عاصمہ شیرازی نے خبر دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کرونا بچاؤ کے لیے 21 اسپتالوں کو بھیجا گیا سامان غائب ہو گیا، محکمہ صحت پنجاب کا انکشاف۔۔۔ 33 ہزار خصوصی اوورہال، 4 ہزار خصوصی ماسک، 3300 عینکیں اور 7600 جوتے دیے گئے جو غائب ہیں۔

اپنے ٹویٹ میں عاصمہ شیرازی نے طنز کرتے ہوئےکہا کہ پنجاب حکومت انتظامات کے لیے تھوڑا گھبرالے تو اچھا ہو گا۔

جبکہ اصل خبر یہ تھی کہ 2017-18 میں ڈینگی وائرس کےموقع پر اسپتالوں کو یہ لباس اور دیگر اشیا فراہم کی گئی تھیں ۔ یہ سامان ڈینگی کیلئے تھا لیکن عاصمہ عاصمہ شیرازی نے اسے کرونا وائرس سے جوڑدیا۔

عاصمہ شیرازی کی اس خبر پر وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے کہا کہ ان محترمہ کی ٹویٹ ہو اور غلط نہ ہو ایسا ہو نہیں سکتا 2017، 18 میں ڈینگی مہم کے دوران دئیے گئے سامان کے بارےمیں رپورٹ لی گئی، انہوں نے اسے کورونا سےملا دیا اور اصل خبر بھی نہیں پڑھی

پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کئیر پنجاب نے عاصمہ شیرازی کو جواب دیتے ہوئےکہا کہ حفاظتی سامان لاپتہ ہونے کی خبر دراصل ہماری ہی ابتدائی رپورٹ کے چند مخصوص مندرجات کی بنیاد پر بنائی گئی ہے اور حقائق کے برعکس ہے۔ حقیقیت یہ ہے کہ کچھ سامان 2017 اور 18 میں لاہور کے ٹیچنگ ہسپتالوں کو جاری کیا گیا۔ نئے سامان کی خریداری سے قبل پرانے سٹاک کا پتہ ہونا لازم تھا۔

پرائمری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ نے مزید کہا کہ ڈی جی ہیلتھ نے نئے سامان کی خریداری سے قبل متعلقہ ہسپتالوں کو سٹاک رپورٹ پیش کرنے کا کہا تاکہ پرانے سٹاک کا اندازہ ہوسکے۔ رپورٹ مکمل ہونے پر میڈیا سے شئیر کر دی جائے گی۔ فی الحال ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر سامان غائب ہونے کا تاثر دینا اور عوام میں خوف پھیلانا درست نہیں۔شکریہ