Welcome

لاہور: ملی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ان کی سیاسی جماعت کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔

ترجمان ملی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق سیاسی سرگرمیاں سرانجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خلاف پورے ملک میں کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ملی مسلم لیگ سے نہیں، نظریہ پاکستان، سی پیک اور ایمٹی قوت سے پریشانی ہے۔

 

ترجمان ملی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ ان پر نئے نام سے کام کرنے کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

تابش قیوم کا کہنا تھا کہ وزرات داخلہ کے ذریعے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن روک کر دنیا کے سامنے اس کی غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ انتخابات میں حصہ لینے پر لگائی گئی پابندی کو چیلنج کرے گی اور ان کی سیاسی جماعت 2018 کے عام انتخابات میں بھر پور انداز میں حصہ لے گی۔

ترجمان ملی مسلم لیگ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے بھر پور قانونی جنگ لڑی جائے گی، ’ہم اپنا مقدمہ ملکی و بین الاقومی سطح پر لڑنے کے لیے تیار ہیں‘۔

 

انہوں نے امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کے پاس ملی مسلم لیگ کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالتوں پیش کریں۔

خیال رہے کہ اپریل 2018 کے آغاز میں امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادیِ کشمیر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ مذکورہ تنظیمیں کالعدم لشکرِطیبہ کے ہی مختلف نام ہیں جنہیں سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر نہیں کرایا جا سکتا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنی ویب سائٹ پر دہشت گردوں پر مشتمل فہرست میں 7 نئے نام بھی شامل کیے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملی مسلم لیگ کی قیادت کا حصہ ہیں اور لشکرِطیبہ کے متحرک کارکن ہیں۔

امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے والوں میں ملی مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کو شامل کیا گیا، جن میں سیف اللہ خالد، مزمل اقبال ہاشمی، محمد حارث ڈار، تابش قیوم، فیاض احمد ، فیصل ندیم اور محمد احسان شامل ہیں۔

 

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادیِ کشمیر کو لشکرِ طیبہ کے ‘متفرق’ نام قرار دے کر انہیں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) اور عالمی دہشت گرد (جی ٹی) کی فہرست میں شامل کردیا۔

یاد رہے کہ 8 اگست 2017 کو کالعدم جماعت الدعوۃ نے نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی میدان میں داخل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ سے منسلک رہنے والے سیف اللہ خالد کو اس پارٹی کا پہلا صدر منتخب کیا تھا۔

ملی مسلم لیگ پر کالعدم جماعت الدعوۃ سے منسلک ہونے کا الزام ہے جس پر الیکشن کمیشن نے ان کی سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹریشن کی درخواست کو منسوخ کردیا تھا بعد ازاں ایم ایم ایل نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

11 اکتوبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کردی تھی، یہ فیصلہ اس سے قبل وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن میں جمع کرائے گئے جواب کے بعد کیا گیا تھا جس میں انہوں نے ملی مسلم لیگ پر پابندی لگانے کی تجویز دی تھی۔

 

 

واضح رہے کہ ملی مسلم لیگ پر الزام ہے کہ اسے کالعدم جماعت الدعوۃ کے نظر بند امیر حافظ سعید کی پشت پناہی حاصل ہے جن پر 2008 کے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام لگایا جاتا ہے اور ان کے سر کی قمیت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

ملی مسلم لیگ پر پابندی لگانے کے اقدام کا مقصد بظاہر شدت پسندوں کو آئندہ سال ہونے والے الیکشن کے دوران ملک کی مرکزی سیاست سے دور رکھنا تھا۔