ملا عمرکے ایک انٹرویوکی صدائے بازگشت

اوریا مقبول جان

دنیا کے تمام اصولی ضابطے، قوانین کا اطلاق صرف اورصرف ایک ملک پرنہیں ہوتا جس کا نام افغانستان ہے. جب سے انسانی تہذیب وتمدن نے انسانی بستیاں، شہراورملک آباد کئے ہیں، یہ کسی علاقے میں بسنے والوں کا بنیادی حق تصورکیا جاتا رہا ہے کہ وہ غیرملکی حملہ آور کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کریں. وطن کی حفاظت میں لڑنے والوں کوہمیشہ سے عزت وتکریم حاصل رہی ہے. وہ ہرمذہب یا قوم کے معاشرتی اصولوں اورضابطوں کی نظرمیں شہید کی حیثیت رکھتے رہے ہیں. کون سی ایسی جنگ ہے جس میں قتل وغارت نہیں ہوتی. علاقے تباہ وبرباد نہیں ہوتے، شہری آبادی نشانہ نہیں بنتی، لوگ ہجرت پرمجبورنہیں ہوتے. گزشتہ صدی کی جنگ عظیم اول ودوئم سے لے کرویت نام، کوریا، چین، پاک بھارت اوردیگرجنگوں کے اعدادوشمار نکال لیں. آپ کولاتعداد خاندان موت کی آغوش میں جاتے، دربدرہوتے اورہنستے بستے شہراجڑتے ہوئے نظرآئیں گے لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ انگلستان، فرانس، جرمنی، بھارت، چین یا پاکستان کی سرزمین کوغیرملکی افواج کے ناپاک بوٹوں سے بچانے والے کی عزت نہ کی گئی ہو. جان دینے والے کوشہید کے لقب سے نہ پکارا گیا ہو. ہروہ قوم جس نے اپنی آزادی وحریت اوراقتداراعلیٰ کے تحفظ کے لیے لڑائی لڑی اوراپنی زمین کے چپے چپے کے لیے خون بہایا اسے عظیم قوم تصورکیا گیا. لیکن اس مردہ ضمیردنیا میں یہ تمام اصول، کلیے اورضابطے افغانستان میں بسنے والی افغان قوم پرلاگو نہیں ہوتے. دنیا کے اڑتالیس ممالک اس کی سرزمین پراپنے ناپاک قدم ویسے ہی رکھتے ہیں جیسے محلے کے اڑتالیس بدمعاش گھرانے ایک غریب وبےسروسامان گھرانے پرٹوٹ پڑیں. پورے ملک میں دندناتے ہوئے دوڑیں اوردنیا مین موجود دوسوکے قریب ممالک میں سے کوئی سربراہ مملکت اپنی زمین کے دفاع میں لڑنے والے افغان طالبان کو ہیرو قرارنہ دے. ان میں سے مرنے والوں کوشہید نہ کہے، سب کے سب انہیں دہشت گرد، شدت پسند اورعالمی امن کے لیے خطرہ قراردیں. یہ وہ اصولی گفتگو ہے جوآج سترہ سال گزرنے کے باوجود بھی دنیا کے ہرٹیلی ویژن چینل پرممنوع ہے اورہرفورم میں شجرممنوعہ ہے. امریکہ سے لے کرآسٹریلیا تک دنیا کا ہرچینل اورتقریباً ہراخبار افغانستان کی امریکہ اورنیٹو افواج سے آزادی کی جنگ لڑنے والوں کوحریت پسند اورمادروطن کی آزادی کے لیے لڑنے والا نہیں‌ کہتا، دہشت گرد پکارتا ہے، انسانی تاریخ کواس سے بڑی منافقت کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا.
اس تمام ترعالمی استعماری منافقت، طاقت وقوت اورفوجی ٹیکنالوجی کی بہترین مثال امریکہ ویورپ کے جنگی سازوسامان کے ساتھ افغانستان میں جو ذلت ورسوائی اورجوشکست اس عالمی برادری نے اٹھائی ہے اس کی مثال بھی انسانی تاریخ میں نہیں ملتی. وہ عالمی طاقتیں جودوسری جنگ عظیم کے بعد نیٹوکے نام سے منظم تھیں اورجن کے دماغ میں یہ فتورسما چکا تھا کہ وہ اب ناقابل شکست ہیں. وہ ہٹلرکے جرمنی کو شکست دے چکی ہیں، انہوں نے 75 سال سے قائم کیمونسٹ روس جیسی دوسری بڑی عالمی طاقت کے حصے بخرے کردیئے ہیں، اب وہ عظیم ہیں. یہ سب کی سب ایک ایک کرکے افغانستان سے ایسے بھاگیں کہ پیچھے مڑکرنہ دیکھا اوراپنی طاقت کے “عظیم” بت امریکہ کو وہاں تنہا لڑنے کے لیے چھوڑگئیں اورآج اس ملک کی افواج کی حالت یہ ہے کہ افغانستان جنگ لڑنے والے امریکی سپاہی جب گھروں کو لوٹتے ہیں توان میں روزانہ بائیس سپاہی خودکشی کرتے ہیں. افغانستان میں عالم یہ ہے کہ روزانہ 45 سپاہی مادروطن کی آزادی کے لیے لڑنے والے طالبان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں. ادھر ٹرمپ یہ جنگ جیتنے کے لیے کمرکسنے کا دعویٰ کرتا ہے اورادھرکابل کا وہ علاقہ جودنیا کا محفوظ ترین مقام تصورکیا جاتا ہے جسے مختلف سیٹلائٹ کے ذریعے، زمینی دستوں، ٹینکوں اور وافر ہتھیاروں سے تحفظ دیا جاتا ہے وہاں دو دھماکے ان لوگوں کے گڑھ پر ہوتے ہیں جو اس ملک کو فتح کرنے کئی ہزار میل سے چل کر آئے تھے. آج سترہ سال بعد مجھے ملا عمرکے وہ انٹرویو یاد آ رہے ہیں جوانہوں نے جنگ کے آغاز میں دیئے تھے. بی بی سی پشتو سروس کا انٹرویو تو نشر ہوگیا لیکن وائس آف امریکہ کا انٹرویو امریکہ نے روک لیا جس کو رابرٹ فسک نے تحریر کر دیا ہے. انٹرویو ایک جذبہ ایمانی اور اللہ پرتوکل رکھنے والے شخص کے ایمان کی علامت ہے.

