پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی ریلی کا آغاز پنجاب حکومت کی جانب سے اجازت نہ دیے جانے کے باوجود لاہور کے موچی گیٹ سے ہوگیا جہاں تحریک کا اگلا جلسہ 12 مئی کو کراچی میں کرنے کا اعلان کیا گیا تاکہ شہر میں 2007 میں ہونے والے قتل وغارت کی مذمت کی جاسکے۔

لاہور میں پی ٹی ایم کی ریلی میں مشہور شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب بھی شامل ہیں جنھوں نے مشہور زمانہ نظم دستور کو ریلی کے شرکا کے سامنے پڑھا۔

ریلی میں طاہرہ جالب کے علاوہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ بھی شامل ہیں جن کے شوہر 2005 سے لاپتہ ہیں۔

آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور میں 2014 میں شہید ہونے والے ایک بچے کے والد فضل خان ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا اور حملے کی تفتیش کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے اپنے کو مطالبے کو دہرایا۔

عوامی ورکرز پارٹی کے صدر فانوس گجر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘گزشتہ روز جب پی ٹی ایم کے رہنماوں کو گرفتار کیا گیا تو ہمیں بتایا جارہا تھا کہ لاہور میں امن ہے اور تم ریاست دشمن غدار ہو’۔

انھوں نے کہا کہ ‘غدار یہاں کیا کریں گے، پشتون یہاں پڑھ رہے ہیں، تجارت کر رہے ہیں اور تم ان کے امن کو کیوں چھین رہے ہو’۔

ان کا کہنا تھا کہ پختونوں کو پنجاب میں پولیس کے ہاتھوں مظالم کا سامنا ہے، مزدوروں سے زبردستی پیسے لیے جاتے ہیں اور لاہور میں دن کی روشنیوں میں کئی افراد کو اٹھالیا جاتا ہے۔

پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما علی وزیر کا کہنا تھا کہ ‘موومنٹ لاہور پہنچ گئی ہے اور مستقبل میں اگر کچھ ہوجاتا ہے کہ تو کوئی یہ نہ کہے کہ تم ہمارے پاس نہیں آئے’۔

منظور پشتین کا خطاب


منظور پشتین نے اپنا خطاب شروع کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم کی ‘دلی خواہش ہے’ کہ میڈیا اور عوام سے چھپائی گئی صورت حال کو لاہور کے لوگوں کے سامنے پیش کرے۔

انھوں نے اپنے خطاب میں پی ٹی ایم کی جانب سے راو انوار کی گرفتاری اور لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت دیگر مطالبات پیش کیوں کیے اس حوالے سے وضاحت کی۔

منظور پشتین نے کہا کہ پوری قوم نے سابق ایس ایس پی ملیر راو انوا کی گرفتاری کی صورت میں پی ٹی ایم کے پہلے مطالبے کا نتیجہ دیکھا ہے اور اب یہاں تک کہ عدالت بھی کہہ رہی ہے کہ انوار دہشت گرد تھا اور پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کو معصوم قرار دیا گیا ہے۔

انھوں وفاق کے زیرانتظام علاقے (فاٹا) میں مارے گئے معصوم افراد کے قاتلوں کا نام لیے بغیر ان کی کہانیاں بھی سنائیں۔

لاپتہ افراد کمشین کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ 4 ہزار افراد کو بیچ سکتے ہیں تو بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور میں 4 ہزار پاکستانیوں کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا تھا۔

منظور پشتین نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ‘لاپتہ افراد کو کتنے پیسوں کے عوض بیچا گیا تاکہ ہم وہ رقم جمع کریں اور آپ کو دیں تاکہ آپ ان کو واپس لا سکیں اور اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انھیں رہا بھی نہ کریں صرف عدالت میں پیش کریں’.

