حامد میر سے گفتگو میں مونس الہٰی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف سے مسلم لیگ (ق) تب تک اتحاد ختم نہیں کرے گی جب تک پی ٹی آئی والے ق لیگ کو دھکے مار کر الگ نہیں کردیتے۔

مونس الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں دوسری وزارت نہیں دی، یکم جنوری کو عمران خان سے ملاقات میں کہہ دیا تھا کہ میں وفاقی وزارت میں دلچسپی نہیں رکھتا۔تُک نہیں بنتی کہ ایسی ٹیم کا ممبر بن جاؤں جس کا لیڈر مجھ سے کمفرٹبل نہیں، عمران خان کے ساتھ بیٹھ کر تمام ایشوز پر بات کی، 95 فیصد کلیئر ہوگئے، اب دونوں جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔

حامد میر کے اس سوال پر “خبریں ہیں کہ پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بننے والے ہیں ” پر انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کا وزیراعلیٰ پنجاب بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، عثمان بزدار کو پارٹی اور فیملی سطح پر بھرپور سپورٹ کرتے ہیں۔

ق لیگی رہنما نے مزید کہا کہ بزدار چاہتے ہوئے بھی عمل درآمد نہیں کر پارہے، وزیراعلیٰ پنجاب کی حمایت کے سوا کوئی دو رائے نہیں، ہم آخر تک کوشش کریں گے کہ یہ معاملات درست کرلیں۔ پہلے دن سے ہم کہہ رہے ہیں کہ پنجاب سے متعلق جو بھی فیصلہ کرنا ہو کریں لیکن ہم سے مشاورت کرلیں۔

آٹا بحران پر مونس الٰہی کا کہنا تھا کہ اس پر بات نہیں کروں گا کیونکہ ہماری ابھی ابھی صلح ہوئی ہے۔ جب سےجہانگیر ترین اور پرویز خٹک انوالو ہوئے ہیں ہم نے محسوس کیا ہے پی ٹی آئی کے رویےمیں تبدیلی آئی ہے÷