ففتھ جنریشن وار فیئر کوسمجھئے
محمد عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام رواج ہے کہ کسی اصطلاح یا اصطلاحات کا زیادہ ذکر آئے یا اس کی تکرار سنائی دے تو لوگ اکتا ہٹ محسوس کرتے ہیں ۔وہ بات خواہ جتنی سچی اور درست ہو، اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔اس کی دو وجوہ ہیں،پہلی یہ کہ ہمارے ہاں ان اصطلاحات کے نام پر عوام کو بے وقوف بنانے کا عمل جاری رہا۔دوسرا ہمارے ہاں علمی رویہ نہیں، یار لوگ کچھ پڑھنے ، سمجھنے کی زحمت نہیں فرماتے ۔ بعض تو کتاب یا مطالعہ سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے لفظ نہیں سانپ ، بچھو ہیں جو انہیں ڈنک مار دیں گے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔اسے سمجھنے ، پڑھنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ پرواسٹیبلشمنٹ قوتیں اس اصطلاح کو استعما ل کر رہی ہیں تو یہ باقیوں کے لئے کافی ہے کہ بلاسوچے سمجھے اس کی مخالفت کریں۔ انہیں یہ خیال نہیں کہ اس کا ہدف اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور قوت نہیں بلکہ ملک یعنی ریاست ہے۔
بات بڑی سادہ ہے، مشکل الفاظ اور اجنبی، نامانوس اصطلاحات میں پڑے بغیر یہ سمجھ لیجئے کہ اب جنگیں لڑنے کا سٹائل بدل گیا۔ کسی زمانے میں فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتی تھیں، جس کی فوج زیادہ دلیر، طاقتور وہ جیت گیا۔ پھر ہتھیار اہم ہوئے، جدید ہتھیار، ٹیکنالوجی والے میدان مار لیتے۔ہتھیار جدید ہوتے گئے، معاملہ نیوکلیئر بموں، میزائلوں تک جا پہنچا۔ پھر معیشت زیادہ اہم ہوئی۔سوویت یونین ہزاروں نیوکلیئر ہتھیاروں کے باوجود شکست کھاگئے، اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے کہ معیشت برباد ہوگئی تھی۔یہ سب عسکری اصطلاح کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر، سیکنڈ جنریشن وارفیئر ، تھرڈ جنریشن وار فیئر تھے۔ فورتھ جنریشن وار فئیر میں دہشت گردی کے ہتھیار کو برتا گیا۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیمیںپیدا ہوئیں یا کی گئیں۔القاعدہ، داعش ، بوکو حرام ، الشباب ۔ بعض ماہرین کے خیال میں روس کو زچ کرنے کے لئے ان ڈائریکٹ طریقے سے چیچن مسلح مزاحمت کو بھی سپورٹ کیا گیا۔ یہاں پر چلتے چلتے سمجھ لیں کہ جنریشن سے مراد زیادہ جدید ، ایڈوانس معاملہ ہے۔ ایک میزائل تیار ہونے کے چند سال بعد اس کا جدیدیعنی سکینڈ جنریشن ماڈل آجاتا ہے، پھر تھرڈ جنریشن ۔ دوائیوں میں بھی ایساہے۔ کئی روایتی اینٹی بائیوٹک کے زیادہ جدید تھرڈ جنریشن اینٹی بائیوٹک آ چکی ہیں۔
