سندھ کے شہر سیہون میں مبینہ جنسی زیادتی کے کیس میں 10 دن گزر جانے کے بعد بھی ملزم کا ڈی این اے نمونہ نہیں لیا جا سکا جس کی وجہ سے تحقیقات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے کئی نوٹسز اور سترہ روز گزر جانے کے باوجود خاتون سے زیادتی کا ملزم جج امتیاز بھٹو نہ تو تحقیقات میں شامل ہوا اور نہ ہی ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری میں پیش ہوا۔

جے آئی ٹی سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر 26 جنوری کو تشکیل دی گئی تھی جس کے سبراہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ علی شیر خاصخیلی ہیں۔

عبداللہ شاہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ سیہون کے ایم ایس ڈاکٹر معین الدین صدیقی کے مطابق مدعی خاتون اور ان کے لباس سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، تاہم جب تک پولیس ملزم امتیاز بھٹو کو لے کر نہیں آتی وہ اس کے ڈی این اے نمونے نہیں لے سکتے اور تب تک معاملے کی تحقیقات میں پیش رفت نہیں ہو سکے گی۔

بدھ کو ملزم امتیاز حسین بھٹو نے جے آئی ٹی جامشورو پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ڈی آئی جی حیدرآباد تک رسائی حاصل کرکے زیادتی کیس کی تحقیقات جامشورو سے دوسرے ضلع میں منتقل کرنے کی درخواست کی۔

ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ نے تصدیق کی کہ انہیں درخواست موصول ہوئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے طور پر اس کیس کو ٹرانسفر نہیں کرسکتے تاہم انہوں قواعدوضوابط کے مطابق پولیس افسران پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ایس ایس پی جامشورو امجد شیخ، ایس ایس پی حیدرآباد عدیل چانڈیو اور ایس پی شکایت سیل حیدرآباد پر مشتمل ہے۔

یادرہے کہ سول جج امتیاز حسین بھٹو نے سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دے رکھی تھی جو منطور کرلی گئی۔

واضح رہے کہ مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو پر ایک 18 سالہ لڑکی سے اپنے چیمبر میں زیادتی کا الزام ہے جو بیان حلفی قلمبند کرانے کیلئے آئی تھی اور جج نے سب کو چیمبر سے نکال کر اسے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