۔لبرل ازم،سیکولرازم

لبرل کا لفظی مطلب ہے “آزاد خیال” اور سیکولر کا لفظی مطلب ہے ”لادین” یہ دونوں آپس میں جڑے ہوئے اس طرح سے ہیں کہ خلاف شرع یا کسی بھی گھٹیا سے گھٹیا کام کو کر کے اس پر جواز گھڑنے کے لیئے لفظ لبرل کا سہارا لیا جاتا ہے،اور اپنے معاملات میں مکمل طور پر مذہبی احکامات کو سائیڈ پر رکھ دینے پر جواز گھڑنے کے لییے سیکولر کا۔۔۔۔
سیکولرزم ظاہری طور پر ایک سیاسی نظریہ ہے مگر در حقیقت اس کے تانے بانے جن نکات کے ساتھ جڑتے ہیں اور سیکولرازم کی آڑ میں جو مقاصد پوشیدہ ہیں وہ کافی غور طلب اور فکر انگیز ہیں۔۔۔
سیکولرزم سے مراد یہ ہے کہ مذہب کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں،دوسرے یا سیدھے لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ خدا کو مسجد تک محدود کر دو مسجد میں سجدے کرو عبادت کرو باہر آکر اور اپنی من مانی کرو کیونکہ دیگر امور میں نعوذباللہ حاکمیت خدا کی نہیں انسانوں کی ہے۔ریاست اور قانون بنانا انسانوں کا کام ہے یعنی کہ اسلام کو مکمل ظابطہ حیات مانتے ہوئے بھی اپنی من مانی،اور یہ کہ خدا یا مذہب کا ریاست،سیاست،حکومت،قانون اورمعاملات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔
اب آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف جس میں ریاست کی آڑ میں انفرادی طور پر لوگوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور انہیں ذاتی زندگی میں سیکولر بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیئے سب سے پہلے مذہب اور مذہبی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میڈیا اور پراپیگنڈے کے ذریعے لوگوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ مذہب سے قریب، داڑھی رکھنے والے،شلوار قمیض والے،نماز پڑھنے والے لوگ جاہل گنوار،شدت پسند،دہشتگرد،اور قابل نفرت ہوتے ہیں۔اور یہ بات کیسے ذہن میں بٹھائی جاتی ہے یا میڈیا کو کس طرح سے استعمال کیا جاتا ہے،یہ ایک الگ موضوع ہے،اور اب تو یہ سوچ اتنی پختہ کر دی گئی ہے کہ تھوڑی سی مذہبی وابستگی رکھنے والے انسان کو ال لبرل کا طعنہ مار مار کر اسے لبرل بنایا جاتا ہےاس کو اتنی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ان نظروں کی تاب نہ لاتے ہوے داڑھی کٹوا کر جینز شرٹ پہن کر سلام کی جگہ ہیلو ہائے کہہ کر اپنے اپ کو عزتداروں کی لسٹ میں شامل کر لیتا ہے۔اور لبرل سے پھر بڑی آسانی سے سیکولر بنا دیا جاتا ہے۔شاید میرے کچھ دوست سیکولرزم کے حق میں ہوں ۔تو ان کی لیے بتاتا چلوں کہ درحقیقت ایک عام انسان کو ال لبرل کا طعنہ مار مار کر لبرل اور سیکولر بنانا دجالیت کی طرف ایک سفر ہے ایک راستہ ہے جس میں آہستہ آہستہ سٹیپ بائی سٹیپ بندے کو الحاد کی طرف دھکیلا جاتا ہے،اور یہ پراسیس اتنا آہستہ اور موثر ہوتا ہے کے بندے کو پتا بھی نہیں چلتا اور وہ الحاد کی تاریک دلدل میں اترتا چلا جاتا ہے،بہت سے لوگ تو سیکولر پہ بریک لگا لیتے ہیں مگر ہمارے کچھ دوست جو کچھ زیادہ ہی اوپن مائنڈڈ بننے کی کوشش کرتے ہیں،ان کی منزل پھر اتھیسزم رہ جاتی ہے جس سے اگے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا،اتھیسیزم کے اوپر بھی ایک تفصیلی تحقیق پوسٹ کی جائے گی۔۔۔لیکن ذہن میں اٹھنے والے یقینی سوالات کہ اتھیسزم کی طرف کیوں۔۔؟؟ کا جواب یہ کہ گلوبلائزیشن کے لیے،اور گلوبلائزیشن کس لیے۔۔؟؟ کا جواب یہ کہ ان پر حکومت کی جا سکے ون ورلڈ آرڈر کے گھناونے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔۔۔اس کی تفصیل اگلی اقساط میں موجود ہے جو تمام تر معاملات کو واضح کر دے گی
