جو بادشاہ اہلِ علم کی خدمت میں جایا کرتے۔ دنیا پہ انہوں نے حکومت کی۔دنیا سے بے خبر‘ خود سے بے خبر اب وہ ہیں جو کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔
”آپ کبھی جنوب کی جانب نہیں گئے؟‘‘ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سوال کیا مگر استفسار سے زیادہ اس میں اثبات تھا‘گویاانہیں اس کا یقین ہو ۔ تب ذہن اس طرف منتقل نہ ہوا مگر بعد میں خیال آیا: کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وسطی پنجاب کے بعض نک چڑھے جنوب والوں کو پسند نہیں کرتے۔
”میرا تعلق رحیم یار خان سے ہے‘‘ انہیں بتایا اور یہ بھی کہ بہت نہیں مگر ڈیرہ غازی خان بھی آنا جانا رہا ۔ 1972ء میں اس وقت جب درویش منش ڈاکٹر نذیر کو شہید کیا گیا۔ دوسری بار جب پنجاب یونیورسٹی سے گرفتار کیے جانے والے عمران خاں ڈیرہ کی جیل میں تھے…اور انہوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ اس وقت ان کی بہنیں اور حفیظ اللہ خان گئے یا سابق سینیٹر طارق چوہدری کو ساتھ لے کر، یہ ناچیز وہاں پہنچا۔ عجیب اتفاق ہے، دل میں سوچا، اب ان میں سے کسی ایک کے ساتھ کپتان کے مراسم استوار نہیں۔
بھوک ہڑتال کا مشورہ، جیل کے ڈاکٹر نے دیا تھا۔ جیسا کہ بعد میں خان نے بتایا۔ اس نے کہا تھا: جیل کا خراب کھانا کھانے سے بہتر ہے کہ آپ اس سے گریز ہی کریں۔ کمال اس نے یہ کیا کہ پانی پینا بھی چھوڑ دیا۔ رہائی کے بعد ہنستے ہوئے، اس نے بتایا۔ چند دن کی اسیری تمام ہوئی اور فرش پر سے اٹھنے کی کوشش کی تو اٹھ نہ سکا۔ بھلے آدمی کو فوراً ہی کھانا طلب کرنا چاہئے تھا۔ کچھ زیادہ سلیقہ مند ہوتا تو نقدی کا بندوبست بھی رکھتا۔
اپنے ساتھ میں ایک کتاب لے گیا تھا، جواں سال وزیراعلیٰ کو بتایاکہ ملاقات کی اجازت تو نہ ملی، مگر کتاب اسے پہنچا دی گئی۔ ایک پرانے سے ورق پہ خان نے رقعہ لکھ بھیجا۔ برسوں بعد اب یاد نہیں پڑتا کہ اس کے الفاظ کیا تھے مگر اتنا کہ جوش و جذبہ جھلک رہا تھا۔
بھوک ہڑتال کا یہ پہلا دن تھا؛ اگرچہ ڈی آئی جی جیل خانہ جات نے،جو ملتان سے بھاگم بھاگ وہاں پہنچے تھے، یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔کہا کہ ایسا ہر گز نہیں۔ گھبرائے ہوئے تھے وہ‘پریشان تھے۔ سامنے رکھی پلیٹ سے، پیسٹریاں کھاتے جا رہے تھے۔ شرارت سوجھی تو ان سے کہا: آپ کے ہاں مہمانوں کو دعوت دینے کا رواج نہیں کیا؟ طارق نے مجھے کہنی ماری تو میں نے کہا ”بھوک لگ رہی ہے یار‘‘… سامنے رکھی پلیٹ تو نہ سرکائی لیکن اردلی کو حکم دیا کہ بیکری سے مزید کچھ لے آئے۔ ”اس افسر کا نام میں بھول رہا ہوں، بعد ازاں وہ آئی جی بن گئے تھے‘ اور ان سے اچھا تعلق رہا‘‘۔
