معروف سماجی رکن اور سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں۔

37

لاہور: معروف وکیل اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کرگئیں ‘ ان کی عمر 66 برس تھی۔ ان کی ساری زندگی جمہوریت کے فروغ اور اعلیٰ انسانی اقدار کے تحفظ کی جدوجہد کرتے گزری۔
تفصیلات کےمطابق عاصمہ جہانگیر کو دک کے دورے کے سبب لاہور کے اسپتال میں داخل کرایا گیا‘ تاہم وہ صحت یاب نہ ہوسکیں اور آج بروز اتوار اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

عاصمہ جہانگیر27 جنوری 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں ‘ وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھیں ۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی علمبردار اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بھی اپنی سماجی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔

عاصمہ جہانگیر غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل شخصیت تھیں‘ وہ ابھی اکیس برس کی لاء اسٹوڈنٹ تھی کہ ان کے والد کو جنرل یحییٰ خان نے جیل میں ڈال دیا ۔ اپنے والد کی رہائی کے لیے پاکستان کے ہر بڑے وکیل کے پاس گئیں لیکن ، سب نےکیس لینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے والدکا کیس خود لڑیں گی ، عدالت نے اجازت دی اور اس بہادر بیٹی نے نہ صر ف اپنے والد کو رہا کرایا بلکہ ڈکٹیٹر شپ کو عدالت سے غیر آئینی قرار دلوا کر پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک عظیم کارنامہ انجام دیا اسی کارنامے کی وجہ سے ذوالفقارعلی بھٹو کو سول مارشل لاختم کرنا پڑا اور ملک کا آئین فوری طور پر تشکیل دیا گیا۔ ان کا یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں عاصمہ جہانگیر کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