ابھی ایک بات اپنے ان دوستو کیلیے جو سمجھ رہے ہوں کہ ماسٹر صاحب پکے مولوی بننے کے حق میں ہیں،تو عرض یہ ہے۔۔۔کہ جس طرح ال لبرل کو شدت پسند کہا جاتا ہے اگر اسی کسوٹی پر نام نہاد لبرل کو پرکھا جائے تو وہ بھی شدت پسند بنتا ہے۔میں وضاحت کرتا ہوں
نمبر 1۔۔۔۔مذہبی آدمی
شلوار قمیض،داڑھی،نماز،روزہ،حافظ قرآن،اسلام علیکم وا رحمت اللہ وبرکاتہ کہنے والا۔اللہ اللہ کرنے والا نماز کی اور دین کی دعوت دینے والا، اگر ایک انتہا پہ ہے اپ اسے شدت پسندی سمجھتے ہو تو۔
نمبر 2۔۔۔لبرل یا ماڈرن آدمی
جینز شرٹ۔گلے میں لاکٹ،کلین شیو،نماز روزے سے دور تک کا واسطہ نہیں،انگلش میڈیم سکول میں پڑھا ہوا، ہیلو ہائے کہنے والا ہر وقت گانے بجانے اور بیہودگی میں رہنے والا زنا کرنے والا،شراب پینے والا،انگلش اتنی ہائی کے انگریزوں کو پڑھا سکے اور دین کے معاملے میں نماز جنازہ تک نہیں پتا،یہ کیا دوسری انتہا پہ نہیں۔۔؟اس طبقے کو تو بڑا معزز سمجھا جاتا ہے اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ بھی تو شدت پسندی ہے نہ۔۔۔
ابھی آ جاتے ہیں میرے موقف کی طرف کی دین بھی ہمیں اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے تو کیوں ناں ہم میانہ روی اختیار کریں۔مثلا
نمبر۔۔۔3
جینز شرٹ پہنو،کلین شیو کرتے ہو چلیں اٹس اوکے،انگلش میڈیم سکول میں پڑھو۔۔گانے سنتے ہو مجھے کوئی جلدی نہیں فتوے کی۔۔مگر ساتھ ساتھ نماز جو فرض ہے اگر پانچ کی پانچ نہیں تو کم از کم جتنی ہو سکے وہ تو پڑھو اللہ تبارک وتعالیٰ توفیق دے گا پانچوں بھی پڑھنا شروع کر دیں گے،حافظ نہیں بننا نہ بنو پر آپکو چھ کلمے اور نماز تو آتی ہو قرآن پاک کو دیکھ کر تو ٹھیک تلفظ کے ساتھ پڑھ سکتے ہوں,لازمی عالم نہیں بنو مگر اپنے دین کے بارے میں بنیادی تو جانو،،گناہ ہو جاتا ہے بندے سے مگر اس کو گناہ سمجھو تو ،،شراب پیتے ہو تو چھوڑنے کی کوشش تو کرو فیشن نہ بناو اسے۔۔یا کم از کم دل سے برا تو سمجھو گناہ کر کے فخر تو نہیں کرو اس پہ ماڈرن بنو مگر حلال اور حرام کی تھوڑی تمیز بھی تو رکھو،،لبرل بنو مگر لبرل کے نام پر بے حیا نہیں بننا چاہئیے۔ جدت اسلام سے متصادم نہیں،لبرل اور سیکولر کے خوشمنا نعروں مگر حقیقتاً گھٹیا نظریے کو اسلام کے ساتھ کمپئر تو کریں کبھی اگر اسلام آپ کو قانون،حقوق ،ریاست،سیاست،معاملات کے متعلق بہترین رہنمائی نہیں دیتا تو میں سٹپ بیک کرتا ہوں پھر آپ سیکولر بنیں چاہے لادین لیکن اگر ایک جامع ترین بہترین رہنمائی موجود ہے تو ان گھٹیا نظریات کی ضرورت کیوں۔۔؟؟ٹاپک بہت لمبا ہے میں بات ختم کرتا ہوں کہ جتنے مرضی ماڈرن بن جاو مگر اپنی حقیقت اور اپنا مقام نہیں بھولو۔۔اپنی ہی تہذیب کو حقارت سے نہیں دیکھو پہلے اس کو جانو اور سمجھو۔۔۔صحیح صحیح اور غلط غلط ہی ہے اور رہے گا اس کے اوپر لبرلازم کا خول چڑھانے سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