وزیراعظم عمران خان سندھ کی صوبائی حکومت سے ناراض ہیں اور سندھ کے صوبائی وزراء وزیراعظم کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں۔ وفاقی حکومت کی شکایت ہے کہ سندھ نے بغیر سوچے سمجھے لاک ڈائون کا اعلان کردیا اور سندھ کو شکایت ہے کہ کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے وفاق نے سندھ کی مناسب مدد نہیں کی۔

ایسا لگتا ہے کہ ہمیں ایک خطرناک وبا کا سامنا نہیں ہے بلکہ بہت جلد عام انتخابات ہونے والے ہیں اور ان انتخابات میں ووٹ اس بنیاد پر دیے جائیں گے کہ سندھ میں لاک ڈائون کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط؟ سندھ حکومت پر ’’تنقید‘‘ کرنے والے وفاقی وزراء کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے کس سے پوچھ کر لاک ڈائون کیا؟ پی آئی اے نے اپنی پروازیں کیوں معطل کیں؟

ریلوے نے اپنی گاڑیاں کیوں بند کیں؟ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی لڑائی کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کو حالات کی نزاکت کا احساس نہیں۔ ایک طرف وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ عوام کو خبردار کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اموات بڑھ سکتی ہیں دوسری طرف آپس میں لڑائی بھی کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے پٹرول سستا کردیا ہے لیکن مہنگائی کم نہیں ہو رہی۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ناجائز منافع خوری اپنی انتہا پر ہے۔ اچھے لوگ اچھے کام کر رہے ہیں، برے لوگ برے کام کر رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کے قریبی عزیز عارف وزیر ایک قاتلانہ حملے میں زندگی کی بازی ہار گئے۔ عارف وزیر کا تعلق پشتون تحفظ موومنٹ سے تھا۔

وہ کچھ عرصہ پہلے جیل سے رہا ہوئے تھے۔ ان پر حملے کے بعد ان کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت تھی لیکن حکومت کے حامیوں نے انہیں ملک دشمن قرار دینا شروع کردیا۔ حملے کے بعد عارف وزیر کو پہلے ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر اسلام آباد لایا گیا۔ ان کی جان بچانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

جب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے تو سوشل میڈیا پر تحریک انصاف اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔ مجھے جولائی 2018کا وہ دن یاد آیا جب عمران خان نے بنی گالہ میں مجھے الیکشن سے قبل آخری انٹرویو دیا۔

اس انٹرویو میں انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کی اور جنوبی وزیرستان میں علی وزیر کے مقابلے پر تحریک انصاف کے امیدوار کو دستبردار کرنے کا اعلان کردیا۔

2018ءکے الیکشن میں علی وزیر جنوبی وزیرستان سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو گئے اور کچھ عرصے کے بعد ہمیں بتایا جانے لگا کہ وہ تو غدار ہیں اور ان کا افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بہت گہرا تعلق ہے۔

اشرف غنی کے متعلق میرا موقف کوئی ڈھکا چھپا نہیں لیکن ہماری حکومت نے اشرف غنی کو افغان طالبان کیساتھ مذاکرات پر تو مجبور کیا لیکن اشرف غنی اور علی وزیر کے تعلقات ہمیں اچھے نہیں لگتے۔

مجھے عارف وزیر کے متعلق زیادہ معلوم نہیں لیکن یہ جانتا ہوں کہ جب جنوبی وزیرستان پر عسکریت پسندوں کا کنٹرول تھا تو عارف وزیر کے والد اور کئی قریبی رشتہ دار عسکریت پسندوں کے حملوں میں مارے گئے تھے، اسی لئے ان پر حالیہ حملہ بھی پرانی دشمنی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے لیکن ہمارے پنجاب کے گورنر محمد سرور کی ٹیم نے ایک ایسی ٹویٹ کی جس سے مزید نفرت پھیلی، اس ٹویٹ میں عارف وزیر کے قتل کا الزام علی وزیر اور محسن داوڑ پر لگا دیا گیا۔

گورنر پنجاب کے نام سے زیر استعمال ٹوئٹر اکائونٹ کو انتہائی غیر ذمہ داری سے استعمال کیا گیا۔ اس قسم کی غیر ذمہ داری سے پی ٹی ایم کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا۔

