چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ملک ریاض سے کہا تھا کہ صدقہ دے کر جان چھڑاؤ، جو آدمی دولت مند ہو اور دولت سے آسانیاں نہ خرید سکے اس سے بڑا بد نصیب نہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاؤن اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے پلاٹوں کی ٹرانسفر فیس اور رجسٹریشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پلاٹ کی فروخت صرف رجسٹرڈ دستاویز کے ذریعے ہوسکتی ہے، یہ ہاؤسنگ سوسائٹیز اسٹیمپ ڈیوٹی اور سی وی ٹی ٹیکس نہیں دے رہیں۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک ریاض سے کہا تھا، صدقہ دے کر جان چھڑاؤ، جو شخص دولت مند ہو اور دولت سے آسانیاں نہ خرید سکے اس سے بڑا بدنصیب نہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ میں نے کہا تھا کہ ایک ہزار ارب دے دیں، وہ شخص قوم کا قرض اتار سکتا ہے، میں نے اس شخص کو 84 ماڈل کی کار میں دیکھا تھا۔

اس موقع پر بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے نے عدالت میں جواب جمع کروانے کے لیے وقت مانگا، جس کے بعد کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے پلاٹوں کی ٹرانسفر فیس اور ٹیکس نہ دینے پر لیے گئے ازخود نوٹس میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کو بھی نوٹس جاری کیا تھا۔

 

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اربوں روپے ٹرانسفر کی مد میں حکومت کو واجب الادا ہیں، آپ لوگ سیل ڈیڈ کے بجائے ایک الاٹمنٹ لیٹر دیتے ہیں، ٹرانسفر فیس اور سی وی ٹی ادا نہیں کرتے۔

واضح رہے کہ سیل ڈیڈ کے ذریعے رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوتی ہے لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیز اسے جمع نہیں کراتیں۔

دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا تھا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں بھی ایسا ہوتا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ جو سلوک آپ کے ساتھ ہوگا وہی ڈی ایچ اے کے ساتھ ہوگا۔