خیر عالمی قوتوں کو یہ محسوس ہوا کہ تھرڈجنریشن اور فورتھ جنریشن وار فیئر کے امتزاج کے باوجود بعض جگہوں پر کامیابی نہیں ہو رہی ۔ یہ محسوس کیا گیا کہ کہیں کہیں پر خراب معیشت ، کم عسکری قوت کے باوجود مکمل شکست نہیں ہو پا رہی۔ وہاں قوم کا اتحاد اور یک جہتی رکاوٹ تھی،وطن پرستی اور ایک قوم ہونے کی وجہ سے مزاحمت جاری ہے۔ تب نیا فیز آیا، جسے ففتھ جنریشن وار فیئر کہا جا رہا ہے۔یہ نظریات کی جنگ ہے۔مختلف نظریاتی، مسلکی، فکری ایشو کھڑے کر کے کسی بھی قوم کو تقسیم کرنا۔ان کے مابین ایسی نفرتیں پیدا کر دینا، جس سے کوئی خاص مسلکی، لسانی، علاقائی گروہ یا آبادی اس قدر ناخوش، بیزار اور ناراض ہوجائے کہ ملکی سالمیت کی جنگ اس کے لئے اہم نہ رہے۔ مختلف جگہوں پر اس کے مختلف ماڈل آزمائے گئے۔ کہیں پر حکمران شخصیت یا خاندان کے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا کرنے، کسی ملک میں حکمران طبقات یا حکمران جماعت کے خلاف نفرت اور شدید غصہ پیدا کرنا۔ جہاں ایک سے زیادہ لسانی ، مسلکی ، علاقائی سیاسی قوتیں یا کمیونٹی موجود ہو، وہاں ان کے باہمی اختلافات بڑھانا،کشیدگی میں اس حد تک اضافہ کہ اتحاد پارہ پارہ ہوجائے اور قومی موقف یا بیانیہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔ اس کے مختلف ٹولز یا ہتھیار ہیں۔ اخبارات، ٹی وی چینلز وغیرہ کو مانیٹر کرنا آسان ہے، وہاںزیادہ گڑ بڑ نہیں ہوسکتی، کسی حد تک سنسر یا کنٹرول میں معاملہ آ جاتا ہے۔ اس لئے زیادہ آسانی سوشل میڈیا اور سائبر میڈیا استعمال کیا جاتا ہے۔ نفرت انگیزتحریر، تقریر، ویڈیوکلپ ، زہریلا مواد شائع کرنے والی ویب سائٹس وغیرہ وغیرہ۔سوشل میڈیا سائٹس فیس بک، ٹوئٹر کے ذریعے یہ کام کرنا بہت آسان ہے کہ کسی بھی ملک میں بیٹھ کر بے شمار فیک اکاﺅنٹ بن سکتے ہیں ۔جنہیں بند کرانا بھی آسان نہیں ۔کسی بھی من پسندتحریریا کلپ کو وائرل کیا جاسکتا ہے۔ فیس بک میں یہ بھی آسانی ہے کہ کلوز گروپس بن سکتے ہیں۔ اپنے ہم خیال افراد اس گروپ میں شامل کر لیں
ہمارے ہاں ایک اور بھی رواج ہے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کے خطرے سے خبردار کرنے لگے تو اس کی بات کو کانسپریسی تھیوری یعنی سازشی نظریہ کہہ کر ٹال، نظرانداز ، حوصلہ شکنی کر دی جاتی ہے۔ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ ”بیمار“ ذہن لوگ ہر معاملے میں سازش کی بو دیکھتے ہیں اور ان کا مقصد صرف سازشی تھیوریز گھڑنا ہے، ورنہ کیا عالمی قوتوں کو اور کوئی کام نہیں جو ہر وقت ہمارے خلاف سازشیں کرتے رہیں وغیر ہ وغیرہ۔ خاکسار یہ بات مگر عاجزانہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ اس کالم میں جو کچھ بیان کیا گیا، وہ کوئی سازشی تھیوری نہیں۔ ہمارے اردگرد پچھلے چند برسوں میں رونما ہونے والے واقعات کے بغور مشاہدے سے یہ نتائج اخذ کئے گئے۔ چند مختصر مثالیں دینا چاہوں گا۔