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ایک مسلمان پر قاتلانہ حملہ ہوتا ہے تو دوسرے مسلمانوں کو اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر اس کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ عارف وزیر کی موت کے بعد گورنر پنجاب کے ٹوئٹر اکائونٹ سے کہا گیا کہ افغان انٹیلی جنس منظور پشتین کو مارنا چاہتی تھی لیکن اب عارف وزیر کو قتل کرکے پی ٹی ایم کو ایک لاش فراہم کردی گئی۔

اگر این ڈی ایس اور افغان حکومت اتنی ہی بری ہے تو پھر حکومتِ پاکستان کو اس معاملے پر ایک دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے اور یہ موقف گورنر پنجاب کے بجائے گورنر خیبر پختونخوا اور وزیر خارجہ کی طرف سے سامنے آنا چاہیے۔ گورنر پنجاب نے قومی اسمبلی کے دو ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ پر جو الزام لگایا ہے، اسے واپس لیا جائے اور اگر واپس نہیں لینا تو پھر اس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔

اس معاملے میں ہمارے علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بلاخوف و خطر جھوٹ بولنے اور بےبنیاد الزامات لگانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جب بڑے بڑے لیڈر ایک دوسرے پر بےبنیاد الزامات لگاتے ہیں تو پھر ان کے پیروکار ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے محترم مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی ایک ٹیلی تھون کے دوران معاشرے میں جھوٹ کا ذکر کیا تھا اور سارے میڈیا کو جھوٹا قرار دے دیا۔ ہماری گزارش صرف اتنی تھی کہ سارا میڈیا جھوٹا نہیں کچھ لوگ سچ بھی بولتے ہیں لہٰذا بہتر ہوگا مولانا صاحب ان لوگوں کے نام بتائیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔

اس گزارش کی وجہ یہ تھی کہ جس میڈیا کو انہوں نے جھوٹا قرار دیا اس میڈیا کو وزیراعظم نے اپنے اردگرد بٹھا کر تین گھنٹے کی ٹیلی تھون کی اور پھر وہی میڈیا جھوٹا قرار پایا۔

اگلے دن ایک ٹی وی پروگرام میں مولانا طارق جمیل نے اپنے الفاظ پر معذرت کر لی۔ اس پروگرام میں نہ میزبان محمد مالک اور نہ میں نے معذرت یا معافی کا مطالبہ کیا لیکن مولانا صاحب نے خود ہی معافی مانگ لی اور بات ختم ہو گئی لیکن کچھ لوگوں نے مولانا صاحب کے نام پر سوشل میڈیا میں گالم گلوچ کا طوفان کھڑا کردیا۔

رمضان المبارک میں گالم گلوچ اور لعن طعن کرنے والے دراصل اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں شاید اس لئے کہ اکثر کو پتا ہی نہیں کہ بغیر ثبوت کسی کے ایمان اور حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا کیا گناہ ہے۔ بھلا ہو مولانا طارق جمیل کا انہوں نے کل شام مجھے فون کیا اور کہا کہ یہ جو طوفانِ بدتمیزی ہے اس پر مجھے افسوس ہے، میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔

یہ میری ان سے پہلی دفعہ براہِ راست گفتگو تھی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میرے والد مرحوم پروفیسر وارث میر کے فین ہیں اور انہوں نے مجھے والد مرحوم کے آخری الفاظ بھی سنائے۔ میں نے عرض کیا کہ پہلے بھی آپ نے ہمارے اصرار یا مطالبے کے بغیر معافی مانگی، اب بھی آپ اپنے طور پر معافی مانگ رہے ہیں، یہ آپ کی بڑائی ہے۔

اگر میری کسی بات سے آپ کا دل دکھا ہو تو میں بھی معافی چاہتا ہوں۔ مولانا صاحب سے گزارش ہے کہ وہ آئندہ کسی تقریر یا پروگرام میں بہتان تراشی پر بھی بات کریں اور اس کے لئے کیپٹل ٹاک بھی حاضر ہے۔

انہوں نے میرے والد مرحوم کے لئے جو کلمات اور محبت کا اظہار کیا اس پر میں نے ان کا شکر گزار ہوں۔