مجھے ایک سینیٹر بنانے کے لیے 45 کروڑ کی پیشکش ہوئی تھی اس کا مطلب ہے کہ..عمران خان

11


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ مجھے ایک سینیٹر بنانے کے لیے 45 کروڑ کی پیشکش ہوئی تھی اس کا مطلب ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ بکتا ہے ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نئے پاکستان کامنشور کیا ہے ،نئے پاکستان میں طبقاتی سسٹم کیسے ختم ہو گااور اصل میں نیا پاکستان کیسے بنانا اور اس میں کیا ہو گا ۔ یہ سب وہ 29اپریل کے جلسے میں عوام کو بتائیں گے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں ووٹ بیچنے والوں سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ تفتیش کی بنا پر تھا، ان 20 لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر صفائی دیں، اگر یہ ہمیں مطمئن نہ کرسکے تو ہم ان کے نام نیب میں دیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو پتا تھا سینیٹ کے الیکشن میں ووٹ بکتا ہے لیکن ساری پارٹیوں کے سربراہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایک سینیٹر بنانے کے لیے 45 کروڑ کی پیشکش ہوئی تھی اس کا مطلب ہے کہ اور لوگوں کو بھی آفریں آتی رہی ہیں، میں نے آفر نہیں لی تو اس لیے آفر دینے والے کا نام نہیں بتا سکتا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ کبھی کسی پارٹی میں اتنی جرات ہوئی ہے وہ اپنی حکومت کو خطرے میں ڈال کر ووٹ بیچنے والوں کو فارغ کرے، ہمارے پاس باقی پارٹی کے بکنے والے لوگوں کی بھی لسٹ ہے، دیکھ رہے ہیں کہ یہ لوگ ایکشن لیں گے یا نہیں، ورنہ ہم اس لسٹ کو بھی سامنے لائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ پی پی اور (ن) لیگ نے ظلم کیا کہ یہ نگراں وزیراعظم، الیکشن کمیشن اور نیب کا سربراہ بھی خود مل کر بنائیں گے، سارا مقصد آزاد الیکشن کمیشن کا یہ ہےکہ نیوٹرل سیٹ اپ ہو جب یہ مک مکا کریں گے تو اس کا مطلب ہے نیوٹرل سیٹ اپ نہیں ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس کی جانب سے کے پی کے میں مختلف کیسز کی سماعت سے متعلق سوال پر کہا کہ چیف جسٹس ہمارے شہریوں کی مشکلات کی نشاندہی کررہے ہیں جو ٹھیک ہے، چاہوں گا چیف جسٹس دو کام کریں جن میں کے پی کے کا دوسرے صوبوں سےموازانہ کریں کہ وہاں حالات کیسے ہیں، لوگوں سے پوچھیں پانچ سال پہلے یہ چیزیں کیسی تھیں، یہ ہمارے لیے بھی فائدہ مند ہوگا