برطانوی پولیس نے لندن برج حملے میں دو افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کرنے والے کا نام عثمان خان بتایا ہے جنھیں اس سے قبل شہر کی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا۔

28 برس کے عثمان خان مشروط ضمانت پر جیل سے باہر تھے جب انھوں نے جمعے کو لندن برج پر چاقو کے حملے سے دو افراد کو قتل جبکہ تین کو زخمی کر دیا۔

اس کے بعد انھیں مسلح پولیس اہلکاروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق جیل سے مشروط ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ سٹیفورڈ شائر میں مقیم تھے۔

سنہ 2012 میں انھیں ‘عوام کی حفاظت’ کی غرض سے غیر معینہ مدت کے لیے قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کی کم سے کم مدت آٹھ برس تھی۔

اس سزا کے باعث انھیں جیل میں آٹھ برس سے زیادہ رکھا جا سکتا تھا۔ تاہم سنہ 2013 میں عدالت نے ان کی سزا کو ختم کر کے ایک نئی سزا دی جس کے مطابق، انھیں 16 برس کی سزا دی گئی جس میں سے عثمان کو جیل میں اس کی آدھی سزا کاٹنی تھی۔

سزا سناتے وقت اس وقت کے لارڈ جسٹس لیویسن کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے ایک بحث یہ بھی کی جا رہی ہے کہ جسے بھی اس طرح کے جرم میں سزا دی جاتی ہے اس کی اس حوالے سے معاونت کی جانی چاہیے تاکہ اسے بحفاظت رہا کیا جا سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پیرول بورڈ پر چھوڑنا بہتر ہے تاکہ وہ اس پر رہائی سے پہلے غور کر سکیں۔ ’سٹوک-آن-ٹرینٹ میں پیدا ہونے والے عثمان کو آٹھ برس کے لیے جیل میں ڈالا گیا تھا۔‘

یہ افراد شدت پسند تنظیم القاعدہ کے نظریے سے متاثر تھے اور برطانوی خفیہ تنظیم ایم آئی فائیو ان پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

یہ نو افراد اس سے قبل بھی متعدد دہشگرد حملوں کی منصوبہ بندی کا حصہ رہے ہیں جن میں سے ایک لندن سٹاک ایکسچینج میں پائپ بم رکھنا بھی تھا۔

لندن
Image captionحملے کے بعد پولیس کے اہلکار

عثمان اور سٹوک میں ان کے دیگر ساتھیوں کو شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ انھوں نے شہر کے مختلف ٹوائلٹس، پبز اور کلبز میں دھماکہ خیز مواد رکھنے کے بارے میں کی تھی۔

ایک موقع پر عثمان کو القاعدہ میگزین سے پائپ بم بنانے کی ترکیب حاصل کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

یہ افراد بیرونِ ملک ایک ایسا مدرسہ بنانے کے لیے فنڈز بھی بھیج رہے تھے جہاں اسلحے کو استعمال کرنے کی ٹریننگ ہونی تھی جس میں بعد میں خود عثمان نے بھی شریک ہونا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’اس گروہ نے متعدد منصوبے بنا رکھے تھے جن میں سے ایک پاکستان میں ایک مدرسے کے قیام کے لیے فنڈز اکھٹے کرنا تھا جہاں انھوں نے خود بھی ٹریننگ حاصل کرنا تھی اور دوسروں کو بھی بھرتی کرنا تھا۔‘

لندن برج حملہ
Image captionجائے وقوع پر پولیس مزید شواہد ڈھونڈ رہی ہے

’ان کے منصوبوں میں ڈاک کے ذریعے بم بھیجنے، برطانیہ میں نسل پرست گروہوں کے استعمال میں آنے والے گھروں، کسی معروف شخصیت کو نشانہ بنانا اور ممبئی کی طرز کا حملہ کرنا شامل تھا۔‘

اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا کہ عثمان کو تربیت اور دہشتگردی کے حوالے سے تجربہ دینے کے لیے طویل مدت کے لیے بھیجا جانا تھا۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ‘اگر وہ برطانیہ واپس آئے تو وہ دہشتگری میں تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہو چکے ہوتے۔‘

’وہ ایسے دیگر افراد سے بھی ملے جو برطانیہ میں چھوٹے پیمانے پر حملے کرنے کے خواہاں تھے تاہم انھیں احساس ہوا کہ وہ جہاد کے معاملے میں ان سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔‘

سٹوک سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کو عثمان کے ساتھ جیل میں رکھا گیا تھا۔ ان کا نام محب الرحمان تھا اور انھیں رہا ہونے کے بعد دہشت گردی کا ایک اور منصوبہ بنانے کے جرم میں دوبارہ قید سزا سنائی گئی تھی۔

BBC URDU