قبل از وقت حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو تو بندہ ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہے اور اگر ذہنی و نفسیاتی طور پر تیار ہو تو جھٹکا کم لگتا ہے، شاک کی شدت بھی نسبتاً قابل برداشت ہو جاتی ہے جیسے سڑک پر اچانک کھڈا سامنے آجائے تو پورا جسم جھنجھنا اٹھتا ہے لیکن ڈرائیونگ کے دوران وہی کھڈا ذرا پہلے دکھائی دے جائے تو اک خودکار نظام کے تحت جسم اسی حساب سے تیار ہو جاتا ہے ۔ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت سیٹ بیلٹ باندھنے کے پیچھے بھی یہی منطق ہوتی ہے اور یہی حال ملکی حالات کا بھی ہے خصوصاً اقتصادی حالات کا۔ آپ اعصابی طور پر پہلے سے تیار ہوں تو امپیکٹ میں وہ زور نہیں رہتا۔اسی لئے میں وقفے وقفے سے اپنے قارئین کو شدید قسم کی ’’ایئرپوکٹس‘‘ سے خبردار کر رہا ہوں حالانکہ یہ کام حکومت کا ہے جو ’’سب اچھا‘‘ کا تاثر دینے کی حماقت کر رہی ہے ۔بمشکل دس پندرہ دن پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ مہنگائی نہیں، مہنگائی کا ’’پرومو‘‘ ہے، مہنگائی ابھی میدان میں نہیں اتری صرف ’’وارم اپ ‘‘ ہو رہی ہے اور ابھی تو مہنگائی صرف انگڑائی لے رہی ہے جو پوری طرح بیدار ہونے کے بعد ایسی دھمال ڈالے گی کہ طبیعتیں صاف ہو جائیں گی یعنی….’’روک سکوتو روک لو مہنگائی آئی رے ‘‘میرے تو کچے پکے اندازے ہی تھے لیکن اب تو اسٹیٹ بینک نے بھی رواں مالی سال کی پہلی سہ

ماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کی ’’ہائی لائیٹس‘‘ پیش کرنا ضروری ہے تاکہ آپ فکری اور اعصابی طورپر تیار رہیں اور یہ تیاری بوقت ضرورت کام آئے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے ….مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔معاشی ترقی اپنے ہدف سے 2فیصد کم رہے گی۔افراط زر کی شرح 5.6فیصد رہی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.4ارب ڈالر کی کمی رہی۔روپے کی قدر 2.2فیصد تک گرگئی۔بجٹ خسارے کا ہدف 5.5تا 6.5فیصد رہے گا۔صنعتی نمو سات سال میں پہلی بار کمی کا شکار رہی جس کی ایک وجہ نان فائیلرز پر جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری پر پابندی تھی ۔مہنگائی مزید بے قابو ہو جائے گی اور معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہیں ہو گا۔معاشی مشکلات کی وجوہات میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہے ۔ جی ڈی پی کے 4.9فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف حاصل کرنا بھی دشوار ہو گا۔ایک انگریزی اخبار بھی چکھ لیں”Achieving 6.2 PC growth unlikely””Development spending slashed””Consumer industries to suffer as purchasing power hit by rising inflation, increasing interest rates and adverse currency movements, current account deficit.”یہ ہیں آنے والے بلکہ تقریباً آ چکے دنوں کی چند جھلکیاں جنہیں اس خبر کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو لطف دوبالا ہو جائے گا اور احمد فراز کا یہ شعر کئی گنا زیادہ کیف آور ثابت ہو گا۔غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلونشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیںیعنی اسٹیٹ بینک کی رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی مبارک رپورٹ کی مندرجہ بالا جھلکیوں کےساتھ یہ خبر بھی شامل کرلیںکہ گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے سکوک بانڈز کے اجراء کی منظوری دے دی گئی ہے ۔حکومت 200ارب روپے کے اسلامی سکوک بانڈز جاری کرے گی جس کے حوالے سے سود کو ’’چیرٹی‘‘ قرار دینے کا تڑکا بھی لگایا گیا ہے اور اس سلسلہ میں کون کون زیربار ہو گا… یہ کہانی پھر سہی ۔فی الحال صرف اتنا ہی عرض ہے کہ سلسلہ یونہی چلتا بلکہ گھسٹتا رہا تو اسحٰق ڈار ’’ولی اللہ ‘‘ دکھائی دینے لگے گا۔ڈار یک دھاری تو یہ دو دھاری تلوار کا منظر پیش نہ کرے تو پیسے واپس۔’’روک سکو تو روک لو مہنگائی آئی رے‘‘اور اب آخر پہ حکومت اور حکومتوں کیلئے ایک بے ضرر سا مشورہ ۔نجانے ہر حکومت کو وہ بڑی بڑی توپیں چلانے کا شوق کیوں چراتا ہے جو یہ چلا نہیں سکتے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنا یہ احمقانہ شوق جاری رکھتے ہوئے یہ چھوٹی چھوٹی غلیلیں چلانے پر بھی توجہ دیں مثلاًملک کی معاشی حالت اگر سدھری تو وہ سدھرتے سدھرتے ہی سدھرے گی لیکن اسی دوران اگر بظاہر بہت سی چھوٹی چھوٹی معمولی باتوں کو بھی ترجیحات میں شامل کر لیا جائے تو عوام کو بہت سا ریلیف مل سکتا ہے ۔سٹی ٹریفک پولیس (لاہور) کا ایک بیحد خوشگوار ، اہم اور مثبت فیصلہ سامنے آیا ہے اور وہ یہ کہ اب دکانوں کے باہر سامان رکھنے، فٹ پاتھوں پر قبضہ کرنے، سکولوں کالجوں ، اسپتالوں، ورکشاپوں، شادی ہالز، شاپنگ مالز کے باہر غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز قائم کرنے اور تجاوزات وغیرہ پر تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ اگر اس فیصلہ پر عملدرآمد ہو گیا تو شہر کی شکل ہی نہیں کلچر اور رویے بھی تبدیل ہو جائیں گے۔اسی طرح ہر چوک چوراہے پر بھکاریوں کی بھرمار سے نمٹنا کون سا ایسا بڑا چیلنج ہے ؟ عام شہری کیلئے گھر کا نقشہ پاس کرانے سے لیکر ڈیتھ سرٹیفکیٹ یا جنم پرچی لینا تک عذاب ہے تو ایسے ہر پراسیس کو سپیڈ اپ کرنا کون سا مشکل ہے ؟ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ اگر ’’بڑے کام‘‘ کرنے کی مہارت، ہنر، سلیقہ یا تجربہ نہیں تو عوام کو چھوٹے موٹے ریلیف دینے کا ہی سوچ لو …..میں نے زندگی میں بیشمار لوگوں کو صرف اس لئے ذلیل و رسوا و ناکام ہوتے دیکھا کہ ’’چھوٹا کام‘‘ ان لوگوں نے کیا نہیں اور ’’بڑے کام‘‘ نے انہیں اپنے نزدیک نہیں پھٹکنے دیا۔اللہ جانے کس قسم کی مخلوق ہر بار ہماری گردنوں پر سوار ہو جاتی ہے جو کامن سینس سے بھی کام نہیں لیتی اور بالآخر نواز شریف اور زرداری بن جاتی ہے۔