مردان: شیر گڑھ میں مدرسے کے قاری کی طالبعلم پر پائپ سے تشدد کرنے کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف کی جانب سے شیئر کرائی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد میں قاری ایک کم عمر طالبعلم کو پائپ سے ماررہاہے۔ بچے کی چیخیں سن کر ایک شخص واقعے کی ویڈیو بناتا ہوا مسجد میں داخل ہوتا ہے جسے دیکھ کر بچہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے، تاہم بچے پر تشدد کرنے والا قاری اس کے پیچھے جاتا ہے جہاں ڈرا سہما بچہ وضو خانے میں درد سے کانپ رہا ہوتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ویڈیو بنانے والا شخص روتے ہوئے بچے کو دلاسہ دیتا ہے، تاہم قاری بچے کو کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعد ازاں ویڈیو بنانے والے شخص نے بتایا کہ مسجد کے امام نے بچے کو اتنا مارا کہ شاید اس کا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ اس واقعے کا نوٹس لیں۔

بعد ازاں پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شاندانہ گلزار خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ بچے پر تشدد کرنے والے قاری  سیف الرحمان کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔ جب کہ قاری کے خلاف مردان شیرگڑھ کے پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کرادی گئی ہے۔ شاندانہ گلزار نے مزید کہا کہ یہ اسلام نہیں بلکہ بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں جو بچوں پر تشدد کرتے ہیں۔ بچوں پر جسمانی تشدد کے قوانین میں تبدیلی کی فوری ضرورت ہے۔