جن ملکوں میں مسلمان کی آبادی 30 فیصد ہوتی ہے تو وہ ممالک خطرات کا شکار ہوجاتے ہیں: بی جے پی رہنما— فوٹو: فائل 

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سبرامنیم سوامی نے مسلم دشمنی میں حدیں پار کرلی ہیں اور حالیہ انٹرویو میں مسلمانوں کے حوالے سے کھل کر نفرت کا اظہار کیا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی روایتی مسلم اور پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اب حکمران جماعت کے اہم رہنما مغربی میڈیا کے سامنے بھی مسلمانوں کے خلاف کھل کر حقارت اور تعصب کا اظہار کررہے ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل وائس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں متنازع شہریت کے قانون کے حوالے سے بی جے پی کے راجیہ سبھا کے رکن سبرامینم سوامی کا کہنا تھا کہ جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہوتی ہے  وہیں پریشانی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن ملکوں میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد ہوتی ہے وہ ممالک خطرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا مزید کہنا تھا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کی تشریح غلط کی جاتی ہے جس میں یقینی بنایا گیا ہے کہ برابری کے حقوق برابری والوں کو دیے جاتے ہیں۔

اس پر خاتون اینکر نے سوال کیا کہ کیا مسلمان برابر نہیں ہیں؟ اس پر سبرامینم نے ڈھٹائی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، مسلمان نہ ہندوؤں کے برابر ہیں اور نہ ہی مساوی حقوق کے حق دار ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی ٹی وی کو دیا گیا متنازع انٹرویو اتوار کو نشر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے جن میں 25 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر بھی بھارتی انتہاپسندوں نے دہلی میں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر حملے کیے تھے۔

اِن حملوں میں 45 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی جنہیں شناخت کرکے مارا گیا۔

متنازع شہریت قانون کیا ہے؟

متنازع شہریت بل 9 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں (لوک سبھا) سے منظور کروایا گیا اور 11 دسمبر کو ایوان بالا (راجیہ سبھا) نے بھی اس بل کی منظوری دے دی تھی۔

بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں وزیرِ داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔

تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق اس متنازع ترمیمی بل کو ایوان زیریں (لوک سبھا) میں 12 گھنٹے تک بحث کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا تھا جس کے بعد ایوان بالا (راجیہ سبھا) سے بھی یہ کثرت رائے سے منظور ہوا۔

متنازع شہریت بل بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے دستخط کے بعد اب ایک باقاعدہ قانون کا حصہ ہے۔