غازی ارطغرل کون تھے؟

امیر غازی ارطغرل بیگ بن سلیمان شاہ قایوی ترکمانی ترک اوغوز کی شاخ قائی قبیلہ کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے اور سلطنت عثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد تھے۔ ولادت کا زمانہ سنہ 1191ء کے آس پاس کا ہے جبکہ سنہ وفات 1281ء بتائی جاتی ہے اور مدفن اناطولیہ کے شہر سوغوت میں واقع ہے۔

وفات : 1281, سوغوت, ترکی

پورا نام: Ertuğrul Gazi

شریک حیات: حلیمہ خاتون

مقام تدفین : مقبرہ ارطغرل غازی, سوغوت, ترکی

اولاد: عثمان اول، گندوز ایلپ، سارو باتو ساوچی بے
بھائی یا بہن: دوندار بی، سونغور تكين باي، جوندوجو، دوندار

ارتغل غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہیں , آپ کی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی، اور وفات 1280 عیسوی میں، بقول بعض1281 میں, آپ کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان، آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت قائم کی، اور ان ہی کی طرف منسوب کر کے “خلافت عثمانیہ کہا گیا، یاد رہے کہ خلافت کی بنیاد ارتغل غازی رح رکھ چکے تھے۔ اس کے بعد اسی خلافت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا

اس کے ساتھ مسجد نبوی. گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہ کا مزار . مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر . آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار . مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے…

ارتغل غازی کا خاندان وسط ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتے تھے، آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا,ارتغرل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا۔

آپ کا قبیلہ سب سے پہلے وسط ایشیا Central asia سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آیا تھا منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے، جہاں سلطان علاؤ الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Sultan Alap Arslan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..

اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان Oghuz khan رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی…. جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا….

اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا Right hand تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا…

اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی…

اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت Sogut آئے قسطنطنیہ Contantinople کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے سلطان محمد فاتح رح تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پے حضور صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی……

تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ…

ہر واریئر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھہ اسلام کے لیئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں بھلے اسلام کے آغاز سے لیکے اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام کے لیئے امت مسلمان کے لیئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا….

اس جنگجو ارطغرل غازی کے پیچھے اللہ پاک نے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے جسکی ڈیوٹی لگائی تھی وہ #شیخمحیالدینابنالعربی رحمہ الله تھے ( آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے) جو اندلس سے ارتغل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے۔
امام ابن العربی نے ارتغل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارتغل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبصورت حدیث شریف ہے نہ کہ
” اتقوا فراسة المؤمن؛ فإنه ينظر بنور الله : ترجمہ مومن کی فراصت سے ڈرو کہ وہ اللہ لے نور سے دیکھتا ہے ” ..

یہ کوئی جذباتی یا مبالغہ آرائیاں نہیں ہیں یہ سب وہی سمجھ سکتا جو روحانیت پے یقین رکھتا ہو, جسکو یہ نور نہیں حاصل وہ اندھا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آئے جیسے لبرل سیکیولر برگیڈ…

اللہ پاک ارتغل غازی Ertugrul Ghazi کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ہوں ان کی قبر پر❣
آمین بجاہ نبی الکریم الامین