معروف پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال کا بھائی پر کم سن بیٹیوں کے ریپ کا الزام ، بچیوں کے میڈیکل کی ابتدائی رپورٹ آگئی،انتہائی شرمناک انکشافات

358

پشتو کی معروف گلوکارہ نازیہ اقبال نے بھائی کو اپنی کم سن بھانجیوں کو ریپ کا نشانہ بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نازیہ اقبال کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں انہوں نے بتایا کہ ان کی دو کم سن بیٹیوں کو ان کے ماموں نے بچوں کے گلا کاٹنے کی ویڈیوز دکھا کر ڈرایا اور ریپ سے متعلق کسی کو بتانے کی صورت میں ایسے ہی انجام کی دھمکیاں دیں۔

روات پولیس کے مطابق پشتو کی معروف گلوکارہ نازیہ اقبال نے پولیس کو مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کی 12 سالہ اور 8 سالہ بیٹیاں بالترتیب 5 ویں اور دوسری جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے زیادہ تر وقت گھر سے باہر ہوتی ہے اور ان کے خاوند بھی روزگار کے سلسلے میں اکثر باہر رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے گھر کی دیکھ بھال اور بچیوں کی حفاظت کے لیے اپنے بھائی افتخار علی کو سوات سے بلوا کر گھر میں رکھا تھا۔خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹیاں اکثر ان سے شکایت کرتی تھیں کہ ان کے ماموں ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور خوف ناک فلمیں دکھا کر دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے کسی کو بتایا تو وہ انہیں بھی قتل کر دیں گے۔خاتون کے مطابق دو دن قبل وہ صبح سویرے بچوں کیلئے ناشتہ بنانے کیلئے اٹھیں تو ساتھ والے کمرے سے اس کو چھوٹی بیٹی کے رونے کی آواز آئی جب اندر جا کر دیکھا تو ان کا بھائی ان کی بیٹی کے ساتھ ریپ کر رہا تھا۔خاتون کا کہنا ہے کہ بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر انہوں نے شور مچایا جس پر ان کے خاوند آگئے تاہم بھائی موقع سے فرار ہو گیا۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) تھانہ روات شیخ خضر حیات نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بچیوں کا میڈیکل کرالیا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں ریپ کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ نمونے حاصل کر کے لیبارٹری کے لیے لاہور بھیجوا دیئے گئے ہیں۔ایس ایچ او کے مطابق ملزم کے خلاف گزشتہ رات مقدمہ درج کیا گیا جبکہ فرار ملزم کو گرفتار کر کے اس کا بھی میڈیکل کروا لیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملزم نے اپنے بیان میں جرم کا اعتراف کرلیا، اور مزید بتایا کہ ملزم افتخار علی کام نہیں کرتا صرف گھر پر ہی رہتا تھا۔پولسی افسر نے کہا کہ ملزم کو علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائیگا تاکہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جا سکے۔