پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے پر فوج کا ردعمل: ’وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان اہم فیصلے ہوئے ہیں

آصف غفور

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے سنائے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر وزیر اعظم عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان بات چیت ہوئی ہے اور چند اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف کے درمیان بات چیت کی خبر پاکستان فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں دی جہاں انھوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ملک اور ادارے کی عزت اور وقار کا ہر قمیت پر تحفظ کیا جائے گا۔

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے اور خاص طور پر اس میں استعمال کی گئی زبان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پاکستان فوج کی طرف سے 13 دسمبر کو مختصر فیصلے سنائے جانے کے بعد جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔

آصف غفور نے کہا کہ فیصلے میں استعمال کیے گئے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور تمام اقدار کے خلاف ہیں۔

پریس کانفرنس کی تفصیل

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف سے متعلق 17 دسمبر کو جو مختصر فیصلہ آیا تھا اس کے ردعمل میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا، آج کے تفصیلی فیصلے سے وہ خدشات صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے بالخصوص اس میں استعمال کیے گئے الفاظ انسانیت مذہب، تہذیب اور کسی بھی اقدار کے خلاف ہیں۔ ’افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے۔ ہم ملکی سلامتی کو قائم رکھنے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے حلف بردار ہیں۔‘

’ایسا ہم نے پچھلے بیس سال میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ وہ کام جو دنیا کا کوئی ملک کوئی فوج نہیں کر سکی وہ صرف پاکستان نے، افواج پاکستان نے اپنی عوام کی سپورٹ کے ساتھ حاصل کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم آج ہائبرڈ وار کا سامنا کر رہے ہیں۔

‘ہمیں اس بدلتی ہوئی نیچر اینڈ کریکٹر آف وار کا بھرپور احساس ہے، اس میں دشمن اس کے سہولت کار، آلہ کار ان کا کیا ڈیزائن ہو سکتا وہ کیا چاہتے ہیں ان سب کی بھی ہمیں سمجھ ہے۔ جہاں دشمن ہمیں داخلی طور پر کمزور کرتے رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اب جو بیرونی خطرات ہیں ان کی جانب سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ آپ نے کل دیکھا ہو گا کہ انڈین آرمی چیف نے کیا بیان دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں چند لوگ اندرونی اور بیرونی حملوں سے ہمیں اشتعال دلاتے ہوئے آپس میں بھی لڑانا چاہتے ہیں۔ اس طریقے سے پاکستان کو شکست دینے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں ایسا انشا اللہ نہیں ہوگا۔ اگر ہمیں خطرے کا پتہ ہے تو ہمارا ردعمل بھی اِن پلیس ہے۔’

‘ جو موجودہ ڈیزائزن دشمن قوتوں کا چل رہا ہے اس کو بھی سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں گے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کے گذشتہ روز ایس ایس جی ہیڈ کوارٹر کے دورے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں ہے یہ ایک خاندان ہے۔ ہم عوام کی افواج ہیں۔

‘ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادارے کی عزت اور وقار کا دفاع بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے ملک پہلے ہے ادارہ بعد میں ہے۔ آج اگر ملک کو ادارے کی قربانیوں کی ادارے کی پرفارمنس کی اور ہماری یکجہتی کی ضرورت ہے تو ہم دشمن کے ڈیزائن میں آکے ان چیزوں کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔’

انھوں نے بتایا کہ آرمی چیف کی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے۔ اس میں کیا فیصلے ہوئے اس کے بارے میں حکومت آگاہ کرے گی۔

BBC URDU