سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں محکمہ صحت کے حکام نے کرونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ اپنے ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے پہلے فون کال پر رابطہ کریں اور بغیر اطلاع دیے کسی دفتر میں نہ جا پہنچیں،اس طرح وہ دوسرے افراد میں بھی مہلک وائرس کی منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت صحت نے حال ہی میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں مقیم رہیں اور فون نمبر 937 پر کال کریں۔بخار چڑھنے اور نظام تنفس میں خرابی کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے ٹیسٹ کرائیں۔

وزارت کے ترجمان ڈاکٹر محمد عبدالعالی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے مذکورہ نمبر پر رپورٹ کریں تا کہ انھیں ، ان کے خاندانوں اور کمیونٹی کو اس مہلک وائرس سے تحفظ مہیا کرنے کے لیے بروقت مدد مہیا کی جاسکے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ مختلف شہروں میں واقع اسپتالوں میں 22 سو سے زیادہ بستر کرونا وائرس کے کیسوں کے لیے مختص کردیے گئے ہیں۔سعودی وزارت صحت نے اس مہلک وائرس کے مریضوں کے لیے 14 سو سے زیادہ خصوصی کمرے تیار کیے ہیں اور 25 اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے علاج ومعالجے کی سہولتیں مہیا کی ہیں۔

یو اے ای میں کرونا وائرس کا پروٹوکول

متحدہ عرب امارات میں محکمہ صحت کے حکام نے کرونا وائرس کے مریضوں کی شناخت کے لیے ایک پروٹوکول وضع کیا ہے۔اس کے تحت کسی بھی متاثرہ شخص کے اسپتال سے رابطے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سکرین ٹیسٹ ہوتے ہیں اور ان کے نتائج کی رپورٹ کی جاتی ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ کرونا وائرس کے مریض کا تشخیص کے فوری بعد علاج شروع کردیا جائے،اس کو اسپتال میں الگ تھلگ رکھا جائے تا کہ دوسرے افراد اس سے متاثر نہ ہوسکیں۔

امریکا کے مرکز برائے انسداد اور کنٹرول امراض ( سی ڈی سی) نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ بخار میں مبتلا ہوجائیں اور کھانسی کی شکایت ہو یا سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو تو انھیں پیشہ ور طبّی عملہ سے رجوع کرنا چاہیے۔

سی ڈی سی نے مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے کی صورت میں متاثرہ افراد کو اپنے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی ہے:

۱۔ بخار کی علامات یا نظام تنفس کا بگڑ جانا (کھانسی یا تیز تیز سانسیں آنا) یا کرونا وائرس کے شکار کسی مریض سے گذشتہ چودہ روز کے دوران میں میل ملاپ کے بعد ان علامات کا ظاہر ہونا۔

۲۔ اگر کسی کو بخار ہوگیا ہے،سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور اس نے اس مہلک وائرس سے متاثرہ علاقوں میں گذشتہ چودہ روز کے دوران میں سفر کیا ہے۔

۳۔ کسی کو بخار ہوا،نظام تنفس بگڑ گیا ہے اور اس کو اسپتال جانے کی ضرورت پیش آئی ہے اور نزلہ زکام جیسی دوسری علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ایسے افراد نے اگر متاثرہ علاقوں کا سفر کیا ہے اور نہ ان کا کسی متاثرہ شخص سے ٹاکرا ہواہے تو ان کے لیے بھی یہ تجویز کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ٹیسٹ کرائیں۔