ہالینڈ کی صحافی بیٹی ڈیم (DamBette ) کی کتاب ’’ OP ZOEK NAAR DE VIGAND‘‘ جو ولندیزی زبان میں ہے، جس کا انگریزی میں ترجمہ Looking for the enemyیعنی “دشمن کی تلاش” ہے، آج کل دنیا بھر میں ملا محمد عمر کی بارہ سالہ خفیہ زندگی کے بارے میں کیے گئے انکشافات کے حوالے سے ہر جگہ زیر بحث ہے۔ چونکہ یہ کتاب ایک مغربی صحافی نے تحریر کی ہے اس لیے پاکستان کا مغرب زدہ، سیکولر لبرل صحافی اور تجزیہ نگار بھی اس پر ایمان لا کر چپ سادھے ہوئے ہے۔ حالانکہ وہ دانشور جوشروع دن سے افغانستان میں آنے والے انقلابات اور طالبان کی حکومت کا تعصب کی عینک اتار کر مطالعہ کرتے رہے ہیں، ان کے نزدیک اس کتاب میں کوئی ایک بھی نئی بات تحریر نہیں کی گئی۔ سترہ سال تک امریکہ، بھارت اور افغان کٹھ پتلی حکومت کی بولی بولنے والے اور صرف پاکستان کی بدنامی کی خواہش دل میں پالنے والے دانشور کس قدر ڈھٹائی سے اپنی تحریروں اور گفتگو میں ملا محمد عمر کے پاکستان میں چھپے ہونے کی کہانیاں تراشتے اور کس قدر یقین سے بتایا کرتے تھے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے اوراسے کس نے پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن جس طرح طالبان کی عالمی طاقتوں کو شکست کے واقعے نے ان کے رنگ فق کر دیے ہیں ویسے ہی اس کتاب نے ان کی سازشی تھیوریوں کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ہے۔ افغانستان میں ہی رہنا، وہیں پر اپنی اسلامی تحریک کی منصوبہ بندی کرنا، اپنے وسائل کو استعمال میں لانا اور خالصتاً اللہ پر توکل کرتے ہوئے جہاد کرنا، یہ طالبان کی اس اسلامی تحریک کے بنیادی تصورات تھے جنہوں نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ملا محمد عمر کی یہ اسلامی تحریک اپنے وجود میں خالص اور اپنی بود و باش میں جدید دنیا سے مختلف نظر آتی تھی۔ اس اسلامی تحریک کی اصل خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف بود و باش میں ہی نہیں بلکہ اپنی تمام تر اصطلاحات میں بھی اسلامی تھی۔ ان کے ہاں صدر، وزیر اعظم، وزیر اعلی، پارلیمنٹ، جمہوریت، انقلاب جیسی اصطلاحیں کبھی استعمال نہیں ہوئیں۔ شروع دن سے انکا مقصد اس ماحول اور معاشرے کا قیام تھا جو اسلام کی ابتدائی زندگی یعنی ریاست مدینہ میں قائم کیا گیاتھا۔ اس کیلئے وہ کسی تدریج یعنی منزل بہ منزل اور آہستہ آہستہ جانے کے قائل نہیں تھے، اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے فوری طور پر اسے نافذ کر کے دکھا دیا۔ اس فوری نفاذ کے عوامی سطح پر فیوض و برکات اسقدر تھے کہ سوائے شمالی اتحاد کے وہ علاقے جہاں ایران اور بھارت کی پشت پناہی سے ان کے خلاف ایک منظم جنگ مسلط کی گئی تھی، پورے افغانستان میں کسی ایک جگہ بھی انہیں مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ بیٹی ڈیم نے اپنی کتاب میں ملا محمد عمر کو اپنی کرامات کی وجہ سے ایک ولی اللہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ بتاتی ہے کہ کیسے وہ امریکی اڈے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر قیام پذیر رہا، اس کے گھر پر چھاپا پڑا لیکن امریکی اسے پکڑ نہ سکے۔ 23 اپریل 2013ء کو جس دن اس کا انتقال ہوا تو سخت گرم موسم کے باوجود ،قندھار کے ایئربیس پر اس قدر شدید ژالہ باری ہوئی کہ 80 کے قریب ہیلی کاپٹر تباہ ہوگئے۔ایسے واقعات ان لوگوں کے لئے بالکل حیران کن نہیں جو ملا محمد عمر اور تحریک طالبان کو شروع دن سے جانتے ہیں۔ 1994ء کے ستمبر کے مہینے میں جن پچاس کے قریب مردانِ خدا نے افغانستان میں امن کے قیام اور نظام اسلامی کے نفاذ کیلئے سید الانبیا ء ﷺکے جبہ مبارک پر ہاتھ رکھ کر ملا عمر کی بیعت کی تھی ان کے بارے میں میرے جیسے لاتعداد افراد کوکامل یقین تھا کہ ایسے مردان خداکی نصرت کے لئے اللہ اپنے فرشتے ضرور نازل کیا کرتا ہے۔ ملا محمد عمرکی شخصیت رسول اکرم ﷺ کی اس حدیث کے مصداق تھی “تم مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے” (ترمذی، الجامع، ابواب تفصیر )۔ غور کیجئے ، بظاہر بے سروسامانی اور جدید ٹیکنالوجی سے محرومی کے باوجود اللہ نے انکی ایک ایسی حکمت عملی کی طرف رہنمائی فرمائی کہ طالبان آج کامیاب ہیں جبکہ ان سے پہلے اور بعد میں اٹھنے والی تمام تحاریکِ اسلامی یا تو ناکام ہو گئیں یا پھر متنازعہ بن چکی ہیں۔ عالمی نو آبادیاتی طاقتوں سے آزادی کی جدوجہد اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے دوران اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ 1883ء میں مہدی سوڈانی تحریک نے انگریزوں کو شکست دی، لیکن محمد احمد جو اس تحریک کے روح رواں تھے، ان کے مہدی ہونے کے دعوؤں اور کرشماتی و کراماتی کہانیوں نے تحریک کو اصل مقصد سے ہٹا کر اسے درویشوں کی تحریک بنا دیا۔ مصر کی اخوان المسلمون اور برصغیر کی جماعت اسلامی جدید دور میں ،دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کیلئے نشان راہ سمجھی جاتی ہیں۔ مولانا مودودی کے انقلابی خیالات اور ان پر سید قطب شہید کی مہر تصدیق نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو نشاۃ ثانیہ اور انقلاب کے لئے علمی مواد مہیا کیا اور اس مقصدکے لیے افراد کو بھی منظم کیا۔ لیکن ان دونوں تحاریک کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ دونوں مغرب کے عطا کردہ جمہوری ڈھانچے کی غلام ہو کر رہ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مصر میں مرسی کو اکثریت کے ساتھ حکومت ملی بھی تو اسے طاقت سے اتار پھینکا گیا۔ پاکستان میں جماعت اسلامی کیلئے تو اب جمہوری راستے سے برسر اقتدار آنا صرف خواب ہی رہ چکا ہے۔ تقی الدین نبھانی کی حزب التحریرکے علمی کام نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا لیکن وہ غلبے کیلئے جن اہلِ نصرہ کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے ، انہی کے ہاتھوں آج دنیا بھر میں شدید عتاب کا شکار ہیں۔ ایران میں آیت اللہ خمینی نے ایک انقلابی اسلامی حکومت قائم تو کرلی لیکن اس کے فوراً بعد انہوں نے اپنے ہم مسلک گروہوں کے ذریعے اسلامی انقلاب کو باقی اسلامی ملکوں میں برآمد کرنے ایسی کوشش کی کہ جس کے نتیجے میں ایرانی انقلاب اسلامی قوانین کے باوجود ،یمن سے لیکر پاکستان تک متنازعہ ہوگیا اور اب تو یہ صرف ایران کی علاقائی بالادستی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ القاعدہ کی جہادی تحریک کا مقصد صرف مزاحمت تھی اس لئے وہ نفاذ شریعت تک نہ پہنچ سکے۔ انقلاب اور حکومت انکا مسلہ ہی نہیں تھا۔عراق اور شام میں سنی علاقوں میں شدید ظلم و تشدد کے نتیجے میں اٹھنے والی تحریک” داعش” نے اسلامی تصور حکومت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اچانک ایک چھوٹا سا علاقہ قبضہ کر کے ایک ریاست کا اعلان کردیا گیاجس کی وجہ سے دنیا بھر سے مسلمان جذبہ جہاد سے سرشار وہاں جا پہنچے اور امریکہ، روس، ایران اور عراق ، ان سب نے ملکر انہیں بھون ڈالا۔ افغان جنگ کے دوران ،روس کے خلاف افغانستان کے مجاہدین کی سات تنظیمیں بھی چونکہ اللہ پر توکل کم اور امریکی دولت اور سٹنگرز پر بھروسہ زیادہ کرتی تھیں، اس لیے کبھی بھی ایک جامع تحریک کے طور پر اکٹھا نہ ہو سکیں اور ایک ایسی خانہ جنگی میں مبتلا ہو گئیں ، جس کے نتیجے میں طالبان وجود میں آئے۔ ان تمام کے برعکس مومن کی جس فراست کا مظاہرہ ملا محمد عمر کی اسلامی تحریک نے کیا وہ یقینا اللہ کی نصرت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے پہلے دن سے کسی دوسرے ملک یا طاقت کے بغیر اللہ پر توکل سے جہاد کا آغاز کیا، دنیا میں مروجہ جمہوری سیاسی نظام کے تصور سے بھی دور رہے، افغانستان سے کسی بھی دوسرے ملک میں امام خمینی کی طرح انقلاب برآمد کرنے کی کوشش نہیں کی، اپنی حکومت کو اپنے ہی ملک میں شریعت کے نفاذ تک محدود رکھا۔حکومت چھن جانے کے بعد امریکہ اور تمام عالمی طاقتوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جب تک ان عالمی طاقتوں نے یہ تسلیم نہیں کرلیا کہ افغانستان پر حکومت کا حق صرف طالبان کا ہے اور ان کی آئندہ بننے والی حکومت عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت ہوگی۔ یہ تھی حکمت عملی ، جس کے نتیجے میں اگرآج طالبان حکومت بنتی ہے تو پھر ایسی حکومت کو “داعش” کی طرح دہشت گرد قرار دے کر تباہ نہیں کیا جا سکے گا۔ملا عمر۔۔۔ ایک عام مدرسے کا قرآن و حدیث کا عالم، دنیا کی آسائشوں اور ٹیکنالوجی سے دور ایک ایسا رہنما جسکی سیاسی بصیرت اور جہادی فراست اس بات کا ثبوت ہے کہ مومنوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ سچ ہے ” تم ہی کامیاب ہوگے اگر تم واقعی مومن ہو (آل عمران:139)۔ اگر ہم کامیاب نہیں ہیں تو ہمیں اپنے مومن ہونے پر شک کرنا چاہیے۔