پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر ٹی وی چینل ’اے آر وائے‘ کے پروگرام ’آف دا ریکارڈ‘ اور اس کے میزبان، اینکر پرسن کاشف عباسی پر 60 دن کی پابندی عائد کر دی ہے۔

14 جنوری کو ’آف دا ریکارڈ‘ کے پروگرام میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا، مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ بطور مہمان شرکت کر رہے تھے۔

لائیو نشر ہونے والے پروگرام میں فیصل واوڈا نے دوران گفتگو اچانک میز کے نیچے سے ایک فوجی بوٹ اٹھا کر میز پررکھ دیا اور کہا: ’میں آج سے ہر پروگرام میں یہ سامنے رکھا کروں گا۔‘

فیصل واوڈا نے شو کے دوران غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی، جس پر جاوید عباسی اور قمر زمان کائرہ شو درمیان میں چھوڑ کر چکے گئے۔

بدھ کو رات گئے جاری ہونے والے ایک نوٹس میں پیمرا نے  فیصل واوڈا کے عمل کو انتہائی ’غیراخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کے دلائل نہ صرف ’توہین آمیز تھے بلکہ ایک ریاستی ادارے کی تذلیل کرنے کی کوشش تھی۔‘

پیمرا نے نوٹس میں پروگرام کے میزبان کاشف عباسی کے کردار کو ’انتہائی غیر پیشہ وارانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے شو میں آئے مہمان کی غیر اخلاقی حرکت کے دوران نہ تو مداخلت کی اور نہ ہی انھیں روکنے کی کوشش کی، بلکہ وہ اسے غیر سنیجدہ لیتے ہوئے مسکراتے رہے۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ پروگرام میں نشر ہونے والے مواد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک ریاستی ادارے کو غیر ضروری طور پر ایک بحث میں دھکیل کر جان بوجھ کر اس کی تذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

بیان کے مطابق میزبان کا یہ عمل پیمرا قوائد اور ضوابط کی خلاف ورزی تھا لہٰذا پیمرا قانون کے سیکشن 27 (اے) کے تحت پروگرام ’آف دا ریکارڈ‘ کی نشریات پر 16 جنوری سے 60 روز کی پابندی لگا دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پیمرا نے کاشف عباسی پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 60 دن تک اپنا پروگرام نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی بھی ٹی وی چینل پر بطورمہمان یا تجزیہ کار کے طور پر شریک ہو سکتے ہیں

منگل کو نشر ہونے والے پروگرام کے بعد سے وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور اینکر کاشف عباسی تنقید کی زد میں ہیں اور دنوں کے ناموں سے ٹرینڈ بھی چل رہے ہیں۔

پابندی کا نوٹس جاری ہونے سے قبل بدھ کی رات نشر ہونے والے پروگرام ’آف دا ریکارڈ‘ میں کاشف عباسی نے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہوئی اور انھیں اس سب کو روکنا چاہیے تھا لیکن انھیں ری ایکٹ کرنے میں زیادہ وقت لگ گیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ خود حیران تھے کہ ایک وفاقی وزیر ایسا کیسے کر رہے ہیں۔

تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ 12 سال یہ پروگرام کر رہے ہیں اور اب اپنے کیریئر کے اُس حصے میں ہیں جہاں انھیں اپنے شو کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ایسے ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں۔

Untitled-1.jpg

14 جنوری کو نشر ہونے والے شو میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا بوٹ میز پر رکھ کر بات کرتے ہوئے (سکرین گریب)

سٹوڈیو میں بوٹ کیسے آیا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ٹاک شوز میں روز کئی مہمان آتے ہیں جن میں سینیئر سیاست دان اور تجزیہ کار شامل ہوتے ہیں اور ایسے قابل احترام افراد کی تلاشی کہیں نہیں لی جاتی۔

دوسری جانب فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان کے ٹی وی شو پر بوٹ لانے کے عمل سے ’سخت ناخوش‘ ہیں۔

بدھ  کی رات ’جیو نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا: ’میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ جو بھی کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک ہے۔ میں نے انھیں یقین دلایا کہ ایسا پھر کبھی نہیں ہوگا اور میں ذمہ درارنہ رویہ اختیار کروں گا۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نواز شریف اور ان کے خاندان نے ہمیشہ ریاستی اداروں کی  تذلیل کی اور انھیں کمزور کیا۔ میں ایسا کبھی بھی جان بوجھ کر نہیں کروں گا۔‘  

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ان کے عمل پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ ان کو مقصد صرف اپوزیشن کی اصلیت سامنے لانا تھا۔