”ان کا نام فاروق نذیر تھا‘‘ وزیراعلیٰ مسکرائے۔ جی ہی جی میں ان کے حافظے کی داد دی۔ گیارہ برس بعد بھی، ایک ایسے آدمی کا نام انہیں ازبر تھا، جس سے شاید ہی کبھی واسطہ پڑا ہو۔
کہانی کا دوسرا حصّہ اور بھی دلچسپ ہے۔ ڈی آئی جی نے اب پلٹ کر وار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اچانک اس نے کہا: فلاں کالم نگار مجھے بہت پسند ہے۔ ”پسند تو مجھے بھی ہے‘‘ میں نے کہا ” مگر کیا آپ بتائیں گے کہ موصوف کی کون سی خوبی آپ کو بھاتی ہے‘‘۔ ”وہ ایسا زبردست لکھنے والا ہے کہ چانپ، دستی اور ران کی بوٹیاں الگ کر کے دکھا دیتا ہے‘‘۔
طارق چوہدری نے مسکرانے پہ اکتفا کیا مگر میں رہ نہ سکا اور پوچھا ”آپ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے کیا؟‘‘ قدرے حیرت کے ساتھ اس نے پوچھا ”آپ کو کیسے اندازہ ہوا؟‘‘ ”چانپ‘ دستی اور ران کے تذکرے پر‘‘۔اس پر ایک قہقہہ پڑا۔ ڈی آئی جی صاحب اس میں شریک نہ تھے۔
وزیراعلیٰ کا خیال تھا کہ فاروق نذیر، یا جو بھی ان کا اسم گرامی ہے، اب بھی بروئے کار ہیں۔ اگر ہیں تو امید ہے کہ اب بھی اسی قدر خوش خوراک ہوں گے۔ اجل کا فرشتہ ہی روکے تو روکے۔ گوجرانوالہ کے خوش ذوق‘ خورو نوش سے کبھی دستبردار نہیں ہوتے۔ آپس کی بات یہ ہے کہ خود اس ناچیز کو بھی گوجرانوالہ کے کھانے پسند ہیں۔ مدتوں کوشش رہی کہ کوئی باورچی اس دیار کا مل جائے، ابھی تک قسمت جاگی نہیں۔
حکومت پنجاب کے ترجمان شہباز گل از راہ کرم گھر سے مجھے لینے آئے تھے، اس ملاقات کا جنہوں نے اہتمام کیا تھا۔ شاعر منصورآفاق کو میں ساتھ لیتا گیا کہ محفل میں رونق رہے۔ سرائیکی شاعر اقبال سوکڑی کا ذکر چھیڑا۔کہا کہ ان کے اعزاز میں ایک تقریب برپا کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ اس کی صدارت کریں۔ پھر سوکڑی کا شعر سنایا
ایں محابے کیا خبر کوئی پیمبرآ ونجے
اپنی وستی وچ ابو جہلیںدا گھر ہووے پیا
اب پہلی بار عثمان بزدار کا چہرہ چمک اٹھااور کئی اک شعر اقبال سوکڑی کے انہوں نے سنا دیے۔ان میں سے ایک یہ تھا:
میں تیکوں آکھانہ ہا،تو میڈے گھر کوں نہ ڈیکھ
توں مرے گھر ول نہ آسیں، میڈے گھر کوں ڈیکھ کے
پھر بتایا کہ شاعر کی تمام کتابیں ان کی نظر سے گزری ہیں۔
تفصیل تو زیبا نہیں کہ یہ ایک نجی ملاقات تھی۔ مگر یہ ضرور کہا کہ کارِ حکمرانی کا انحصار موزوں افراد کے انتخاب پہ ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے باب میں بنیادی شکایات میں سے ایک یہ ہے کہ کابینہ اور افسر شاہی میں چنائو بہترین کا نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے جناب نسیم صادق کا ذکر کیا، جن سے کبھی ملاقات نہ ہوئی ‘ لاہور کی مجلسوں میں ان کا ذکر لیکن ہمیشہ حسنِ ظن کے ساتھ ہوا۔ ”آج کل وہ کہاں ہیں؟‘‘ سوال کی جسارت کی تو جواب ملا: ”پوسٹنگ کے انتظار میں‘‘۔ پھر انہوں نے تونسہ کے نئے اسسٹنٹ کمشنر کا ذکر کیا۔ ان کے بقول صبح سویرے جو اٹھ بیٹھتا ہے۔عامیوں میں گھل مل کے رہتا ہے اور حاجت روائی کے لیے کبھی سائل کے دروازے پر بھی چلا جاتا ہے۔”لوگ اس کے دیوانے ہیں‘‘۔
