منگل کے روز بحرین کے وزیر برائے امور خارجہ الشیخ خالد بن احمد بن محمد آل خلیفہ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ قطر خلیجی بحران کے میں سنجیدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کو چاہیے کہ وہ چاروں عرب ممالک سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ جاری کشیدگی دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے۔

خلیج تعاون کونسل کے چالیسویں سربراہ اجلاس سے خطاب میں بحرینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امیر قطر کی طرف سے خلیجی بحران کے حل کی مساعی کے بجائے وہ منفی تاثر پیدا کرنے کی بار بار کوشش کرتے رہے ہیں۔

بحرین کے وزیر برائے امور خارجہ نے اپنے قطری ہم منصب کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے پہلے سے پیش کردہ مطالبات سے ہٹ کر بات چیت جاری ہے۔ الشیخ آل خلیفہ کا کہنا تھا کہ قطری وزیر خارجہ کی باتیں ان کے ملک کی پالیسی اورعملی اقدامات کی عکاسی نہیں کرتیں۔

بحرینی وزیر خارجہ نے قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے سنہ 2017ء میں بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی طرف سے پیش کردہ شرائط پرعمل درآمد پر زور دیا اور کہا کہ دوحا کے ساتھ کوئی بھی بات چیت انہی چھ مطالبات کے مطابق ہونی چاہیے جو ہم پہلے ہی پیش کرچکے ہیں۔

خیال رہے کہ قطر اور چار دوسرے عرب ممالک کے درمیان سنہ 2017ء کو سفارتی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات معطل ہوگئے تھے۔ گروپ چار کی طرف سے قطر پر دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ایران کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے جب کہ دوحا ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

العربیہ