انھوں نے لاہور میں پی ٹی ایم کے حامی طلبا کے خلاف درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم پرامن ہیں لیکن یہ نہ بھولیے کہ ہم نوجوان ہیں اور نوجوان زیادہ تحمل مزاج نہیں ہوتے’۔

پی ٹی ایم کے رہنما نے کہا کہ ‘ہم اب بجر کے خلاف اٹھ چکے ہیں ہمیں اپنی جان کا خوف نہیں ہے’۔

منظور پشتین نے اعلان کیا کہ موومنٹ کا اگلا جلسہ سوات میں ہوگا اور 12 مئی کو کراچی میں جلسہ ہوگا جہاں 2007 میں اسی روز 40 شہریوں کو کو دن دیہاڑے خون نہلا دیا گیا تھا۔

میڈیا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی ایم کو جانبدارانہ انداز میں کور کرتے ہیں تاہم انھوں نے کہا کہ ‘ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن آپ دوغلا پن کا مظاہرہ کررہے ہیں’۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو کی پی ٹی ایم کے کارکنوں کی گرفتاری پر احتجاج کی حمایت

قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرادری سمیت دیگر سیاستدانوں نے پشتون تحفط موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے بنیادی حق کی حمایت کی تھی۔

خیال رہے کہ پی ٹی ایم کی جانب سے لاہور کے موچی گیٹ پر ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ نے انہیں ریلی کی اجازت نہیں دی تھی اور اس کے بعد تنظیم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جس پر پی ٹی ایم نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔

مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ گرفتار کیے جانے والے پشتون بھائیوں کو رہا اور ریلی کی اجازت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ملک اتنا ہی ان کا بھی ہے جتنا کہ یہ ہمارا ہے‘۔

مریم نواز نے ایک علیحدہ ٹوئٹ میں کہا کہ ’ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو زبردستی دبانے کی کوشش نہ کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہوگی، وجوہات کا سد باب کیا جائے‘۔

بعد ازاں سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حق میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں پشتون اجتماع پر پابندی عائد کرنا تکلیف دہ آمر ہے، یہ وقت ان کے زخم بھرنے کا ہے۔

سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نہ صرف لاہور میں بیان کیے جانے والے دکھوں اور تکلیفوں کو سنے بلکہ ان کی آوازوں کو بند کرنے کے بجائے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے۔

دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ہر پاکستانی کو احتجاج کا حق ہے اور ’پی ٹی ایم علیحدہ نہیں ہے‘، اور انہوں نے ساتھ ہی ’ووٹر کو عزت دو‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔

علاوہ ازیں لاہور پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پی ٹی ایم کے جلسہ منتظمین میں سے کسی کو حراست میں نہیں لیا بلکہ پشتون تحفظ مومنٹ کے جلسہ منتظمین کو سیکیورٹی پر مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، اور دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اجازت دینے سے انکار کیا۔

ادھر پی ٹی ایم کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام کارکن چھوڑ دیئے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کے کارکنان اور رہنماؤں کو تین سے چار گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا تھا۔

پی ٹی ایم کارکنوں کی گرفتاری

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کی جانب سے اتوار کو ممکنہ طور پر موچی گیٹ پر ریلی کے انعقاد کے اعلان کے بعد گزشتہ رات پنجاب پولیس نے جامع پنجاب اور مقامی ہوٹلوں میں پی ٹی ایم اور عوامی ورکر پارٹی (اے ڈبلیو پی) کے کارکنوں اور رہنماؤں جبکہ متعدد پشتون طلبہ کو مختلف چھاپوں میں گرفتار کرلیا تھا۔

سوشل میڈیا پر گرفتاری سے متعلق خبریں منظر عام پر آنے کے بعد پی ایم ٹی کے رہنماؤں کے اعلان پر کوئٹہ اور پشاور میں مظاہرے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے موچی گیٹ پر ریلی کے انعقاد کی اجازت نہ دیئے جانے کے بعد پی ٹی ایم کے رہنماؤں نے زور دیا تھا کہ وہ ہر صورت میں ریلی کا انعقاد کریں گے اور یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ریلی پُرامن ہوگی۔

مذکورہ گرفتاریوں پر پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سوشل میڈیا کے ذریعے ملک بھر میں احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا۔

جس کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’پشتون لانگ مارچ‘، ’پی ٹی ایم کے کارکنوں کو رہا کرو‘ اور ’پنجاب پولیس پر شرم آتی ہے‘ کے ہیش ٹیگ سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