیا خوب فرما دیا تھا ’’قسم ہے زمانے کی‘ انسان خسارے میں ہے‘‘ ہم سب بے شک خسارے کے سوداگر ہیں اور آپ نعیم الحق کے خسارے کا اندازہ کیجیے‘ مرحوم نے اپنی پوری زندگی عمران خان کے لیے وقف کر دی‘ یہ بچوں کو چھوڑ کر کراچی سے اسلام آباد شفٹ ہو گئے۔

سارا دن اپنے کپتان کی خدمت کرتے اور رات گئے تھک ہار کر کرائے کے مکان میں جا گرتے‘ یہ عمران خان کے مفت کے سپاہی تھے لیکن آخر میں کیا ہوا؟ وزیراعظم عمران خان اور صدر عارف علوی نعیم الحق کا جنازہ تک پڑھنے کے لیے کراچی نہیں گئے‘ کیا کراچی کسی دوسرے ملک یا کسی دوسرے سیارے میں تھا؟ ایک شخص جس نے آپ کو پوری زندگی دے دی تھی‘ آپ اس کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے‘کیوں؟

کیا دنیا میں نعیم الحق کے جنازے سے بھی کوئی چیز اہم تھی؟ چنانچہ یہ ایک حقیقت ساری حقیقتیں آشکار کرنے کے لیے کافی ہے‘ ہم جن کو پوری زندگی دیتے ہیں ضروری نہیں وہ ہمارے جنازے کو پانچ منٹ بھی دیں لہٰذا میری درخواست ہے آپ روز سونے سے پہلے اور جاگنے کے فوراً بعدیہ حقیقت ضرور یاد کر لیں‘ دوسرا نعیم الحق نے جس عہدے‘ جس منزل کے لیے پوری زندگی صرف کر دی وہ جب ملی تو وہ اسے انجوائے نہیں کر سکے۔

وہ وزیراعظم آفس سے سیدھے اسپتال گئے اور پھر وہاں سے سیدھا وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا‘آپ صبح اور شام خود کو یہ بھی یاد کرائیں ہو سکتا ہے ہمیں منزل کی خوشیاں دیکھنا نصیب نہ ہوں‘ تیسری بات ہم زندگی میں جس رتبے‘ جس مقام کی وجہ سے انسانوں کو انسان نہیں سمجھتے وہ رتبہ‘ وہ مقام جاتے دیر نہیں لگتی‘کل کی بات ہے جنرل پرویز مشرف کا غرور آسمان کو چھو رہا تھا پھر ہم جس طرف دیکھتے تھے صرف شریف ہی شریف تھے لیکن یہ لوگ آج کہاں ہیں؟ ہم پانی کا بلبلہ ہیں‘ یہ بلبلہ کس وقت پھٹ جائے ہم نہیں جانتے اور آخری بات ہم پوری دنیا کو ہرا سکتے ہیں۔

ہم دنیا کی بلند ترین چوٹی پر پرچم بھی لہرا سکتے ہیں اور ہم زمین کے دائرے سے نکل کر کائنات کے آخری سرے تک بھی پہنچ سکتے ہیں لیکن ہمارے جسم کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ ہم نہیں جانتے‘ ہم روز 67 مرتبہ موت کے قریب سے گزرتے ہیں‘ ہم ساڑھے چار ہزار بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں‘ ان میں سے کون سی بیماری کس وقت ایکٹو ہو جائے یا پھر موت کے 67 بہانوں میں سے کون سا بہانہ کس وقت کارگر ہو جائے ہم نہیں جانتے‘ نعیم الحق اس حقیقت کی تازہ ترین مثال ہیں‘ یہ چلے گئے لیکن یہ جاتے جاتے اپنے ساتھیوں کو بتا گئے عہدوں اور کامیابیوں پر تکبر نہ کرو‘ دنیا کو مستقل نہ سمجھو‘ خود کو طاقتور اور ناگزیر خیال نہ کرو اور اپنے دوستوں کو آخری کندھا ضرور دو‘ یہ عادت تمہارے اعتبار میں بھی اضافہ کرے گی اور تمہیں اس دنیا کی اصل حقیقت بھی یاد دلائے گی۔

ایکسپریس نیوز