منکر حدیث کس کو کہا جاتا ہے ؟
اس سے بڑھا ہوا ظلم کوئی ہے ہی نہیں کہ کسی کو ناحق ، حق کے دائرے سے نکال باہر کیا جائے –
ایسے ہی اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ ایک صاحب حدیث کو مانتے ہیں لیکن ان کو منکر حدیث بنا دیا جائے –
لیکن اس کے بالمقابل یہ بھی کوئی کم ظلم نہیں کہ ایک صاحب “مرضی کی حدیث ” کو مانتے ہیں اور ان کو حدیث کا ماننے والا کہا جائے –
ابھی ایک دوست نے ایک مختصر کلپ غامدی صاحب کا بھجوایا جس میں محترم نے خود پر لگنے والے اس الزام پر بات کی اور ایسا کرنے والوں کو دعا دی … گو ہم نے کبھی براہ راست غامدی صاحب کو منکر حدیث نہیں کہا لیکن ان کے نظریات ان کی باتوں سے واضح ہیں ..اور اپنی بات کی تعبیر اور تشریح کا حق گو صاحب کلام کو ہی ہوتا ہے لیکن یہ حق ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ نگری میں اندھیر ہی مچ جائے اور راج چوپٹ ہو کے رہ جائے ، اور کوئی بھی کسی امر ثابتہ کا انکار کر کے بھی دستار فضلیت کا حق دار رہے –
جہاں تک دعا کا تعلق ہے تو ہم بھی بصمیم قلب دعا کرتے ہیں کہ اللہ غامدی صاحب کو راہ ہدایت پر گامزن کرے – ہمیں تو ویسے بھی کسی کو منکر حدیث کہنے کا شوق نہیں نہ یہ فتوے دینا کوئی مستحسن امر ہے – لیکن حق بیان نہ کرنا بھی کوئی ایسا اچھا عمل نہیں –
سوال ہے کہ منکر حدیث کس کو کہتے ہیں ؟
اس کا آسان اور چند حرفی جواب تو یہ ہے کہ جس طرح قران کی چھے ہزار سے زاید آیات کو اگر کوئی مان لے لیکن سب سے چھوٹی سورت کا انکار کر دے تو اسے جو آپ کہیں گے بس وہی “مرضی کی احادیث” کے منکر کو کہہ لیجئے – اور چھوٹی سی سورت ہی کیا صرف ایک لفظ کا انکار کر دے باقی تماما قران کو سینے سے لگائے تو آپ کیا کہیں گے ؟؟
دیکھیے دوست ! ہم نہیں کہتے ، کہنا آپ نے ہے ، جو جی چاہے کہہ لیجئے –
بس اب ذرا تفصیل سے سمجھ لیجیے –
ہمارے بزرگ جناب غامدی صاحب محدثین کے اصولوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :
“بہت پرفیکٹ اصول ہیں “
اور آپ جانتے ہیں کہ پرفیکٹ کا کیا مطلب ہے ؟
اہل زبان نے اس کا اردو معانی یہ سمجھا ہے کہ ایسی شے یا معاملہ کہ جس میں اب مزید بہتری کی گنجائش نہ ہو – اس طرح غامدی صاحب نے بھی محدثین کے اصولوں کو اس حد تک مستحکم اور مکمل مان لیا ہے اور ان میں مزید کمی بیشی یا بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے –
سو جب ان اصولوں کی روشنی میں کسی بھی حدیث کو پرکھا جائے گا تو کم از کم اس حدیث کی حد تک یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ وہ قول رسول ہے – ایسی حدیث کہ جس کی سند اور متن میں کوئی نقطۂ اختلاف نہیں وہ قول رسول کہا جائے گا اور شریعت کا ماخذ سمجھا جائے گا –
آسان الفاظ میں کہ جس حدیث کی سند جید ہے ، کوئی انقطاع نہیں ، اس پر کوئی جرح نہیں ، اس کے متن میں کوئی کلام نہیں ، کوئی اضطرار نہیں غرض ہر ہر لحاظ سے وہ حدیث کمال ترین درجے کی ہے ، وہ قول رسول ہے –
لیجئے مزید سہولت دیتے ہوے ہم کہتے ہیں کہ جن ستر ہزار احادیث پر المورد کے حدیث پراجیکٹ میں کام ہو رہا ہے ، ان میں میں صرف ایک حدیث ، جی ہاں صرف ایک حدیث کو اس معیار پر درست جان لیجئے اور باقی انسٹھ ہزار نو سو ننانوے احادیث کو اگر ہمارے جدید محققین رد کر دیجئے ….اس “آپریشن کلین اپ ” کے بعد بھی بھی اس بچ جانے والی واحد حدیث کے بارے میں ہمارے یہ دوست یہی موقف رکھتے ہیں کہ جناب ضروری نہیں کہ یہ الفاظ رسول ہوں ..کیونکہ حدیث محض ظنی ہے – یعنی گمان کیا جا سکتا ہے کہ یہ الفاظ نبی کریم کے ہوں ..اور ممکن ہے کہ نہ ہوں –
سو جب یہ احباب حدیث کو محض ظن قرار دیتے ہیں تو یہی اصل میں پہلا چور دروازہ ہوتا ہے جو اقرار کی دنیا سے انکار کی وادی میں نکلتا ہے –
صحیح ترین حدیث کو بھی جب شک کے پلڑے میں ڈال دیا جاتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ جناب محدثین کے اصول پرفیکٹ ہیں – تو کہاں کے پرفیکٹ بھائی کہ جن کی روشنی میں طے کیے گئے نتائج کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا –
انکار ‘ہمیشہ میں نہیں مانتا ” کہہ کے ہی نہیں ہوتا ، بسا اوقات انکار اقرار کے ہزار ہزار پردوں میں بھی چھپا ہوتا ہے –
یہ جو اقرار کے پردے میں چھپا انکار ہی س کو بھی سمجھ لیجیے – ہوتا یوں کہ فرمان بردار اولاد والد کے سرہانے ہمہ تن گوش .لیکن جب والد محض پانی ہی مانگ اٹھتا ہے تو بیٹا گم سم حرکت سے معذور ..یہ کہاں کی فرمان برداری ہے بھائی –
یہ مثال ہے کہ جناب حدیث کو مانتے ہیں …لیکن کیا مانتے ہیں ؟
اسلام تو صرف دو چیزوں میں مکمل ہے ان کے بقول ..اور وہ ہیں قران و سنت … قران پر تو ہو گیا اتفاق ..رہ گئی سنت ..تو وہ کیا ہے ؟
غامدی صاحب کے نزدیک سنت حدیث سے الگ ہے – چلیے مان لیا کچھ دیر کو ..پھر حدیث کیا ہوئی ؟
“حدیث ایک تاریخی ریکارڈ ہے ” لیں منوا لیجئے حدیث کو .. بھائی حدیث کو ماننا یہ ہے کہ بندہ حدیث کو شریعت کا ماخذ مانے نہ کہ محض تاریخی رکارڈ – گو یہاں پر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ جب المورد والے نہایت ” محنت ” سے محدثین کے اصولوں کے مطابق ان ستر ہزار حدیثوں پر تحقیق مکمل کر لیں گے اور صحیح ترین پر پہنچ جائیں گے ، کیا تب بھی یہ شریعت کا ماخذ بن سکیں گی یا محض تاریخی ریکارڈ ہی رہیں گی ؟……..ابوبکر قدوسی کے قلم سے