نائن الیون یعنی گیارہ ستمبر2oo1ءکو امریکہ پر حملہ ہوتا ہے، خود امریکیوں کے دعوے کے مطابق یہ القاعدہ نے کیا اور طیارے ہائی جیک کرنے والے اس کے ایجنٹ تھے، افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت ختم کر دی جاتی ہے۔اسامہ بن لادن اور اس کا نائب فرار ہوجاتا ہے۔ایک لمحے کے لئے تمام امریکی دعوے درست مان لیں، تب بھی امریکہ کو القاعدہ کا پیچھا کرنا چاہیے تھا تاکہ درپیش خطرہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے۔ اس کے بجائے عراق کو ہدف بنا لیا جاتا ہے ۔ مغرب میں مقیم چند مشکوک عراقی نمودار ہو کر دنیا کو یہ کہانی سناتے ہیں کہ صدام حسین کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیار “Weapons of Mass Destruction” موجود ہیں۔ امریکی جنرل کولن پاول اقوام متحدہ میں دھواں دھار تقریر کر کے اقوام عالم کو قائل کرتا ہے۔دنیا کے نامور اخبارات واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز پروپیگنڈے کے لئے اپنے صفحات پیش کردیتے ہیں۔حتیٰ کہ ایک روز امریکی اپنے برطانوی اتحادی کے ساتھ عراق پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ عراق پر قبضہ ہوگیا، مگر ہتھیاروں کے نام پر ایک نلکی تک نہ ملی۔بعد میںجنرل کولن پاول اپنی کتاب میں شرمندگی ظاہر کرتا ہے کہ اس نے جعلی اور جھوٹی اطلاعات کی بنیاد پر تقریر کی۔ نیویارک ٹائمز اپنے فرنٹ پیج پر قارئین سے جھوٹ اور غلط چھاپنے پر معافی مانگتا ہے۔ عراقیوں کو مگر اس سے کیا ملا؟ عراقی عوام ایک دوسرے سے نفرت کرنے والے مسلکی گروہوں میں بٹ گئی، کرد عراق کے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں۔ نائن الیون سے پہلے عراق بے پناہ معاشی پابندیوں کے باوجود مستحکم جبکہ آج کا عراق ایک تباہ حال ملک ہے۔
جب عراق جیسی کہانی مزید دہرانا ممکن نہیں رہتا، تب کتاب کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ عرب سپرنگ کے نام پر ایک ایسی ”عوامی بیداری “کی تحریک چلتی ہے کہ دنیا بھر میں تبدیلی کے خواہاں، آمریت مخالف لوگ پرجوش ہو کر اس کی حمایت میں لکھتے ہیں۔ ایک لہر آئی جس نے مصر، تیونس، یمن میںحکمران بدل دئیے۔ مصر میں اخوان کی جیت سے پاکستانی اسلامسٹ بھی خوش ہوئے، وہ بے خبر تھے کہ اصل منصوبہ اخوانیوں کو زبح کرنے کا ہے۔ہارر فلم ابھی شروع ہوئی تھی۔ لبیا میںفرانس کی جنگی قوت استعمال کر کے قذافی حکومت ختم کی گئی۔ کرنل قذافی قتل ہوئے ،مگر اس پرسکون اور نہایت خوشحال چھوٹے سے ملک میں سکون ہونے کے بجائے قبائلی اختلافات ایسے ابھرے کہ آج خانہ جنگی ہے۔یمن پر سینتیس سال حکومت کرنے والے ڈکٹیٹر کے ہٹنے پر ہم لوگ بھی خوش ہوئے، مگر اس وقت معلوم نہیں تھا کہ ہدف یمن میں خانہ جنگی اور سعودی عرب کے لئے حوثی قبائل کو خطرہ بنانا تھا۔شام نے تو ہر ایک کوبھونچکا کر دیا۔ پاکستان اور عرب دنیا کے اسلامسٹ بشارالاسد سے بیزار اور ناخوش تھے کہ بہت سا خون ناحق اس خاندان کے ذمے تھا۔بشار کے خلاف مسلح مزاحمت کو بہت جگہوں پر خوشی سے دیکھا گیا۔ آج اگر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہر صاحب دانش یہی کہے گا کہ کاش شام میں یہ سب شروع نہ ہوتا۔حسین ملک تباہ ہوگیا، لاکھوںشامی شہید، کئی ملین مہاجر بنے ، مستقبل مخدوش نظر آ رہا۔
بچ نکلنے والے خوش نصیب ممالک میں وطن پرستی کا جذبہ طاقتور تھا یا پھر سٹرکچر ایسا کہ ففتھ جنریشن وار فیئر عناصر سرائیت نہ کر سکے۔ ایران اپنی تمام تر معاشی تنگدستی کے باوجود صرف ایرانی نیشنل ازم کی وجہ سے بچ پایا۔ایران میں مذہبی حکومت بدلنے کے لئے ہر قسم کے جتن کئے گئے۔ اخبارات کے ریگولر قارئین کو یاد ہوگا کہ چند سال پہلے ٹوئٹر کے ذریعے ایران میں بہت بڑی اپوزیشن تحریک چلائی گئی۔ لاکھوں لوگ تہران اور بڑے شہروں میں اکھٹے ہو جاتے۔ آج وہ کہاں ہیں؟ ایرانی صرف اس لئے تباہ ہونے سے بچ گئے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی ففتھ جنریشن وارفیئر کے پیچھے امریکی ہاتھ دیکھ لئے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارت،کویت جیسے ممالک عرب سپرنگ سے محفوظ رہے کہ ان کا سٹرکچر قبائلی تھا، حکمرانوں نے بروقت قدم اٹھا کر لوگوں کو ریلیف پہنچایا، ٹیکسز ، اشیا ضرورت کے نرخ نصف تک کم کر دئیے ۔ پریشر ککر سے گیس خارج ہوتی رہی اورخوش قسمتی سے دھماکہ نہ ہوا۔
صاحبو،آج پاکستان کو بھی ففتھ جنریشن وار فیئر کا سامنا ہے۔ کیسے ، کس طرح یہ سب کچھ کیا جارہا ، کیا جائے گا؟ اس پر ان شاللہ بات کریں گے.

ففتھ جنریشن وار فیئر، مغالطے، مبالغے
محمد عامر خاکوانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے گزشتہ (پیر، بارہ فروری )کے کالم میں ففتھ جنریش وارفیئرپر تفصیل سے بات ہوئی۔ یہ ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے سینئر تجزیہ کاروں کو قلم اٹھانا چاہیے ،ٹاک شوز ہونے چاہئیں۔ بعض اصطلاحات اپنی غیر معمولی اہمیت کے باوجود متنازع ہو جاتی ہیں یا پھر انہیں اس قدر اہمیت نہیں مل سکتی ، جتنا ان کا حق بنتا ہے۔ ففتھ جنریشن وارفئیر کامعاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ نہایت تواتر سے یہ اصطلاح دہراتے ہیں اور کبھی تو لگتا ہے کہ اس سے چابک کا کام لے کر دوسروں کو ڈرانا یا خوفزدہ کرنا مقصد ہے۔ دراصل اس قسم کی اصطلاحات جن کا تعلق قومی سلامتی سے ہو یا پھراس کی خاص جیوپولیٹیکل اہمیت ہو، وہ اکثر بیشتر سازشی تھیوری سپیشلسٹوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ زاہد حامد ٹائپ ”گلوبل دانشور“،جو دنیا کے ہر کام میں کسی نہ کسی عالمی سازش کی بو سونگھ لیتے ہیں….جیسے بارشیں زیادہ ہوگئیں تو بھارت نے سیاچین پر ایٹمی دھماکہ کر دیا، کم ہوئیں توعالمی سازش کے تحت قحط سالی پھیلانے کی کوشش ہے، وغیرہ وغیرہ۔یہ بڑا خطرناک مبالغہ ہے، نقصان اس کا یہ ہے کہ یہ لوگ کسی درست سازش کی بات کریں تو وہ بھی فسانہ اور جھوٹ لگتی ہے۔ دوسری جانب اس کے برعکس بہت سے لوگ اسے سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کر رہے کہ کہیں مشکل موضوع نہ نکل آئے اور پڑھنے سے دماغ میں چھالے پڑ جائیں۔