مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے قوم کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کی نظر ثانی کے بغیر آسیہ مسیح کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تو کچھ نہیں پتہ کہا پاکستان میں کتنابڑا طوفان اُٹھے گا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے وطن کے حالات ایسے ہیں کہ ایک مسئلہ حل نہیں ہوتا کہ دوسرامسئلہ آجاتا ہے، توہین رسالت کا مسئلہ اس وقت طوفان بن کر اُٹھا ہے اور اس میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی عظمت، انکی محبت، ان سے عقیدت،ان سے مومنین کا عشق، تو ایسی چیز ہے کہ اس کو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، ہم میں سے کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہو گاجو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس،آپ کی ناموس کواپنی جان سے زیادہ عزیز نہ سمجھتا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو میں نے ابھی پڑھایہ بخاری شریف کی روایت ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی مومن نہیں ہو گا، اس کا ایمان کامل نہیں ہو گا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ افضل ہو جاؤں،حتی کہ اپنی اولاد سے، اور اپنے ماں باپ سے، اور تمام انسانوں سے زیادہ عزیز ہو جاؤں۔چنانچہ ہر مومن اپنے لئے اسی اعزاز سمجھتا ہے کہ اسکے ماں باپ،بہن بھائی، بیوی بچے، دوست احباب سب ناموس رسالت پر قربان ہو جائیں، ابھی جو فیصلہ آیا، اس سے لوگوں کے دل دکھے ہوئے ہیں، ہمارا بھی دل دکھاہوا ہے، زخمی ہے،جس سے یہ مسئلہ اُٹھا ہے اس مسئلہ کو حل کرنے کے جو راستے بنتے ہیں وہ پیش بھی کئے گئے ہیں لیکن ان پر ابھی تک عمل نہیں ہو رہا، ہم نے پچھلے جمعہ کو بھی عرض کیا تھا، پھر وہ اخبارات میں بھی آیااور پھر اس پرعمل بھی شروع ہوا، کہ اس مصیبت کا حل یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس نے کچھ دلائل دئیے ہیں ، بے دلیل بات نہیں کی، فیصلے میں شرعی قانون کے حوالوں سے بات کی اور بہت سارے اہم نکات انہوں نے اُٹھائے ہیں جو قابل غور ہیں علماء کیلئے بھی،فقہاء کیلئے بھی، محدثین کیلئے بھی، ماہرین قانون کیلئے بھی،ان پر غور کیا جائے۔ کوئی بھی کسی شخص کے بارے میں کہہ دے کہ اس نے چوری کی ہے تو فوراً اسکے ہاتھ نہیں کاٹ دئیے جاتے بلکہ جو حدود جاری ہوتی ہیں انکی بڑی پابندیاں ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھی ہدایت ہے کہ جتنا ہوسکے ملزم کو حد سے بچاؤ۔یعنی ذرا سا شبہ بھی اگر پیدا ہو جائے تو حد نہ لگائی جائے، ہاتھ نہ کاٹے جائیں، آپ ایک مثال سے سمجھیں، فقہاء نے لکھا ہے کہ چوری جس سے ہاتھ کٹتے ہیں، وہ ہر چوری نہیں ہے، کہ جیب میں سے کسی نے کچھ نکال لیا، اس کے ہاتھ نہیں کٹ جائیں گے بلکہ اس کے کچھ قوانین ہیں، خفیہ طور پر محفوظ جگہ سے کسی کا مال کوئی نکالے، جو مالک نے گھر کے اندر یا دوکان وغیرہ کے اندر محفوظ جگہ میں رکھا ہوا ہے، وہاں سے کوئی چوری کر لے، اس کے تو ہاتھ کٹیں گے بشرطیکہ گواہوں سے ثابت ہو جائے، کم از کم دو گواہ یہ گواہی دیں، کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس شخص کو مال باہر نکالتے ہوئے دیکھا ہے، اس میں کسی قسم کا ابہام نہ ہو پورے یقین سے گواہیاں دیں، گواہوں کے بیان میں تضاد نہ ہو، اختلاف نہ ہو، متفقہ بیان ہو، تو ہاتھ کاٹ دئیے جائیں گے، لیکن اگر دو آدمی چور ہیں، ایک باہر کھڑا ہے، ایک اندر ہے، اس نے چوری کا مال نکال کردروازے پر رکھا، دوسرے نے دروازے سے اُٹھا لیا، فقہاء کہتے ہیں کہ اس نے وہ چوری نہیں کی جس سے ہاتھ کٹتے ہیں کیونکہ وہ چوری جس سے ہاتھ کٹتے ہیں وہ وہ ہے جس میں چور محفوظ جگہ سے مال باہر نکالے۔ یہاں ایک آدمی نے مال باہر نہیں نکالابلکہ دروازے پر رکھا ہے، اور دوسرے نے اُٹھایا ہے اس نے اندر سے نہیں نکالا،بلکہ باہر سے اُٹھایاہے تو نہ اس کے ہاتھ کٹیں گے نہ اُسکے، مجرم کو شبہ کا فائدہ دے دیا جائے گا، یہ علیحدہ بات ہے کہ جتنا جرم ثابت ہوا ہے اسکے مطابق کچھ اور سزا اسے ملے گی، پاکستان میں جنرل ضیاء الحق صاحب مرحوم کے زمانے میں جب حدود آرڈی نینس نافذ ہو رہا تھا، اس وقت یہ مسائل ہمارے سامنے تھے،جس پر مشورے ہو رہے تھے،اس میں یہ بات بھی پیش نظر تھی کہ اگر ہم نے اس میں احتیاط نہ برتی تو اسلامی قوانین بدنام ہو جائیں گے کہ ذرا سا شبہ ہوا اس پر ہاتھ کاٹ دیا، تو اس طرح تودنیا میں اسلامی قوانین بدنام ہو جائیں گے، اسلام کا قانون تو محکم قانون ہے اس میں کوئی شبہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قانون دیا ہے وہ بڑا مستحکم ہے،اس کی ایک حد ہے، اس کا ایک احترام ہے، اس میں کوئی غلطی نہیں، بنانے والا اللہ رب العالمین ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی ہو سکتی ہے، گواہی دینے والوں سے غلطی ہو سکتی ہے، جرم کے ثبوت میں شک پیدا ہو سکتی ہے ذرا سا شبہ ہو جائے تو سزا ساقط ہو جائے گی، یہ مشہور قاعدہ ہے، اسلامی قانون ہے کہ شبہے کا فائدہ ملز م کو پہنچتا ہے، شبہے کی وجہ سے اس کی سزا کم ہو جائے گی یا ختم ہو جائے گی۔ ہماری سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہی نکتہ اُٹھایا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ان کو کافر نہیں سمجھتے، وہ بھی مسلمان ہیں ان کے بارے یہ گمان کرنا آسان نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جاگزیں نہیں ہو گی اور انہوں نے تو کہا بھی ہے کہ ہماری تو جانیں قربان ہو جائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس پر، لیکن ہم فیصلہ قانون کے مطابق کریں گے، یہ اور بات ہے کہ جج کی رائے میں غلطی ہو جائے، غور وفکر میں غلطی ہو جائے تو اس قسم کی غلطیا ں ہو جایا کرتی ہیں، انہوں نے ملزمہ کو شبہے کا فائدہ دیا اور ایک جگہ نہیں کئی جگہ ثبوت میں شبہے نکالے کہ یہاں ثبوت میں یہ نقص ہے، یہاں یہ شبہ پیدا ہوا ہے، ہم کہتے ہیں وہ باتیں یقیناً قابل غور ہیں جہاں شبہ پیدا ہوا ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ شریعت کا کوئی بھی قانون ہو اسلام ہمیں اسکی اجازت نہیں دیتا کہ اُس پر عمل کرنے یا کروانے کیلئے ہم جذبات میں بہہ جائیں اور ہم پوری تحقیق کے بغیر، کسی کو جان سے مار دیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ جو کیا ہے، یوں ہی آنکھیں بند کر کے نہیں کردیا، بلکہ اس نے جو باتیں لکھی ہیں وہ قابل غور ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ساری صحیح ہیں ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی، لیکن ہم ان کو قابل غور سمجھتے ہیں، غور کرنا چاہیے، بغیر غور کئے انتہا پسندانہ فیصلہ بھی شریعت کے خلاف ہے، ہم نے پچھلے جمعہ کے اجتماع میں جو بات کہی تھی، وہ اس کا حل تھا اور وہ یہ کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریکہ سپریم کورٹ کی اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے، نظرثانی کا قانون یہ ہے کہ اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کس حد تک صحیح ہے کس حد تک غلط ہے، کہاں ان سے غلطی ہوئی ہے، کہاں انہوں نے صحیح کہا ہے؟ سپریم کورٹ ہی سے کہا جائے کہ وہ اس پر نظرثانی کرے؟ ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ لارجر بنچ قائم کی جائے۔ اگر سپریم کورٹ نظر ثانی کے بعد بھی اس سزا کو برقرار رکھتی ہے تو لازم ہے کہ مجرمہ کو قتل کریں، اس کے اندر سستی کرنا ہمارے لئے حرام ہو گا، لیکن اگرسبھی مل کر اس پر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جرم کے ثبوت میں شبہات ہیں اور جرم پوری طرح ثابت نہیں ہوا تو اس کو رہا کرنا ہو گا، یہ بھی شریعت کا قانون ہے پھر شریعت کے قانون کو سر آنکھوں پر تسلیم کرنا ہو گا، ہم کون ہوتے ہیں اپنی طرف سے فیصلہ کرنے والے، فیصلہ کرنے والا تو اللہ تعالیٰ کا قانون ہے۔ یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ آسیہ مسیح کو رہا کر دیا جائے گا۔ اگر سپریم کورٹ کی نظر ثانی کے بغیر آسیہ مسیح کو ملک سے باہر بھیج دیا گیا تو کچھ نہیں پتہ کہا پاکستان میں کتنابڑا طوفان اُٹھے گا۔

اشرف آصف جلالی کامفتی رفیع عثمانی کے خط پر تحفظات کا اظہار

تحریک لبیک یا رسول اللہ سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے مفتی رفیع عثمانی کے کھلے خط پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرکز صراط مستقیم لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مفتی محمد رفیع نے جن وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کی ہے وہ درست معلوم نہیں ہوتیں۔ فیصلے میں جن شبہات کا ذکر کیا گیا ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو حد ساقط ہونے کی بنیاد بن سکے۔ گواہوں کے بیان میں وہ تضادات نہیں جو تضادات فیصلے میں موجود ہیں، مفتی محمد رفیع کا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات سے متعلق حد کو چوری کی حد پر قیاس کرنا بہت بڑی غلطی ہے جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق حدود کو عام حدود پر قیاس کرنے کی اجازت نہیں دی۔ شبہات کی وجہ سے حدود کا اٹھ جانابھی مطلق نہیں مقید ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ قوم کے نام کھلے خط میں مفتی صاحب کا حساس مسئلے پر صرف یہ کہہ دینا ’ججز سے غلطیاں ہوئیں ہونگی‘ مفتی صاحب کا منصب نہیں ، آئینی لحاظ سے بھی دلائل کی صورت حال بہت کمزور ہے ہاں ہم مفتی صاحب کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ فیصلہ پر نظر ثانی کیلئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے