جب بھی کوئی نیا نظام نافذ کرنا ہوتا ہے تو اس کےلیے پہلے ایک ایسی ٹیم تیار کی جاتی ہے جو نہ صرف اس نئے نظام کی جزئیات سے آگاہ ہو بلکہ اس پر غیر متزلزل یقین بھی رکھتی ہو۔ اسی بنیادی اصول کے پیشِ نظر حضور اکرمﷺ نے ایک طویل عرصہ مکہ میں اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے گزارا۔ آپﷺ کی انتھک کوششوں کی وجہ سے اچھا خاصا طبقہ مسلمان ہوگیا تھا مگر اب ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ایسا خطۂ زمین ہو جہاں کی آبادی مکمل طور پر یا اکثریت اس نظام کو قبول کرنے پر تیار ہو۔ چونکہ مکہ میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی، ایسی حالت میں اسلامی نظام قانون کا نفاذ بے اثر ہو کر رہ جاتا۔ لہٰذا اس سلسلے کےلیے مناسب خطہ مدینہ منورہ کی سرزمین ہی تھی۔

نبی اکرمﷺ کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے بعد فوری طور پر مسجد نبوی کی بنیاد رکھی گئی۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ریاست کےلیے سیکریٹریٹ قائم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ معاشرے کے معاشی مسائل کے حل کو اوّلیت دی گئی۔ ایک طرف ریاست میں ہنگامی حالت تھی تو دوسری طرف انصارِ مدینہ تھے جن میں متوسط بھی تھے اور خاصا مالدارطبقہ بھی موجود تھا۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں مدینہ منورہ کی معیشت کا سارا انحصار یہودیوں کے سودی کاروبار پر تھا، مگر حضورِ اکرمﷺنے مہاجرین سے یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی یہودیوں سے سود پر قرض لے کر اپنا کاروبار شروع کردو؛ کیوں کہ اس طرح معاشی انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل ناممکن تھی۔ اس کے برعکس، آپﷺ نے انصارِ مدینہ سے فرمایا کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور پھر قرضِ حسنہ کا نظام رائج فرمایا اور جب معاشرے کے افراد عملاً باہمی تعاون کے ذریعے بلا سود قرضوں پر معیشت کو قائم کرنے میں لگ گئے تو آپﷺ نے سود کو مکمل طور پر حرام قرار دے کر اس لعنت کو ختم کردیا۔

مدینہ منورہ کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصے میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کرکے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی، جس کی حدودِ حکمرانی شمال میں عراق و شام کی سرحدوں سے لے کر جنوب میں یمن و حضرموت تک، اور مغرب میں بحیرِہ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں؛ اور عملاً پورے جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی۔

اگرچہ شروع میں اسلامی ریاست کا نظم و نسق عرب قبائلی روایات پر قائم و استوار تھا، تاہم جلد ہی وہ ایک ملک گیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگیا۔ یہ عربوں کےلیے ایک بالکل نیا سیاسی تجربہ تھا کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی، سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے۔ یہ سیاسی اکائیاں آزاد و خودمختار ہوتی تھیں، جو ایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبردار تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں تسلسل کے ساتھ سیاسی چپقلش، فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہ دار تھیں۔ عربوں میں نہ صرف مرکزیت کا فقدان تھا بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی نابلد تھے۔ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے، اس لیے وہ کسی ’’غیر‘‘ کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے۔

مگریہ بھی رسول اکرمﷺ کا سیاسی معجزہ ہے کہ آپﷺ نے دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی انگنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی جس کی اطاعت بدوی اور شہری، تمام عرب باشندے کرتے تھے۔ اس کا سب سے بڑا بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب ’’قبیلہ یا خون‘‘ کے بجائے ’’اسلام یا دین‘‘ معاشرہ و حکومت کی اساس تھا۔ اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیالوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا۔ جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کےلیے بھی بعض اسباب کی وجہ سے اس ریاست کی سیاسی بالادستی تسلیم کرنا ضروری تھا۔

اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ نے جب راہِ ہجرت میں قدم رکھا تو آپﷺ کی زبان مبارک پرسورہ بنی اسرائیل کی ایک آیت کثرت سے رہتی تھی: ’’اے اللہ! نئی منزل میں صدق و صفا سے داخل کر اور جہاں سے نکالا ہے وہاں کا نکلنا بھی صدق و صفا پر مبنی ہو، نئی جگہ دین پھیلانے کےلیے غلبہ عطا فرما۔ (سورہ بنی اسرائیل۔ آیت 80)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی دعا قبول فرمائی اور اسلامی مملکت کے قیام کےلیے رسول اللہ ﷺ کو غلبہ عطا فرمایا۔ گویا آپﷺ کی مدنی زندگی بھرپور مصروفیت کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ انتہائی مشکل اوقات میں بھی آپﷺ نے اپنی خداداد بصیرت سے سلامتی کی راہیں نکالیں۔

مدینہ میں تشریف لانے کے بعد آپ ﷺ کی حیثیت مکے سے مختلف ہوگئی تھی، کیونکہ مکہ میں مسلمان ایک مختصر اقلیت کے طور پر رہ رہے تھے جب کہ یہاں انہیں اکثریت حاصل تھی۔ پھر آپﷺ نے شہریت کی اسلامی تنظیم کا آغاز کیا جس میں آپﷺ کو منتظمِ ریاست کا درجہ حاصل ہوگیا۔ اس میں شک نہیں کہ مکی زندگی کے مقابلے میں یہ بڑی کامیابی تھی لیکن پر سکون معاشرے کےلیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا۔ یعنی مدینہ میں موجود مختلف قبائل سے تعلقات استوار کرنا، جسے رسول اللہﷺ نے معاہدات کے ذریعے طے کیا جن میں مواخات مدینہ اور میثاقِ مدینہ شامل ہیں۔

مواخاتِ مدینہ
مواخات کے طرزِ عمل نے مسلم معاشرے کو استحکام بخشا اور اسے ہر جارحیت کے خلاف مجتمع ہوکر لڑنے میں مدد دی۔ مدینہ میں مسلمانوں کی عددی اکثریت تھی اور انصار، مدینہ کا ایک مضبوط گروہ تھا۔ ہجرت کے بعد درپیش سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کی آباد کاری کا تھا کیونکہ وہ دین کی خاطر اپنا گھربار اور ساز و سامان، سب کچھ چھوڑ آئے تھے۔ آپﷺ نے اس سلسلے میں ایک نہایت اہم قدم اٹھاتے ہوئے انصار و مہاجرین کو اسلام کے رشتۂ اخوت میں منسلک کردیا۔ ایک مہاجر کو دوسرے انصار کا بھائی بنا دیا گیا۔ انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں سے فیاضی اور ایثار کا جو ثبوت دیا، وہ اسلامی و عالمی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ آپﷺ کے ساتھ آنے والے مہاجر مسلمانوں میں اور انصار میں ہم آہنگی، یکجہتی اور استحکام کا یہ اہم مسئلہ آپ نے اپنی جس سیاسی حکمت عملی سے طے کیا اور مسلم معاشرے کی بنیاد اس مواخات کے اصول پر مضبوط کردی جو انصار و مہاجرین کے مابین طے کی گئی تھی۔

یہ آپﷺ کی حکمت کی سب سے اہم مثال ہے جس سے مسلم معاشرے میں استحکام ہوا اور اسے جارحیت کے خلاف مجتمع ہوکر لڑنے میں مدد دی۔ بحیثیت حکمران آپﷺ کی فکر بے مثال تھی جسے آپ نے ایک نئی فکر کی طرح اس دقتِ نظری اور دور اندیشی کے بعد قائم کیا کہ ارباب دانش کو آپﷺ کی اس اصابت فکر کے سامنے سرجھکائے بنا چارہ نہ رہا۔ مدینہ میں قائم ہونے والے اس جدید مستقر کو آپ نے ایسی وحدت میں منسلک کردیا جو آج تک عرب کے وہم و خیال میں بھی نہ آسکتی تھی۔

مواخات مدینہ سے رسول اللہﷺ کو خاصا اطمینان حاصل ہوگیا، کیونکہ جس طرح مدینہ کے منافقین اوس خزرج کے قبائل میں پھوٹ ڈالنے کےلیے تدابیر کررہے تھے، اسی طرح مدینہ میں منافقوں نے مہاجر و انصار کے مابین اختلاف و منافرت پھیلانے کی مہم بھی شروع کررکھی تھی؛ مگر معاہدہ مواخات نے ان کی چالیں ناکام بنادیں۔ ان حالات میں اس معاہدہ مواخات کی حکمت اور سیاست کی اہمیت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا کیونکہ مسلمانوں کے درمیان منافق عبداللہ بن ابی کی وجہ سے اختلاف پھیلایا جارہا تھا کہ وہ آپﷺ کی آمد کے وقت بادشاہ بننے والا تھا۔ گو کہ یہ آپﷺ کی فراست و سیاست ہی تھی جس نے منافقین و یہود کی تمام ریشہ دوانیوں کے خلاف مسلمانوں کو سیسہ پلائی دیوار بنادیا۔