تونسہ کے تذکرے سے خواجہ کمال الدین انور یاد آئے، جناب لیاقت بلوچ کے توسط سے 1985ء میں، جن سے یاد اللہ ہوئی۔ ”کیا وہ آپ کے جاننے والے تھے؟‘‘ وزیراعلیٰ نے پوچھا ”وہ ایک عزیز دوست تھے‘‘ میں نے بتایا۔ پھر اس آدمی کی یاد سے دل بھر سا آیا، دیکھتے ہی دیکھتے جو عامی سے ولی ہو گیا تھا۔
غالباً یہ 1997ء کا ذکر ہے، گنبدِ خضریٰ کے سائے میں وہ مجھے دکھائی دیئے۔ بے تابانہ ان کی طرف بڑھا۔ کوئی سوال پوچھتا تو اس قدر آہستگی سے بات کرتے کہ ٹھیک سے سن نہ پاتا ۔ غور کرتا رہا تو یکایک اک دن ادراک ہوا کہ پاسِ ادب سے ، وہ محتاط تھے۔ اس قدر محتاط کہ کلام کے آرزو مند ہی نہ تھے۔ع
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
خواجہ کمال الدین انور ایسے سادہ اطوار دنیا میں کم ہوتے ہیں، کم نہیں شاذ و نادر۔ بہت کم بات کرتے، بہت ہی کم۔ ایک دن بتایا: سجادہ نشیں ہوا تو میں نے اعلان کیا تھا ”لنگر جاری،نذرانے بند‘‘۔
1989ء میں بے نظیر بھٹو کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک پیش ہوئی توجنوب کے ایک مشہور بڑھک باز لیڈر ایک کروڑ روپے جہاز میں لاد کر ڈیرہ غازی خان پہنچے۔ پتہ چلا کہ خواجہ نے انکار کر دیا۔ انہی دنوں ملاقات ہوئی تو کرید کرید کر پوچھا کہ وزیر نے کیا کہا اور انہو ںنے کیاجواب دیا ”کچھ بھی نہیں‘‘۔ خواجہ صاحب کہتے رہے، ”بس انکار کر دیا‘‘۔ شدید اصرار کے بعد انہوں نے بتایا ”میں نے ان سے کہا”لڑھ نہ مار‘‘۔ فضول بات نہ کرو۔
بعض کے بارے میں تجویز کیا کہ ان سے وزیراعلیٰ کو ملنا چاہئے۔ زیادہ تر سبکدوش افسر، نیک نامی جن کی ساری عمرکی کمائی ہے۔کچھ اہلِ علم کا تذکرہ بھی، دنیا کے جو محتاج نہیں ہوتے بلکہ دنیا دائم ان کی محتاج۔
ہندوستان کا رخ کرنے سے پہلے ، محمود غزنوی ، سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ صدیوں بعد شہاب الدین غوری نے دہلی کا قصد کیا تو خواجہ معین الدین چشتیؒ کو لکھا: آپ کی اجازت کے بغیر نہیں آسکتا۔ وہ عظیم فاتح غیاث الدین بلبن … خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ کے ہاں مؤدبانہ جایا کرتا۔
جو بادشاہ اہلِ علم کی خدمت میں جایا کرتے۔ دنیا پہ انہوں نے حکومت کی۔دنیا سے بے خبر‘ خود سے بے خبر اب وہ ہیں جو کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