قارون کا خزانہ کہاں دفن ہے

36

قارون حضرت موسی علیہ السلام کے چاچا کا لڑکا تھا یہ بہت خوش آواز تھا۔تورات بڑی خوش الحالی سے پڑھتاتھا۔اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔یہ چونکہ بہت مالدار تھا ،اس لئے اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور تکبر اور اس کی دولت ظاہر ہو۔ اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانےپر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔

اس کے بہت سے خزانے تھے ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑا مت تو قارون نے جواب دیا کہ میں ایک عقلمند،زیرک،دانا شخص ہوں اور اسے اللہ بھی جانتاہے،اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔ قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر رزق برق عمدہ سواری پر سوار ہوکر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا نکلا،اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت و تجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔

قارون اس طمطراق سے نکلا وہ سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے تھا تب ادھر حضرت موسی علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے،بنواسرائیل کا مجمع تھا سب کی نگائیں اس کی دھوم دھام پر لگ گئی حضرت موسی علیہ السلام نے اس سے پوچھا اس طرح کیسے نکلے ہو؟اس نے کہا ایک فضیلت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہےاگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس عزت ؤ دولت ہے اگر آپ کو میری فضیلت میں شک ہے تو میں تیارٰ ہوں آپ اللہ سے دعا کریں دیکھ لیجئے اللہ کس کی دعا قبول کرتاہے آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسے لےکرچلے

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا:اب پہلے دعا کروں یا تو کرے گا قارون نے کہا میں کروں گا اس نے دعا مانگی لیکن قبول نہ ہوئی حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے سے دعا کی یا اللہ زمین کو حکم کر جو میں کہوں مان لے۔اللہ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیاہے حضرے موسی علیہ السلام نے یہ سن زمین سے کہا: “اے زمین اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے،پھر مونڈھوں تک ،پھر فرمایا اس کے خزانے اور اس کے مال بھی یہیں لے آؤ اسی وقت قارون کے تمام خزانے آگئے آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ قاروں اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی “