جو لوگ تاریخ کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر شخصیات کا تعین اور خصوصاً عقیدے کی بنیاد رکھتے ہیں ان کے لیے کیا صرف ایک یہی گواہی کافی نہیں کہ اس ملک میں سنی سنائی کہانیوں پر مبنی کتنے افسانے ملا محمد عمر کی زندگی اور طالبان کے دور حکومت کے بارے میں عام مل جاتے ہیں۔ یہ بنی امیہ، بنی عباس اور بنی فاطمی ملوکیت کا دور نہیں کہ ظلم اور جبر کے تحت تاریخ لکھوائی جاتی ہو۔ یہ جمہوریت، آزادی اظہار اور قلم کی حرمت و تقدس کا دور ہے۔ لیکن اس دور میں بھی آپ کو ملا محمد عمر کے بارے میں گفتگو کرنے، لکھنے والے اور تبصرے کرنے والے اکثریت میں ایسے ملیں گے جن کی ان سے زندگی بھر کبھی ملاقات تک نہیں ہوئی۔ جب کہ طالبان کے افغانستان میں چھ سالہ سنہری دور پر لکھنے والوں کی بھی اکثریت ایسی ہے جنہوں نے کبھی بھی تورخم یا اسپن بلدک کے دوسری جانب قدم نہیں رکھا، جنھیں افغانستان میں بولنے والی ایک زبان بھی نہیں آتی، جن کے تجزیات عالمی اخبارات کے تراشوں، تعصب کی ملاوٹ سے بھرپور تحریروں اور من گھڑت خفیہ رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

آج اگر کوئی مورخ پاکستان میں ملا محمد عمر اور افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کے بارے میں کتاب لکھنا چاہے تو اسے جو عمومی تصور یہاں ملے گا وہ نوے فیصد سے زیادہ بے بنیاد اور گروہی و فرقہ وارانہ تعصب کی عینک لیے ہوئے ہو گا۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی تاریخ ہے، اس دور کے لوگ ابھی زندہ ہیں لیکن سچ اس قدر دھندلا دیا گیا ہے کہ کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔ تاریخ کی سچائی کا اندازہ اس طرح کی ہزاروں موجودہ دور کی مثالوں سے دیا جا سکتا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں تحریروں پر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ لینے والے آج ان کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ پاکستان کے گزشتہ تیس سالوں کی آمریتوں کے اپنے اپنے مورخ اور مداحین ہیں اور وہ اعلیٰ پایہ کے نثر نگار بھی ہیں، اپنے زمانے کے طبری، واقدی اور بلاذری۔ ان تین مورخوں نے افسانے تو تین سو سال بعد تحریر کیے، لیکن ان دانشوروں نے تو اپنی زندگی میں ہی افسانوں کو حقیقت بنا دیا۔

ملا محمد عمر۔ قندھار کے ایک کچے گھر کے چھوٹے سے کمرے سے چھ سال تک افغانستان کو ایک پرامن اور خوشحال ملک میں بدلنے اور پندرہ سال دنیا کی چالیس کے قریب عالمی طاقتوں سے تن تنہا لڑنے والا مرد مجاہد۔ کیا آج ایسا تصور اس کے بارے میں پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ کیا ہمارا میڈیا اور اس پر جلوہ گر ہونے والے تجزیہ نگار اور مورخین سچ بولتے ہیں۔ تعصب اور نفرت نے جھوٹ ان کی زبانوں پر جاری کر رکھا ہے۔ لیکن کوئی تو سچ بولے، کوئی تو یہ بتائے کہ 1995ء سے 2000ء تک اس کا اگر چمن، پشین، لورالائی، ژہوپ، پشاور، مردان، سوات یا پاکستان کے کسی بارڈر کے قریبی شہر جانے کا اتفاق ہوا تھا اس نے سرحد کے اس پار سے ملا محمد عمر اور طالبان کے حکومتی انصاف کی خوشبو ضرور محسوس کی ہو گی۔ اس نے عام آدمی کی زبان پر یہ دعا ضرور دیکھی ہو گی کہ ہمارے ہاں کوئی ایسا حکمران کیوں نہیں آ جاتا۔ ایسی خواہش لوگوں کے دلوں میں دو دفعہ جاگی۔ ایک جب ایران میں آیت اللہ خمینی نے اقتدار سنبھالا اور دوسری دفعہ ملا محمد عمر کے زمانہ حکومت کے دوران۔ سرحدی شہروں کے کتنے لوگ تھے جو اپنے مقدمات فیصلوں کے لیے طالبان کے پاس لے جاتے تھے۔

1997ء میں جان محمد دشتی ڈپٹی کمشنر کوئٹہ تھا۔ میں چاغی سے اسے ملنے گیا۔ اس کے دفتر میں چند پشتون بیٹھے تھے۔ دشتی بلوچ آدمی تھا، اس کی پشتو کمزور تھی، مجھے ترجمے کے لیے بٹھا لیا۔ کہانی یہ تھی کہ چار لوگوں نے ان افراد کے کئی کروڑ افغانی اور ایک موٹر سائیکل فراڈ سے ہتھیا لیے تھے۔ چاروں پکڑے گئے۔ دو کو ایس ایچ او نے مقدمے سے فارغ کر دیا اور دو کو سیشن جج نے بری کر دیا۔ دو لوگ بھاگ کر قندھار چلے گئے۔ وہ اپنا مقدمہ لے کر قندھار گئے، گواہ پیش ہوئے۔ آدھے پیسے اور موٹر سائیکل طالبان نے واپس کروا دیے، باقی آدھے ان دونوں کے پاس تھے جو پاکستان میں تھے۔ وہ لوگ ڈپٹی کمشنر سے درخواست کر رہے تھے کہ ان دونوں کو ہمارے حوالے کریں، ہم قندھار لے جا کر طالبان سے انصاف کروائیں گے۔

روس افغانستان سے رخصت ہوا تو تباہ حال افغانستان بدامنی، لوٹ مار اور قتل و غارت کا گڑھ بن گیا۔ افغان مجاہدین کے گروہ آپس میں اس طرح دست و گریبان ہوئے کہ چاروں جانب اسلحہ و بارود کی بو پھیل گئی۔ چمن سے قندھار تک صرف ستر میل کا فاصلہ ہے لیکن اس تھوڑے سے فاصلے میں جگہ جگہ مختلف افغان مجاہدین گروہوں نے اپنی چیک پوسٹیں لگا رکھی تھیں جو ہر گزرنے والی گاڑی سے جبری ٹیکس وصول کرتی تھیں۔ امن و امان کا یہ عالم کہ نہ کسی کی جان محفوظ اور نہ مال۔ کابل شہر کے دونوں اطراف توپیں نصب تھیں اور شہر کھنڈر بن چکا تھا۔ نجیب اللہ ایک بے طاقت اور مجبور محض حکمران کی صورت موجود تھا۔ ملا محمد عمر سے میری ملاقات اسی دور آشوب میں ہوئی جب روس ابھی رخصت ہوا تھا۔ ایک درد دل رکھنے والا مسلمان جو مسلمانوں کی اس باہمی لڑائی پر ہر وقت کڑھتا رہتا۔ اس کے لیے یہ تمام لوگ اجنبی نہ تھے، اس نے ان کے شانہ بشانہ جہاد میں حصہ لیا تھا لیکن طاقت اور غلبے کی ہوس نے انھیں کیا بنا دیا تھا۔ چمن شہر سے قندھار تک وہ ہر ذی روح کے دکھ سے واقف تھا۔ یہ لوگ تو واقعی قریہ ظالم کے شہری تھے کہ جو سورہ نساء کی آیت کے مطابق پکار پکار کر کہتے تھے کہ اللہ ہمارے لیے کوئی مدد گار بھیج دے۔

تجزیہ نگار جو چاہے کہہ لیں، طاقت کے پجاری بے شک اسے ایک جھوٹی، لغو اور بے بنیاد کہانی کے ذریعے امریکا اور آئی ایس کی تخلیق کہہ لیں لیکن بلوچستان کے اس خطے کے رہنے والے ہزاروں لوگوں کو وہ وقت اب بھی یاد ہے کہ ایک صبح ملا محمد عمر نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میں نے خواب میں سید الانبیاءﷺ کو دیکھا ہے جو مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اٹھو جہاد شروع کرو اور امن قائم کرو، اللہ تمہیں نصرت دے گا۔ اس کے بعد اس خطے کے میرے جیسے لاکھوں لوگ جانتے ہیں کہ کیسے ملا محمد عمر نے قندھار میں موجود سید الانبیاء ﷺ کے جبہ مبارک کو نکالا اور پھر کس طرح لوگوں نے جوق در جوق اس جبہ مبارک کو سامنے رکھتے ہوئے ملا محمد عمر کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے بعد رسول اکرم ؐ کی دی گئی بشارت کا وقت آیا۔ ایک گولی چلائے بغیر قندھار کی تمام فوج نے ملا محمد عمر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کی نصرتوں کا ایک سلسلہ ہے۔

یہ چند ہزار لوگ جس جانب بڑھے فتح و نصرت ان کے قدم چومتی رہی، ا تنی کم مزاحمت کہ صرف چند مہینوں میں نوے فیصد افغانستان ملا محمد عمر کے زیر نگیں تھا۔ میں اس وقت ایک ایسے ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا جس کا کئی سو میل بارڈر افغانستان سے ملتا تھا۔ تمام صوبائی انتظامیہ سے لے کر بڑی سے بڑی خفیہ ایجنسیوں کے فرشتوں تک کو بھی خبر نہ تھی کہ سب کیسے ہو رہا ہے۔ ایک ایسا افغانستان وجود میں آ چکا تھا جہاں گزشتہ سو سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ امن تھا۔ اس دوران ہونے والے انتظامیہ کے بڑے بڑے اجلاسوں میں شرکت کے دوران یہ احساس ہوتا تھا کہ ہر کوئی حیران ہے۔ ان سب کے نزدیک طالبان کا از خود ایک قوت کے طور پر ابھرنا حیرت انگیز تو تھا ہی لیکن اصل حیرت انھیں اس بات پر ہوتی تھی کہ ان کے مقابل میں قوتیں خود بخود پسپا ہو رہی ہیں۔
یہ تو افغانوں کی گزشتہ کئی سو سالہ تاریخ کے خلاف تھا۔ جب طالبان افغانستان میں قوت کے طور پر مستحکم ہو گئے۔ ملا محمد عمر امیر المومنین کی حیثیت سے مانے جانے لگے تو اس دوران حکومت پاکستان کو بھی خیال آٓیا کہ اب انھیں تسلیم کر لینا چاہیے۔ ایک ایسی حکومت اس پسماندہ ملک میں قائم ہوئی جو سیاسیات کے کامیاب ترین اصول ’’کامیاب ریاست وہ ہے جہاں ریاست کا وجود نظر نہ آئے اور لوگ کاروبار زندگی جاری رکھیں‘‘۔ ہر بڑے شہر میں دس اور چھوٹے شہر میں سات طالبان سپاہی ہوتے تھے اورا سپن بلدک جیسی منڈی جہاں اربوں کا کاروبار تھا وہاں لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتے تھے۔

کالم اشاعت

پیر 17 شوال 1436هـ – 3 اگست 2015

یہ ایک پُرامن افغانستان تھا۔ ایسا افغانستان جس کا تصور تک بھی ایک پشتون سربراہِ مملکت کی حیثیت سے کسی نے کیا نہ ہو گا۔ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی پشتون کو اقتدار میسر آیا اس نے اپنے بھائی سے پرانے بدلے چکانے کی ریت ڈالی۔ ” تربور ــ” پشتو زبان میں ایک ایسے رشتے کے بھائی کو کہتے ہیں جس سے اندر ہی اندر عداوت چل رہی ہوتی ہے۔ اس عداوت کو ” تربور گردی” کہا جاتا ہے۔ لیکن ملا محمد عمر کی ذات تو اس سے بالاتر تھی۔
گزشتہ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں یہ دور امن و آشتی اور عدل و انصاف کا ایسا دور تھا جس کی خوشبو اردگرد کے علاقوں میں جا نکلی تھی۔ افغان معاشرہ میں اسلحہ مرد کا زیور سمجھا جا تا ہے۔ ہر کوئی ہتھیار کندھے پر لٹکا کر چلنے کو مردانگی خیال کرتا ہے۔ گزشتہ سولہ سالہ افغان جنگ نے افغانوں کو اسقدر اسلحہ دیا تھا کہ شہر کے شہر اسلحہ کے گودام بن گئے تھے۔ ریاست کی کامیابی کا دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ لوگوں کو یہ اطمینان ہو جائے کہ اب ان کی حفاظت کرنے کو ریاست موجود ہے تو وہ بے فکری کی نیند سونے لگتے ہیں۔
ملا محمد عمر نے اعلان کیا کہ اماراتِ اسلامی اللہ کی دی گئی ذمے داری کے تحت آپ لوگوں کی جان و مال کی ذمے دار ہے، آپ لوگ اپنا اسلحہ جمع کروا دیں۔ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ صرف بیس دن کے اندر تمام لوگوں نے اپنا اسلحہ اپنے علاقے کے طالبان کے نامزد کردہ گورنروں اور ” اولس والوں” (ضلعی سربراہوں) کو جمع کروا دیا۔ پاکستان میں معین الدین حیدر صاحب نے فوج اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے یہ کرنے کی کوشش کی تھی، نتیجہ ہر کسی کو معلوم ہے۔ دنیا میں درجنوں ایسے ممالک ہیں جہاں منشیات کی کاشت اور کاروبار ہوتا ہے لیکن افغانستان ان میں سب سے زیادہ افیون کاشت کرنے والا ملک تھا۔ افیون جس سے ہیروئن تیار ہوتی ہے اور یہ ہیروئن افغانستان کی سرحد پر قائم فیکٹریوں میں تیار ہوتی۔ دنیا کے ہر ملک نے جہاں منشیات کی کاشت اور دھندا ہوتا تھا، انھوں نے جنگی جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے ذریعے اس دھندے اور کاشت کو ختم کرنے کی کوشش کی، کولمبیا سے لے کر تھائی لینڈ تک، سب جگہ آرمی ایکشن ہوا، نتیجہ دس سے پندرہ فیصد کمی۔ لیکن افغانستان جہاں سے نوے فیصد افیون عالمی مارکیٹ میں جاتی تھی، ملا عمر کا ایک حکم نامہ نکلنے کی دیر تھی، کھیتوں میں کھڑی کروڑوں کی فصل کو لوگوں نے خود ہی آگ لگا دی اور وہاں پوست کی کاشت صفر ہو گئی۔
1997ء میں میرے پاس چاغی کے ڈپٹی کمشنر کی ذمے داری تھی۔ افغانستان کے علاقے شوراوک سے ایک نالہ آتا ہے جو نوشکی کے اردگرد مینگل، بادینی اور جمالدینی قبائل کی زمینوں کو سیراب کرتا۔ ایک دن ان تینوں قبیلوں کے سردار آئے کہ افغانستان کے علاقے میں اکبر بڑیچ نامی شخص نے بند باندھ کر پانی روک لیا ہے۔
میں نے سرحد پار ہلمند کے گورنر سے رابطہ کیا جو لشکر گاہ میں بیٹھتا تھا۔ اس نے کہا میں ابھی آپ کے دفتر آ رہا ہوں، اس لیے کہ میں یہیں قریب ہی سرحد پار موجود ہوں۔ وہ ایک موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے تشریف لائے۔ ایک سادہ سا مولوی جسے آج لوگ طالبان رہنما کے طور پر جانتے ہیں۔ کہنے لگا موقع پر چلتے ہیں، آپ اپنے دو مولوی لے آئیں، میں اپنے دو مولوی لے آتا ہوں۔ انگریزی نظام میں پلے بڑھے قبائلی ایک دم تمسخرانہ انداز میں بولے، مولوی کا کیا کام۔ اس نے کہا ہماری جانب مولوی کا ہی کام ہے۔ خیر ہم نے مولوی بھی لیے اور ساتھ تحصیلدار، گرداور، پٹواری اور ریکارڈ بھی اٹھا لیا۔
موقع پر پہنچے، بلڈوزر سے ایک بہت بڑا بند بنا ہوا تھا اور سارا پانی روک کر اپنے کھیتوں کی جانب اس کا رخ موڑ دیا گیا تھا۔ طالبان کے گورنر نے چاروں مولویوں سے پوچھا، بہتے ہوئے پانی کے بارے میں فقہہ کا کیا حکم ہے۔ چاروں نے بیک زبان کہا “اپنی ضرورت کا لے سکتے ہیں لیکن نیچے والوں کا پانی نہیں روک سکتے۔‘‘ طالبان کے اس گورنر نے جس کے ساتھ نہ تو کوئی سپاہی تھا اور نہ ہی مسلح دستے، بس اتنا کہا “یہ بند تم توڑو گے یا ہم” اور پھر صبح ہونے تک وہ ہفتوں میں بنا ہوا بند ٹوٹ چکا تھا۔
یہی زمانہ تھا جب 1947ء کے بعد پہلی دفعہ سروے آف پاکستان کی ٹیم نے ڈیورنڈ لائن یعنی پاک افغان سرحد پر برجیاں نصب کیں اور زمینی سروے مکمل کیا ورنہ ظاہر شاہ کے دور سے لے کر مجاہدین کے انتشار تک کسی حکومت کے دوران اس سرحد پر جانے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔ وہ افغانستان جو کبھی پاکستان سے چوری کی گئی گاڑیوں اور تاوان کے لیے لے جائے جانے والے مغویوں کا مسکن تھا۔ طالبان کے شروع کے زمانے میں وہ مغوی اور گاڑیاں پکڑ کر واپس کی جاتیں اور اس کی گواہی بارڈر کا ہر ڈپٹی کمشنر دے گا اور ایک سال بعد تو کسی کی جرأت نہ کہ چوری یا اغوا کر کے ادھر کا رخ کرے۔
پاکستان کے کسی مخالف قوم پرست کو افغانستان میں پر مارنے کی بھی اجازت نہ تھی۔ وہ جو انگریز کے زمانے سے بھاگ بھاگ کر وہاں پناہ لیتے تھے بھیگی بلی بنے پاکستان میں پڑے ہوئے تھے۔ یہاں کی خفیہ ایجنسیوں نے ایک رپورٹ دے کر ایک وفد کو ملا عمر کے پاس بھیجا کہ آپ کے ہاں راس کوہ میں لشکر جھنگوی کا کیمپ ہے جہاں وہ قتل کر کے پناہ لیتے ہیں۔
وہ جرنیل صاحب شکایت جمع کروا کر واپس آ گئے، لیکن اس کے بعد چاغی کے پاس جا کر جب طالبان نے معلومات کیں تو یہ کیمپ راس کوہ میں دالبندین سے آگے پاکستان کے بارڈر پر تھا اور اس کی سرپرستی کر نے والوں کا نام لیتے ہوئے بھی پر جلتے ہیں۔
وہ افغانستان جو ہر جہادی تنظیم کے لیے ایک کھلا میدان تھا، جو کوئی جس ملک سے اٹھتا بغیر سوچے سمجھے وہاں آ کر آباد ہو جاتا۔ ملا محمد عمر نے کہا کہ پہلے اسلام کے اصولوں کے مطابق بیعت کرو، ریاست کا حصہ بنو اور پھر ہمارے ساتھ مل کر جو چاہے کرو۔ اسامہ بِن لادن اور القاعدہ نے بیعت کی۔ بیعت ان کے نزدیک شہریت کا نام تھا۔ اس بیعت کی اسقدر لاج اور شرم رکھی گئی کہ اس شخص یعنی اُسامہ بن لادن کے لیے وہ دنیا کی 48 طاقتوں سے ٹکرا گئے۔
کیا زمانہ تھا۔ پاکستان کا سہما سہما وفد، امریکیوں کے ہمراہ اس مٹی کے گھر میں سادہ سی چٹائی پر بیٹھا تھا اور سمجھا رہا تھا کہ تم اُسامہ بِن لادن کو حوالے کر دو ورنہ تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ ملا محمد عمر نے کہا اس کے خلاف ثبوت فراہم کرو۔ امریکی تمام ثبوت لے کر آ گئے۔ سوال صرف ایک تھا، کیا ان ثبوتوں کی بنیاد پر امریکا کی عدالت اُسامہ کو سزا سنا سکتی ہے، امریکی بولے ناممکن، ملا محمد عمر بولے پھر ہم سے یہ توقع کیوں۔ اب ڈرانے کے باری تھی۔
کہا مان جاؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔ انھوں نے کہا تباہ ہونے سے نہ ڈراؤ، ہم مٹی کے گھر میں رہتے ہیں، مٹی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، اور ایک دن ہم نے مٹی میں چلے جانا ہے۔ صرف یہ بتاؤ ہماری وجہ سے پاکستان کو تو کوئی مسئلہ نہ ہو گا کیونکہ تم ہمارے بھائی ہو۔ پاکستانی وفد نے کہا ہمیں کوئی مسئلہ نہ ہو گا۔ بات ختم ہو گئی۔ اور پھر وہ جنہوں نے غیرت و حمیت کا درس تاریخ کو دینا تھا اور حق کی گواہی پر کھڑے ہونا تھا وہ ڈٹ گئے اور آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں ہم نے تو سید الانبیاء کے اس ارشاد کی بھی لاج نہ رکھی کہ “وہ مسلمان نہیں جس کی ایذا سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں” ۔
پڑوسی کے لیے مسلمان ہونا بھی شرط نہیں۔ لیکن ہماری سرزمین سے 57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے ان سرفروشوں کو اپنے اللہ کے حضور سرخرو کرنے کے لیے شہادت سے سرفراز کیا۔ مؤرخ آج بھی تاریخ لکھ رہا ہے اور ویسی ہی لکھ رہا ہے جیسی اس کا تعصب اسے مجبور کرتا ہے۔ ملا محمد عمر کے خلاف تین قسم کے لوگ تھے ایک وہ جو شروع شروع میں ان کے داڑھی اور حجاب کے حکم کے خلاف تھے۔
افغانستان کے ننانوے فیصد لوگ داڑھی اور حجاب والے تھے اور ایک فیصد ملا عمر کو ظالم کہنے والے۔ دوسرے وہ جن کا رِزق منشیات کے دھندے سے وابستہ تھا اور تیسرے مسلک کے تعصب میں اندھے کہ جنھیں کسی دوسرے مسلک کا سچ بھی جھوٹ لگتا ہے۔ لیکن قدرت کا عجیب انتقام ہے کہ وہ سب لوگ جو کل تک طالبان اور ملا محمد عمر کے خلاف بولتے نہیں تھکتے تھے اب ان کے تبصرے اور تحریریں بتاتی ہیں کہ امن کی کُنجی تو طالبان کے پاس ہے۔ ہر کسی کو علم ہے کہ خوف داعش کا ہے اور ڈر کس نوعیت کا ہے۔
لیکن طالبان کے افغان دور کے پانچ سالوں کی خوشبو کی ایک مہک ہے جو اس زمانے میں پاکستان کے سرحدی اضلاع کے ہر فرد نے محسوس کی تھی۔ یہ خوشبو کیوں نہ پھیلتی، جس تحریک کا آغاز ملا محمد عمر نے رسولِ اکرم ﷺ کے جبہ مبارک پر بیعت لے کر کیا تھا، اس خوشبو نے تو پھیلنا ہی تھا۔

جمعـء 7 اگست 2015

ایکسپریس نیوز