اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں اب بھی مہنگائی 2008 اور 2013 سے کم ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے مہنگائی کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی ہے لیکن مہنگائی 2008 اور 2013 سے کم ہے، موجودہ بیرونی ادائیگیوں کا بحران ماضی سےکہیں زیادہ تھا، معاشی بحران سے نکلنے کے لیے جو اقدامات کیے اس سےمہنگائی بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے اضافے کی سمری دی تھی، حکومت نے اپنے ٹیکس کم کرکے پیٹرول کی قیمت کم کی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جب ڈالر 105 سے 145 روپے کا ہوگا تو اس کا فرق پڑے گا، جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 32 ڈالر سے 68 ڈالر ہوگی تو اس کا بھی فرق پڑے گا۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے سارے سوالوں کا جواب دوں گا، ایاز صادق سمیت پوری اپوزیشن کو چیلنج کرتا ہوں کہ میرے ساتھ کھڑی ہو۔