وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت کی جانب سے دیا گیا بجٹ جعلی تھا اب اصلی بجٹ آرہا ہے۔

میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم کی نظریں وزیرِ اعظم عمران خان پر جمی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت راوں ماہ 23 جنوری کو بجٹ پیش کرے گی جس میں روشن اور مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے ٹرائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جیلوں کے اندر ٹرائل ہوتے رہے، لیکن اب ٹرائل ملزمان کی مرضی سے ہورہے ہیں۔

 

فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کو ٹرائل کے دوران لندن جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی، جبکہ شہباز شریف ٹرائل کے دوران اپنے گھر میں ہی قید ہیں اور جب ان سے نیب کو پوچھ گچھ کرنی ہوتی ہے تو شہباز شریف انہیں اپنے گھر ہی بلا لیتے ہیں۔

سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سابق سفیر کو پتہ نہیں کہ پاک امریکا تعلقات میں بہتری آرہی ہے۔

دورہ سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میں مجھے کراچی جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، میں سندھ کا دورہ ضرور کروں گا۔

صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے بارے میں جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ صحافی برادری فیاض چوہان سے صلح کرلے۔

 

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو ملک میں کوئی سیاسی چیلنج درپیش نہیں ہے، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے خود اپنی قبریں کھودیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر برداشت اور انصاف ہونا چاہیے، حکومت عوام کی امیدوں پر پوا اترے گی۔

ملک میں ثقافتی میلوں کے کم ہونے یا ختم ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں ثقافتی میلوں کی روایت کو دوبارہ بحال کرے گی۔

فواد چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ 66 ممالک کے ساتھ ویزا پالیسی میں نرمی کا معاہدہ کیا جارہا ہے۔

 

قبل ازیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے شعبے میں روز بروز نئی ٹیکنالوجی متعارف ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے نجی ٹی وی چینل اپنا ریونیو ماڈل حکومت پر انحصار کرکے نہیں بناتے، کیونکہ اگر حکومت میڈیا کو پیسے دے گی تو میڈیا آزاد کیسے ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بہت بڑا چنک انٹرٹینمنٹ میں چلا گیا، نیوز میڈیا نیچے کی جانب جارہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ حکومت ہمیں اسپانسر کرے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے ملکی میڈیا ہاؤسز کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