وہ ہاتھ جو گذشتہ چار صدیوں سے سیاہ فام افراد کے خون سے رنگے ہوئے تھے جن کے آباؤ اجداد ابھی چند دہائیوں پہلے تک انہیں افریقہ کے جنگلوں سے ہاتھیوں کے غولوں کی طرح پھندے لگا کر پکڑ کر لاتے، سالوں عقوبت خانوں میں رکھتے، جہازوں کے تنگ و تاریک کیبنوں میں ٹھونس کر مہینوں کا بحری سفر کرواتے، ان میں سے جو سیاہ فام زندہ بچ جاتے، انہیں امریکی ساحلوں پر فروخت کردیتے۔ سیاہ فام انسانوں کا یہ کاروبار سفید فام انسانوں کی نفسیات کا آئینہ دار تھا۔ مدتوں نسل در نسل انہیں سیاہ فام سے نفرت کے گیت سکھائے جاتے تھے۔ گنتی یاد کرنے کے لیے جو گیت بچوں کو یاد کروائے جاتے تھے، انہیں ”Counting Rhyme” کہا جاتا ہے۔ ایک امریکی اور برطانوی بچہ آج سے ساٹھ سال قبل تک سکولوں میں گنتی یاد کرنے کے لیے ایسے گیت گاتا تھا

Eeny, Meany, Miny, Mo

Catch a Nigger by his Toe

If he hollers let him go

ترجمہ: اینی مینی منی مو۔ ایک کالے کو پاوں کے ناخن سے پکڑو، اور اگر وہ چیخے چلائے تو اسے چھوڑ۔

جنوبی افریقہ پر گوروں کی نسل پرست حکومت تو ابھی کل کی بات ہے۔ یہی نہیں، بلکہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں جیت دراصل سیاہ فام لوگوں سے امریکی عوام کی نفرت کا برملا اظہار تھی اور دنیا کا ہر مبصر یہ کہنے پر مجبور ہوا، کہ ایسے لگتا ہے جیسے امریکہ کو دو سو سال بعد ایک دفعہ پھر گورے نے فتح کرلیا ہے۔ اتنی ساری نفرت، تعصب اور دلوں میں چھبی سفید فام بالا دستی کے باوجود سرمائے کی دوڑ اور کارپوریٹ حرص و ہوس نے یہ معجزہ کر دکھایا کہ اس سال دنیا کے بڑے پانچ مقابلہ ہائے حسن کے ایوارڈ اور تاج سیاہ فام عورتوں کے سروں پر رکھے گئے۔ اس تبدیلی کا آغاز 2019ء کے مس امریکہ کے مقابلے سے ہوا، جب نینا فرینکلن (Nina Franklin) جو ایک سیاہ فام عورت ہے، وہ امریکہ کی ملکہ حسن کہلائی۔ اس کے بعد اپریل 2019ء میں کم سن لڑکیوں کی ملکہ حسن امریکہ Miss Teen USA کے مقابلے میں کیلیگ گارس (Keliegh Garris) ایک سیاہ فام لڑکی ہونے کے باوجود یہ تاج سر پر پہننے کے قابل کہلائی۔ اگلے ماہ یعنی مئی 2019ء میں مس امریکہ کا جگمگاتا ہوا تاج چیسلی کرست (Cheslie Kryst)، جو کالی رنگت والی خاتون تھی اسے پہنا دیا گیا۔ اب معاملہ امریکہ تک محدود نہ رہا۔ اب دنیا کو یہ دکھانا مقصود تھا کہ سیاہ جلد اب معیارات حسن میں اعلی منزلیں طے کرتی جارہی ہے، اس لیے اس سال کے دو عالمی مقابلوں میں بھی گوری، گندمی یا پیلے جلد والی خواتین کو پس پشت ڈال کر کالی رنگت کو سامنے لایا گیا۔ یوں جنوبی افریقہ کی زوزبینی تنزی (Zozibni Tunzi) مس یونیورس کے تخت پر جلوہ افروز ہوئی تو جمیکا کی ٹونی این سنگھ (Tini-Ann Singh) کے سر پر مس ورلڈ کا تاج سجا دیا گیا۔ اس حسن انتخاب پر فیشن، نسلی تعصب اور تذکیرو تانیث (Gender) کی سیاہ فام پروفیسر نولیو روکس (Noliwe Rooks) نے ایک معصومانہ سا تبصرہ کیا۔ اس نے کہا کہ اس سال پانچ سیاہ فام عورتوں کا حسن کے مقابلے جیتنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری عوام کی رائے بدل رہی ہے۔ اس نے کہا

”Really does say something about a level of comfort of black skin in the public.”

