مریم اور صفدر کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کے لئے کس نے مدد کی؟واجد ضیاء نے بتا دیا

25

مریم اور صفدر کے خلاف شواہد کیلئے آئی ایس آئی سے مدد حاصل کی گئی، واجد ضیا

اسلام آباد: ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس کے دوران پاناما پیپرز کیس میں تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا نے احتساب عدالت کو بتایا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

4 اپریل کو جے آئی ٹی کے سربراہ اور نواز شریف کے خلاف ریفرنس میں اہم گواہ واجد ضیا نے عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا تھا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق شواہد جن کی وجہ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نا اہل قرار پائے تھے، کو تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان، ملٹری انٹیلی جنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید اور قومی احتساب ادارے (نیب) کے عرفان نعیم منگی کی جانب سے ایک ہی دن میں اکھٹا کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیر اعظم نے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہلکاروں کو ایسے کیسز، جن میں دہشت گردی یا قومی سلامتی کے امور شامل نہ ہوں، میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا حصہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

احتساب عدالت میں جرح کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے رابرٹ ریڈلے سے متعلقہ مواد کی فراہمی کے لیے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید کی خدمات حاصل کیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی جس کے مطابق آف شور کمپنیوں کے ٹرسٹ ڈیڈ اصل نہیں تھے۔

دفاعی کونسل نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ کیا یہ ان کے لیے ممکن ہے کہ وہ رابرٹ ریڈلے کی خدمات حاصل کرسکیں کیونکہ سپریم کورٹ کے 5 مئی 2017 کے احکامات کے پیش نظر ہر ریاستی ادارہ جے آئی ٹی کی مدد کرنے کا پابند تھا۔

واجد ضیا نے اعتراف کیا کہ رابرٹ ریڈلے کی خدمات حاصل کرنے کے لیے پاکستان ہائی کمشنر برائے لندن کی مدد لی جا سکتی تھی، جس پر دفاعی کونسل کے امجد پرویز نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی نے پھر کیوں واجد ضیا کے رشتہ دار اختر ریاض راجہ کی کمپنی کی خدمات حاصل کیں۔

واجد ضیا سوال کا جواب سوچ ہی رہے تھے کے استغاثہ سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار دے رکھا تھا جس کے بعد جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ تحقیقاتی ٹیم کو ایک مقررہ وقت میں کام کرنا تھا جس کے لیے قانونی ادارے کی وقت بچانے کے لیے خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

اختر ریاض راجہ کی جانب سے انہیں اعلیٰ سطح کے کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تعینات ہونے پر مبارک باد کے فون موصول ہونے پر واجد ضیا سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو ماضی میں بھی ایسی کالز موصول ہوئی ہیں۔

سوال کے جواب میں واجد ضیا کچھ دیر خاموش رہے تاہم استغاثہ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے جواب دیا کہ یہ معمول کی بات ہے کہ ایسے موقع پر رشتہ داروں کی جانب سے مبارک باد کے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔

استغاثہ کی مداخلت پر امجد پرویز نے جج محمد بشیر سے شکایت کی استغاثہ ملزم کے فیئر ٹرائل کے اختیار پر بار بار مداخلت کر رہے ہیں۔

قبل ازیں دفاعی کونسل نے استغاثہ پر الزام لگایا تھا کہ کہ انہوں نے فرانزک ماہر رابرٹ سے ان کے کیس میں مداخلت کے لیے ملاقات کی ہے جو قانونی کام میں ایک غیر معمولی عمل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے فرانزک ریکارڈ اور دیگر دستاویزات حاصل کرنے میں متعلقہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی خلاف ورزی کی ہے اور متعلقہ حکام کا بیان بھی قانونی طریقہ کار سے ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا۔

نواز شریف کی میڈیا سے گفتگو
عدالتی کارروائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت سامنے آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واجد ضیا کو جے آئی ٹی کے ساتھ کام کرنے والے 40 نامعلوم افراد کی شناخت کو عیاں کرنا ہی ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کا ان کو اقامہ کی بنیاد پر نا اہل قرار دینے کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here