بعض صحافی، اینکر دوستوں سے کسی موضوع پر بات ہوتو وہ فوری مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی کاغذ کے ٹکڑے پر مطلوبہ معلومات لکھ کر ان کو دے دی جائیں تو وہ دماغ سوزی کر کے اس کا مطالعہ فرما لیں گے۔ اگر انہیں کسی آرٹیکل پڑھنے کا مشورہ دیا جائے تو تیوریوں پر بل پڑ جاتے ہیں، غلطی سے کوئی کتاب بتا دی کہ اسے پڑھ لو تومشورہ دینے والے کو ایسی عجیب نظروں سے دیکھیں گے جیسے وہ غریب ہوش وحواس کھو بیٹھا ہے۔
صاحبو! بات یہ ہے کہ اس اصطلاح کو کوئی کانسپریسی تھیورسٹ استعمال کر ڈالے یا پھر کسی کو اندیشہ ہو کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے مخالفین کے منہ بند کرانے کے لئے اسے برتنا چاہ رہی ہے، تب بھی اس کی صداقت ، اہمیت اور موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی چاہے تو اس کانام بے شک بدل ڈالے۔ سکستھ ، سیون جنریشن وار کہہ دے یا بے شک زیرو وار فیئر ہی بنا دے، نام کچھ بھی ہو،مقصد اہم ہے، اس پرنظر ہونی چاہیے۔ تاریخ انسانی میں پہلی بار ایسے ٹولز یا ہتھیار ایجاد ہوئے ہیں جو خود کو پس منظر میں یا محفوظ رکھتے ہوئے لوگوں کی بہت بڑی تعداد پر اثرانداز ہو سکیں۔ٹوئٹر، فیس بک جیسی بلائیں پہلے کب تھیں؟ ایک فیک ویڈیو کے ذریعے لاکھوں، کروڑوں لوگوں تک پہنچا، ان کا ذہن بدلا جا سکتا ہے۔ ایسا پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ آپ کہیں بیٹھ جائیں، کسی بھی آئی ڈی کے ساتھ کام شروع کر دیں، چند ماہ میں اچھی بھلی سرنگیں لگا لیں گے۔اگرمقامی زبانیں آتی ہیں تو پھر کیا بات ہے۔ نہایت آسانی سے نوجوانوں کے کچے ، پکے ذہنوں میں سرائیت کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ تسلیم کر لیں کہ ففتھ جنریشن وار فیئر صرف تین الفاظ نہیں بلکہ اس کا ایک پس منظر اور اس کی اپنی قوت ہے۔ یاد رکھیں کہ انکار(Denial)صرف ریاست نہیں کرتی بلکہ کبھی عوام اور فعال طبقات بھی حقائق کو درست طریقے سے نہ سمجھنے پرسرے سے ان کے انکاری ہوجاتے ہیں۔
دوسرا یہ سمجھ لیں کہ اس قسم کی جنگوں کے اہداف کیا ہیں؟ ہمارے جیسے ممالک میں یہ عوام کو مسلکی،علاقائی، گروہی اور نظریاتی طور پر تقسیم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم کے بجائے سندھی، پشتو، بلوچ، پنجابی، سرائیکی قومیت پر اصرار۔ انہیں معلوم ہے کہ ہر ایک کو اپنی زبان، قبیلہ یا برادری ، قومیت سے محبت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رب کریم نے یہ محبت دلوں میں پیدا کی ہے۔ سرکار مدینہ ﷺنے بہت بار مکہ مکرمہ سے شدید محبت کا اظہار کیا ، اپنے قبیلے سے آپ ﷺ کو محبت تھی۔اس سے روکا بھی نہیں گیا۔ ہاں یہ کہا گیا کہ ظلم پر اپنے قبیلے کا ساتھ دینا عصبیت ہے۔ اپنی زبان، قبیلے، برادری، قومیت سے محبت برائی نہیں، ایسا کرتے ہوئے دوسروں کے لئے نفرت، ناپسندیدگی، بیزاری پیدا کرنا غلط ہے۔ یہ نفرت کے جذبات بڑی ہنرمندی سے پیدا کئے جاتے ہیں۔ ہتھیار یہ ہے کہ مشترک باتوں کو ہدف بنا کر ختم کیا جائے۔ مشترک چیزیں ہی ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔ پنجاب میں رہنے والے ایک شخص اور وزیرستان میں رہنے والے کسی قبائلی پشتون،کوئٹہ کے کسی بلوچ، سانگھڑ کے کسی سندھی، گلگت کے کسی رہائشی کے درمیان بعض مشترک رشتے ہیں۔ وہ رشتے ہی قوت ہیں اور وہی کمزوری ۔ انسان ہونا، مسلمان ہونا اور پھر پاکستانی ہونا ان کے مابین رشتے ہیں۔ پاکستان کے مفادات سب کو ایک کر دیتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا جیتنا نہال کر دیتا ہے۔ انہوں نے ایک خاص پاکستانی کلچر میں پروان چڑھا، اردو پڑھی، پاکستانی اخبار پڑھے، ٹی وی چینل دیکھے، سکول، کالج کے ایک خاص نصاب کو پڑھا، تحریک پاکستان کے قائدین سے انہیں محبت، عقیدت ہوئی۔ ریاست نے ایک خاص لاشعوری انداز میں ان کے مابین مشترک رشتے اورتعلق کی کئی جہتیں قائم کر دیں۔ ان میں بات کرنے کے لئے بہت کچھ موجود ہوتا ہے۔ سمجھدار قومیں ان رشتوں کو مضبوط کرتی ہیں۔
ہمارے ہاں دو غلط کام ہوئے ۔ بنیادی مسئلہ یہ کہ بیڈ گورننس کی وجہ سے عوام کاانتظامیہ، حکومت، ریاست سے اعتماد کم ہوا۔ ملک کے کسی بھی گوشے میں کوئی فرد، خاندان کسی بھی وجہ سے خوفزدہ ہو، مسائل کا شکار ہو تو وہ پولیس کی طرف جانے سے ڈرے گا۔ریاست کا انتظامی چہرہ پولیس ہے۔ یہ ظالم خوفناک چہرہ اسے حکومت، ریاست کے قریب نہیں آنے دیتا۔یہ سلسلہ طول پکڑتا ہے، صحت، تعلیم، روزگار، غرض ہر معاملے میں لوگوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔فوج یا اسٹیبلشمنٹ باہر رہ کر معاملات سدھارنے میں مدد کر سکتی تھی، جب مختلف مواقعوں پر اس نے حکومت سنبھال لی تو پھر معاملات بگڑ گئے۔ جس ادارے کو غیر متنازع ہونا چاہیے تھا، وہ متنازع ہوگیا۔ فطری طور پر اس پاور پالیٹیکس میں اسٹیبلشمنٹ کی ٹکر سیاستدانوں سے ہوئی، جن کا عوام میں ووٹ بینک اور اثرورسوخ تھا۔ یوں سیاسی بنیاد پر خاص قسم کے تعصبات شروع ہوئے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ایک ایک کر کے کئی اہم طاقتور سیاسی گروہوں، جماعتوں کے ساتھ معاندانہ جذبات پیدا کر چکی ہے۔ جنرل ضیا الحق نے پیپلزپارٹی کو ہدف بنا کر جیالوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات پیدا کر دئیے۔ وہی کام جنرل مشرف نے مذہبی قوتوں کے ساتھ کیا، حالیہ برسوں میں یہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہوا۔بلوچ ، پشتون قوم پرستوں میں پہلے سے تلخیاں موجود ہیں۔ اس وقت سوائے تحریک انصاف کے اسٹیبلشمنٹ کو کسی موثر سیاسی قوت میں پزیرائی حاصل نہیں۔جب اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ہو ، ہر دس پندرہ برس بعد اقتدار میں آنے جانے کا سلسلہ جاری رہے تو پھر بہت سے شکوک وشبہات مستقل وجود اختیار کر لیتے ہیں۔سیاسی کارکن پھر اداروں کی کہی بات کو اتنا سیریس نہیں لیتا، وہ ان میں چھپے معنی ، سازش تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تھوڑی بہت سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے،اخبار پڑھنے، ٹی وی دیکھنے والے نسبتا ہوشیار لوگ ہی سب سے زیادہ رائے سازی ، ذہن بناتے ہیں۔ عام آدمی پر انکی بات زیادہ اثر کرتی ہے۔