میثاق مدینہ
نبی کریم ﷺ کی سیاسی پالیسی کی دوسری اہم مثال میثاق مدینہ ہے۔ مواخات میں آپﷺ نے اہالیان مدینہ کو مستحکم کیا؛ اور اب اہل مدینہ کو بیرونی خطرات سے بچانے کےلیے مسلم اور غیر مسلم کوایک خاص نکتے پر جمع کرنا تھا کیونکہ یہ اس وقت کی شدید ضرورت تھی کہ اہل مدینہ، خواہ مسلم ہوں یا یہود، متفق ہوں اور ان کے باہمی اختلافات کو ہوانہ ملے؛ اور بیرون مدینہ کے لوگ بھی مدینہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کریں۔ ان ہی اغراض و مقاصد کو مدِنظر رکھتے ہوئے حضورِ اکرمﷺ نے ہجرت کے چند ہی ماہ بعد ایک دستاویز مرتب فرمائی، جس کے مطابق یہودیوں سے سمجھوتا کرلیا۔ یہ حکمرانِ وقت کا ایک فرمان تھا، ساتھ ہی تمام لوگوں کا اقرار نامہ بھی تھا، جس پر ان لوگوں کے دستخط تھے۔ اس میں مسلمان اور مشرکین دونوں شریک تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے۔

یہ آپ ﷺ کا سیاسی تدبر ہی تھا جس سے مدینہ کو حفاظت و سکون کے حالات میسر آئے جس سے ایک طرف آنحضرتﷺ کچھ عرصے تک ان کی مخالفت کے خطرے سے نجات حاصل کرکے اسلام کی ترقی و اشاعت میں مصروف ہوئے تو دوسری طرف اندرونی معاملات اور مذہبی آزادی برقرار رہنے سے یہودی متاثر ہوئے اور ان کی ساری غلط فہمیاں اور خدشات دور ہوگئے اور ایک مرکزی نظام قائم ہوگیا۔ یہودیوں نے آنحضرتﷺ کو حکمران تسلیم کرلیا۔ یہ اس معاہدے کی سب سے اہم دفعہ اور آنحضرتﷺ کی عظیم فتح تھی۔

اس معاہدے سے نبی کریمﷺ نے مدینہ کی شہری ریاست کو ایک مستحکم نظام عطا کیا اور اس کےلیے خارجی خطرات سے نمٹنے کی بنیاد قائم کی۔ اس دستاویز نے نبی کریمﷺ کو ایک منتظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے پیش کیا اور یہ آپﷺ کی زبردست کامیابی تھی۔ دستاویز میں ایک بار لفظ ’’دین‘‘ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس لفظ میں بیک وقت مذہب اور حکومت، دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا اہم امر ہے کہ اسے پیش نظر رکھے بغیر مذہبِ اسلام اور سیاسیاتِ اسلام کو اچھی طرح نہیں سمجھا جاسکتا۔

یہی وہ تحریری معاہدہ ہے جس کی رو سے حضرت محمد مصطفیﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل ایک ایسا معاشرتی ضابطہ قائم کیا جس سے شرکائے معاہدہ میں سے ہر گروہ اور ہر فرد کو اپنے اپنے عقیدے کی آزادی کا حق حاصل ہوا۔ اس سے انسانی زندگی کی حرمت قائم ہوئی، اموال کے تحفظ کی ضمانت مل گئی۔ ارتکابِ جرم پر گرفت اور مواخذے نے دباؤ ڈالا اور یہ بستی، اس میں رہنے والوں کےلیے امن کا گہوارہ بن گئی۔

یہ معاہدہ اسلامی ریاست کی بنیاد تھا، یہاں سے حضورِ اکرمﷺ کی زندگی نے نیا رخ اختیار کیا۔ اب تک آپﷺ کے تدبر و فراست کے تمام پہلو ایک ایسے مرکز کے قیام کےلیے تھے جہاں سے دعوتِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ مؤثر طریقے سے کی جاسکے۔ گویاآپﷺ کی سابقہ کوششیں ایک مدبر کی تھیں؛ لیکن اب آپﷺ منتظمِ ریاست کے طور پر سامنے آئے – اور مدینہ میں باقاعدہ اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔

EXPRESS NEWS