متحدہ عرب امارات : کابینہ نے طویل المیعاد ویزا نظام کی منظوری دے دی

متحدہ عرب امارات کی کابینہ نے سرمایہ کاروں ، کاروباری شخصیات ، خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد اور تعلیم اور سائنس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے محققین اور ذہین و فطین طلبہ کے لیے طویل المیعاد ویزوں کے نظام کی منظوری دے دی ہے۔

یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق کابینہ کا یہ فیصلہ قبل ازیں اس سال سرمایہ کاروں اور سائنس ، طب ، تحقیق اور ٹیکنیکل شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو دس ،دس سال کے لیے ویزے جاری کرنے کے فیصلے ہی کا تسلسل ہے۔اس کا مقصد یو ای اے کی ایک کاروبار دوست ملک کے طور پر حیثیت کو برقرار رکھنا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے غیرملکی باصلاحیت افرا د کو راغب کرنا ہے۔

اس فیصلے کے تحت سرمایہ کاروں ، محققین اور سائنس دانوں کے ساتھ ان کے بیوی، بچوں کو بھی طویل مدت کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے تا کہ وہ مکمل یک سوئی اور اطمینان کے ساتھ کام کرسکیں۔

کابینہ نے فیصلے میں سرمایہ کاروں کے دو زمروں کی وضاحت کی ہے: پراپرٹی کے شعبے میں پچاس لاکھ درہم یا اس سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو پانچ سال کے لیے اقامتی ویزے جاری کیے جائیں گے۔سرکاری سرمایہ کاری فنڈ میں رقوم جمع کرانے ، کسی کمپنی یا کاروباری شراکت داری میں ایک کروڑ درہم یا زیادہ صرف کرنے یا کل ایک کروڑ درہم تک سرمایہ کاری کرنے والوں کو دس سال کی مدت کے لیے قابلِ تجدید اقامتی ویزے جاری کیے جائیں گے۔ان ویزوں کی ہر دس سال کے بعد تجدید کرائی جاسکے گی۔

کابینہ نے ان دونوں اقسام کے ویزوں کے لیے حسبِ ذیل شرائط رکھی ہیں:

*سرمایہ کاری کی رقم سرمایہ کار کی ذاتی ملکیت ہونی چاہیے۔یہ قرضے یا مستعار کی رقم نہیں ہونی چاہیے اور اس مالک کو اس کا دستاویزی ثبوت مہیا کرنا ہوگا۔سرمایہ کاری کم سے کم تین سال کے لیے ہونی چاہیے۔

*طویل المیعاد ویزا کاروباری شراکت داروں کو بھی جاری کیا جاسکتا ہے لیکن ہر کاروباری شراکت دار کو ایک ،ایک کروڑ اماراتی درہم مہیا کرنا چاہیے۔اس کے تحت کسی شراکت دار کی بیوی ، بچوں کے علاوہ ایک ایگزیکٹو ڈرائیور اور ایک مشیر کو ویزا جاری کیا جاسکے گا۔

*کابینہ کے فیصلے تحت سرمایہ کار وں کو پہلے چھے ماہ کی مدت کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے اور وہ ان پر ایک سے زیادہ مرتبہ متحدہ عرب امارات آ جا سکتے ہیں۔اس کے بعد انھیں طویل المیعاد مدت کے ویزوں کی احتیاجات پوری کرنے کی صورت میں اقامتی ویزے جاری کیے جائیں گے۔

*یو اے ای میں پانچ لاکھ درہم تک کاروبار کرنے والوں کو پانچ سال کی مدت کے لیے اقامتی ویزے جاری کیے جائیں گے۔

*سائنس اورطب کے ماہرین ، محققین اور فن وثقافت کے شعبے میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اور ان کے بیوی، بچوں کو دس سال کی مدت کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے۔ البتہ انھیں یو اے ای میں ملازمت کے معاہدے کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔

*اس ویزے کی اہلیت کی مزید شرائط یہ ہیں:ان کے پاس متعلقہ شعبے میں دنیا کی پانچ سو اعلیٰ جامعات سے جاری کردہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہونی چاہیے۔کام کے وقت کسی بڑی سائنسی تحقیق میں ان کا کردار ہونا چاہیے۔دنیا کے ممتاز جرائد میں ان کے مضامین چھپے ہوئے ہونے چاہییں ۔دس سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا چاہیے۔

*غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کو پانچ سال کی مدت کا ویزا جاری کیا جائے گا۔ان کے سیکنڈری اسکول کے امتحان میں 95 فی صد نمبر ہونے چاہییں۔ ملک اور بیرون ملک کی جامعات سے گریجوایشن کرنے والوں کا کم سے کم جی پی اے 3.75 ہونا چاہیے۔ان کے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ رہنے کے لیے ویزے جاری کیے جائیں گے۔

العربیہ