عام طور پر چقندر کو ہمارے ہاں سلاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ یورپ میں آلوئوں کے بعد چقندر سب سے مقبول ترین سبزی سمجھی جاتی ہے۔ اس کی یورپ میں مقبولیت کی وجہ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ چقندر کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کے خلاف مدافعتی قوت بڑھتی ہے ۔ انفیکشن کے خلاف مزاحمتی کردار اد ا کرنےوالا چقندر گوشت کے سالن ، سادہ ترکاری ، سلاد اور رائتے میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اسے کھانے سے ذیابیطس اور کینسر کے خلاف مدافعتی قوت بڑھتی ہے ۔

چند برس قبل تک نائٹرک آکسائیڈ سے متعلق تحقیقات سامنے نہیں آئی تھیں چنانچہ غذائی افادیت کا انکشاف نہیں ہوا تھا کہ خون کے خلیے نائٹرک آکسائیڈ بھی رکھتے ہیں اور یہ گیس خون کے خلیوں کو ان کی ضرورت کے مطابق آکسیجن لے جانے میں مددگار ہوتی ہے ۔ قسم کی سبزی اور پھل کے اندر کثیر مقدار میں ایسا مادہ ہوتاہے جو قبض دور کرتا ہے ، سفید چقندرجگر کو تسکین بخشتا ہے ، سیاہ قسم قابض ہوتی ہے البتہ اس کا عرق نکال کے لگانے سے خارش خاص کر جلدی امراض ختم ہوجاتے ہیں جلدکی یہ بیماری پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ چقندر کا عرق پھپھوندی کو ختم کرتا ہے ۔ قدیم طبیب چقندر کے پتوں کا پانی نکال کر اس سے کلی کراتے تھے ۔ سفید چقندرکاپانی جگر کی بیماریوں پر اچھے اثرات ڈالتا ہے ۔

چقندر کا تعلق پالک کے خاندان سے ہے البتہ اس کا غذا کے طور پر کھایا جانے والا پسندید حصہ اس کی جڑ ہے ۔ سلاد کے طور پر کھائیے یا اُبال کر یا گوشت کے ساتھ پکائیے ، ہر طرح سے مفید ہے ۔ یورپ میں اس کا پودا 1584میں لایا گیا اوراب یہ وہاں کی غذا اور صنعت میں آلو کے بعد سب سے مقبول سبزی ہے ۔چقندر میں ایک کیمیائی جزو Betinپایاجاتا ہے ، یہ خون بڑھاتاہے ۔ گردوں کی صفائی کرتاہے ۔معدے اور آنتوں میں ہونے والی جلن سے آرام دیتا ہے ۔ سرخ چقند ر سے خواتین کا ماہانہ نظام درست ہوتا ہے ۔