ترجمہ: ”یہ سب کچھ بتاتا ہے کہ عوام اب سیاہ جلد کو دیکھ کر جھنجلاہٹ محسوس نہیں کرتے بلکہ اب سیاہ جلد انہیں اچھی لگنے لگی ہے”۔ پروفیسر روکس وہ سیاہ فام فریب خوردہ خاتون ہے جو امریکی معاشرے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق اور اصول مساوات کے جدید تصورات کی بھول بھلیوں میں ایسی گم ہے کہ اسے اندازہی نہیں ہوسکا کہ سیاہ فام خواتین کو اس سال اتنی تعداد میں ملکہ حسن بنانے کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اخلاق سے عاری اور حرص و ہوس میں ڈوبے ہوئے کارپوریٹ معاشرے کی فیشن مارکیٹ کو ایک مزید وسعت درکار ہے۔ اسے نئے سے نئے گاہک تلاش کرنا ہیں۔ ایک پسماندہ لیکن وسیع دنیا کو فیشن کی دوڑ کا شکار کرنا ہے۔ یہ فیشن انڈسٹری جس کی صرف ملبوسات (&Clotting Apparel) کی مارکیٹ اس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ 2018ء میں یہ 578.4 ارب ڈالر تھی اور 2022ء تک یہ 1,182.9 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی آرائشِ حسن (Cosmetic) کی مصنوعات کی مارکیٹ 429.8 ارب ڈالر کی عالمی سطح پر ہے۔ اس کیساتھ ساتھ لاتعداد ایسے شعبے ہیں جو ان ”معیارات ِحسن” کے اردگرد گھومتے ہیں۔ جن میں پلاسٹک سرجری، جم، یعنی جسم کو متناسب رکھنے کی ورزش کی مشینوں کی انڈسٹری، ادویات، خوراک کے مختلف پیکجز، غرض اس ساری دوڑ میں پوری دنیا کی ”معیاراتِ حسن ”کی مارکیٹ کم و بیش دوہزار ارب ڈالر کے ارد گرد گھومتی ہے۔ سفید جلد اور سفید فام نسل کو تو اس گھن چکر کا شکار 1920ء سے کیا جا رہا تھا۔ یہ اس وقت سے ہو رہا ہے، جب فلوریڈا کے ساحلوں پر پہلا بے ضابطہ مقابلہ حسن منعقد ہوا اور پھر 1951ء میں اسے با ضابطہ طور پر عالمی سطح پر لے جایا گیا۔ اسی طرح 1920ء میں ہی جرمنی میں پہلا برہنہ یعنی بے لباس ساحل بنایا گیا جسے FKK کہتے ہیں۔ مقصد صرف ایک تھا کہ انسان کے پورے جسم کو ایک ”معیارِ حسن” دیا جائے اور وہ اس کو حاصل کرنیکی تگ و دو میں اس قدر پاگل ہوجائے کہ جو عیب وہ لباس میں چھپا لیتا تھا، وہ ان کو بھی ختم کرنیکی کوشش میں مصروف ہو جائے تاکہ اس کے جسم میں حسن کا کوئی عیب نہ ہو۔ جلد کیسی ہو، پیٹ کتنا ہو، کولہے اور بازو کس طرح کے ہوں، بال کتنے، کیسے اور کہاں ہونے چاہییں، غرض کوئی مقام ایسا نہیں جسے مقابلے سے باہر کیا گیا ہو۔

کم از کم پچھتر سال تک یہ فیشن کی مارکیٹ سفید نسل کے امریکہ اور یورپ میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی گئی۔ لیکن اب مزید لوگوں کو اس دوڑ میں شریک کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ 1994ء میں ”معیارات حسن” کی ترتیب تبدیل کی گئی۔ بھارت کی ششمیتا سین، مس یونیورس اور ایشوریا رائے مس ورلڈ کے تاج سروں پر سجا کر دنیا کے سامنے آئیں۔ سفید فام نہیں بلکہ گندمی یا انگریزی زبان میں (Coloured) حسن کا تصور عام کیا گیا۔ پھر جب تک یہ کلرڈ افراد کی مارکیٹ پوری کی پوری قبضہ میں نہ آئی، سلسلہ چلتا رہا۔ بھارت سے 1997ء میں ڈیانا ہائیڈن، 1999ء میں یکتا مکھی، 2000ء میں پریانیکا چوپڑا اور 2017 میں مانوشی چلر مس ورلڈ منتخب ہوئیں اور غریب بھارت کی فیشن انڈسٹری 2018ء تک 102 ارب ڈالر تک جاپہنچی۔ وہ ملک جہاں کبھی صرف پچاس کے قریب پلاسٹک سرجن تھے، وہاں آج پچھتر ہزار کے قریب ایسے سرجن موجود ہیں جنہوں نے گذشتہ سال حسن دوبالا کرنے کیلئے 9994,700 آپریشن کیے۔ اس سے کچھ سال پہلے جاپان، چین اور دیگر پیلی جلد کے ممالک کے افراد کو اس دور میں شریک کیا گیا تھا۔ مقابلہ حسن میں جیتنے والی ملکہ حسن کے سر پر تاج ایک علامت ہے، ایک ایسی سلطنت کی علامت جو کھربوں ڈالرکی مالیت رکھتی ہے اور جس کی تماشا گاہ میں صرف عورت رقص کناں ہے۔ یہ مظلوم عورت چند سال ایک معیار حسن پر ناچتی ہے۔ کبھی جسم پتلا کرتی ہے تو پھر بیس سال بعد دوسرے معیارِ حسن پر رقص کرتی ہوئی جسم کو بھرا ہوا (Plumpish) کرتی ہے، ساحلوں کی ریت پر دھوپ میں تڑپتی ہے اور جسم کی رنگت گندمی کرتی ہے اور کبھی آنکھوں کے لینز بدلتی، خوبصورت کہلانے کی دوڑ میں پاگل ہوئی جاتی ہے۔ مارکیٹ اسی مظلوم عورت کے دم سے روشن اور چکا چوند کی جاتی ہے اور اسی عورت کو تماشا بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس بیچاری کی مقبولیت، شہرت اور توجہ کی عمر صرف چند سال ہے۔ وہ چند سال دنیا کی نظروں میں جگمگاتی ہے اور پھر عمر بھر گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