اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اْن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اْسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔ (سورۃ المائدہ: 54تا 56)
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: جس شخص کو نرمی و مہربانی سے محروم کیا جاتا ہے وہ گویا نیکی سے محروم سے کیا جاتا ہے۔ (مسلم) تشریح: جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ خیبر کے ساتھ کلہ کا لفظ بھی ہے لہٰذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص نرمی و مہربانی کی خوبیوں سے عاری ہوتا ہے وہ تمام بھلائیوں سے محروم قرار پاتا ہے گویا اس ارشاد گرامی کا مقصد نرمی و مہربانی کے وصف کی فضیلت بیان کرنا اس عظیم وصف کو حاصل کرنے کی ترغیب دلانا اور سختی کی مذمت کرنا اور یہ بات واضح کرنا ہے کہ نرمی و مہربانی تمام بھلائیوں کے حاصل ہونے کا سبب ذریعہ ہے۔(مشکوٰۃ)