بھارت کی معروف اداکارہ سری دیوی گزشتہ روز دبئی میں انتقال کرگئیں جن کی آخری رسومات میں شرکت اور بھارت واپس جسدخاکی پہنچنے کا ہرکوئی منتظر ہے اور اب اطلاعات ہیں کہ سری دیوی کے جسدخاکی کی منتقلی مزید تاخیر کا شکار ہوگئی ہے اور اب شام سات بجے تک بھارت پہنچنے کا امکان ہے ۔

سری دیوی کی موت سے متعلق خبریں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
بھارتی میڈیا کے مطابق سردی دیوی کا جسدخاکی ممکنہ طورپر تین بجے سہہ پہر دبئی سے روانہ کیاجائے گا جو بھارت میں سات بجے تک پہنچے گا، اس سے پہلے کہاگیا تھاکہ چار بجے تک جسدخاکی پہنچے گا لیکن اب جسد خاکی کی منتقلی میں تاخیر کی وجہ قانونی پیچیدگیوں کو قراردیاجارہاہے ۔
رپورٹ کے مطابق اگر کوئی بھارتی یا غیرملکی شخص خلیجی ملک کے ہسپتال میں انتقال کرتا ہے اور موت کی وجہ معلوم ہو تو جسدخاکی ورثاءکے سپرد کرنے کا طریقہ کار تیز ہے تاہم اگر کوئی موت ہسپتال سے باہر ہوتی ہے چاہے وہ طبی ہی کیوں نہ ہوتو پولیس کو اطلاع کرنا لازم ہے ،وہ موت کی چھان بین کریں گے اور ایک مقدمہ درج کریں گے ۔ اگر کسی غیرملکی کا جسدخاکی پیٹی میں بند کرانے کیلئے پہلے ہی بھیج دیا جاتا ہے تو قانونی کارروائی مزید طوالت اختیار کرجاتی ہے ۔
قانون کے مطابق سری دیوی کی لاش پہلے القسیس کے علاقے میں موجود سردخانے میں منتقل کی گئی ہوگی اور فارنزک معائنے کے بعدجسد خاکی پولیس کے حوالے کردیاجاتاہے ۔ پوسٹمارٹم کے بعد موت کا سرٹیفکیٹ ملتا ہے اور پھر پولیس دوبارہ کلیئرنس شروع کردیتی ہے ،پولیس مرنیوالے شخص کے ویزا کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے بعد دبئی میں بھارتی سفارتخانہ پاسپورٹ منسوخ کرتا ہے ، اسی طرح ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور لاش کی بھارتی منتقلی کا این او سی جاری کرتاہے ۔
اس ساری کارروائی کے دوران پولیس متعلقہ اداروں کو کئی لیٹرز جاری کرتی ہے جن میں لاش، مردہ خانے یا محفوظ بنانے، لاش کی وصولی ، ایئرپورٹ اور ایئرلائنز سے لے کر آخری رسومات بھی شامل ہیں، دبئی میں موت کا سرٹیفکیٹ عربی میں جاری کیاجائے گا تاہم اس کی ترجمہ شدہ انگریزی زبان میں ایک کاپی بھارتی سفارتخانے کے حوالے بھی کی جائے گی اور پھر بھارتی سفارتخانہ ایک مرتبہ پھرورثاءکے سپرد کرنے اور لاش کی منتقلی کیلئے این او سی جاری کرے گا۔