دوسرا بڑا فیکٹر علاقائی صورتحال، طاقتور پڑوسی، خطے میں عالمی قوتوں کی آویزش اور پڑوس میں وار تھیٹر کا جاری رہنا ہے . کم ہی ممالک ایسے ہوں گے جنہیں اپنے سے کئی گنا زیادہ بڑے، طاقتور ہمسایے کا سامنا ہو، اس کے ساتھ تین چار بڑی جنگیں لڑی جا چکی ہوں، جن میں سے ایک جنگ کے نتیجے میں وہ ملک آدھا ہوگیا ہو۔ایسا جس کے ساتھ ہوگا، مستقل بنیاد پر عدم تحفظ، حساسیت اور خدشات اس ملک وقوم کے ساتھی بن جائیں گے۔دنیا کے کم ہی خطے ایسے ہیں جہاں سپرپاورز ایک دوسرے سے باقاعدہ سینگ پھنسا کر لڑتی رہیں، لڑ رہی ہیں ۔روس، امریکہ کی باقاعدہ پنجہ آزمائی افغانستان میں ہوچکی۔ امریکہ چین کے مابین ٹسل ہر ایک کو نظر آ رہی ہے۔پاکستان کو یہ سب سہنا، بھگتنا پڑ رہا ہے۔
کم ہی ممالک ایسے ہوں جن کے پڑوس میں تیس سال کے دوران تین جنگیں لڑی جا چکی ہوں، کئی ملین لوگ وہاں سے مہاجر بن کر اس ملک میں آباد ہوں، ان کی آمدورفت کنٹرول کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو ۔ پاکستان بدقسمتی سے ان تینوں، چاروں قسم کے بدترین منظرنامے(Scenario) کا حصہ ہے۔تنقید کرنا بہت آسان ہے، لیکن اگر پاکستان کا دوسرے ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی سوچا جائے کہ ان ممالک میں سے کتنے ہیں جن کا بھارت جیسا پڑوسی ہے، جس کے ساتھ مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوچکا، جس کے اردگرد سپر پاور” لان ٹینس “کھیل رہی ہیں، جس کے پڑوس میں سپر پاورز حملہ آور ہوئیں اور برسوں ڈیرے ڈال کر بیٹھی رہی ہوں. ایسا پڑوس جن کی نصف آبادی اس کی دوست، باقی ماندہ سخت مخالف ہے۔ ایک چوتھا منظرنامہ بھول گیا۔ وہ سعودی عرب بمقابلہ ایران کا معاملہ ہے. دونوں جانب برادر مسلم ملک, دونوں ہمیں اپنی جنگ میں کھینچنے کے درپے. ایسے میں غیر جانبدار رہتے ہوئے بھی بہت کچھ سہنا, برداشت کرنا پڑتا ہے. ان سب کے پاکستان پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ہم اپنے بے شمار مسائل کے خود ذمے دار ہیں، غلطیاں بے پناہ کیں، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی سنگین مسائل ان آس پاس کی جنگوں، مخالف پڑوسی ،عالمی قوتوں ، دوست ممالک کی آویزش سے پیدا ہوئے۔
باقی باتیں اپنی جگہ، یہ سب ففتھ جنریش وار فیئر کے لئے آئیڈیل ماحول فراہم کرتا ہے۔ بات لمبی ہوگئی ، مگر ایشو اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ اس نمٹانے میں ایک دو مزید نشستیں لگیں گی۔