وائس آف امریکہ: کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے؟

ملا عمر: میں اس وقت دو اعلانات پر غور کررہا ہوں. ایک اللہ کا ہم سے وعدہ ہے اور دوسرا جارج بش کا اعلان. اللہ کا اعلان یہ ہے کہ اس کی زمین بہت وسیع ہے. اگرتم اس کے راستے پر نکلو گے توکہیں بھی رہ سکتے ہو اور وہ آپ کی حفاظت کرے گا. دوسرا جارج بش کا اعلان ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تم چھپو اور میں تمہیں ڈھونڈ نہ نکالوں. دیکھنے میں کس کا اعلان سچ ثابت ہوتا ہے.

وائس آف امریکہ: کیا آپ کو عوام، طالبان، ملک اورخود اپنے بارے میں خوف محسوس نہیں ہورہا؟

ملا عمر: اللہ سبحان وتعالیٰ ایمان والوں اور مسلمانوں کی مدد کرتا ہے. اللہ کہتا ہے کہ وہ کفار سے کبھی مطمئن نہیں ہوگا. دنیاوی اعتبار سے امریکہ بہت طاقتور ہے لیکن وہ اگر اس سے دوگنا طاقتور بھی ہوجائے توہمیں شکست نہیں دے سکتا. کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ اگراللہ ہمارے ساتھ ہے توکوئی ہمیں شکست نہیں دے سکتا.

وائس آف امریکہ: آپ کہتے ہو آپ کوکوئی پرواہ نہیں جبکہ دنیا بھرکے افغانوں کو بہت فکر لاحق ہے؟

ملا عمر: ہم بھی پریشان ہیں. بہت بڑے معاملات سامنے لیکن ہمیں اللہ کی رحمت پر یقین ہے اوراللہ کی رحمت ہمیں مطمئن کر دیتی ہے کیونکہ اس کی مدد مسلمانوں کے لیے ہے. وہ مسلمان جوامریکہ سے ڈر کر ہمیں کہ رہے ہیں کہ ہم اسامہ بن لادن کوحوالے کر دیں، وہ کل اسی بات پر ہمیں گالیاں دیں گے. یہ لوگ کہیں گے کہ ہم نے اسلام کی عزت خاک میں ملا دی. لیکن ایک بات بتاؤں، امریکہ اپنی زمین پرایسے حملوں کو نہیں روک سکے گا کیونکہ امریکہ نے پوری مسلم دنیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور وہ مسلمان ملکوں میں خود ایسے ظلم کرتا ہے. اگر امریکہ واقعی امن چاہتا ہے تو اسلامی ملکوں کے معاملات سے علیحدہ ہوجائے، پوری دنیا میں امن ہوجائے گا.

وائس آف امریکہ: اس کا کیا مطلب ہے کہ امریکہ نے پوری اسلامی دنیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے؟

ملا عمر: امریکہ تمام اسلامی ممالک کی حکومتوں کو کنٹرول کرتا ہے. انہیں اپنے راستے پر چلاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ ساری حکومتیں عوام سے دور ہیں. لوگ اسلام پر عمل چاہتے ہیں جبکہ حکومتیں کان نہیں دھرتیں. اگرکوئی اسلام کے راستے پرچلتا ہے توحکومتیں اسے گرفتارکرلیتی ہیں. امریکہ نے ایک فساد کھڑا کیا ہے جو ہم سب پرحملہ آور ہے. یہ فساد ختم نہیں ہوگا، خواہ میں مرجاؤں یا اسامہ بن لادن مرجائے. یہ فساد امریکی پالیسی ہے. آپ کو پیچھے ہٹ کر اپنی پالیسی پرنظرثانی کرنی چاہیے. اسے دنیا پر اپنی بادشاہت مسلط نہیں کرنی چاہیے. خصوصاً اسلامی دنیا پر.

وائس آف امریکہ: اگر آپ اپنی پوری طاقت کے ساتھ امریکہ سے لڑو گے تو کیا امریکہ تمہیں شکست نہیں دے سکے گا اور تمہاری قوم مزید خوار ہوگی؟

ملا عمر: بظاہرتوایسا ہی نظر آرہا ہے لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا نہیں‌ ہوگا. یاد رکھو ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے کہ سوائے اللہ پربھروسہ کرنے کے جوکوئی ایسا کرتا ہے اس کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس کی مدد کرے گا اورنصرت اس کا مقدر ہوگی.

24 ستمبر2001ء کو دیئے گئے ملا عمر کے انٹرویو کوآج افغانستان کے نقشے پر رکھ کر سوچئے کہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کوکیسے پورا کرتا ہے. ٹیکنالوجی شکست کھا جاتی ہے اوربے سروسامان مردان خدا سرفراز ہوتے ہیں.