ترکی : استنبول ریلی میں شریک خواتین پر ایردوآن کی شدید تنقید

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعے کے روز استنبول کے وسط میں ہونے والی خواتین ریلی کی شرکاء پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اذان کا مذاق اڑؑا کر اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی ہیں۔

اتوار کے روز آدانا صوبے میں انتخابی مہم کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے بتایا کہ “ریپبلکن پیپلز پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں خواتین کا ایک گروپ تقسیم کے علاقے میں اکٹھا ہوا۔ اس گروپ نے اذان ہونے کے دوران سیٹیوں اور نعرہ بازی کے ذریعے انتہائی بے ہودگی کا مظاہرہ کیا”۔

جمعے کے روز خواتین کا عالمی دن منانے کے واسطے استنبول میں ہزاروں خواتین ایک ریلی میں شرکت کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔ تاہم پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

ایردوآن نے ریلی سے متعلق ایک وڈیو بھی دکھائی جس میں خواتین زور دار نعرے لگاتی دکھائی دے رہی ہیں جب کہ نزدیک واقع ایک مسجد سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔

ایردوآن نے اپوزیشن کی دونوں جماعتوں پر اذان اور ترکی کے پرچم کی عداوت رکھنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ “جو لوگ اذان کا احترام نہیں کرتے اور قومی پرچم کی حفاظت نہیں کرتے وہ قوم اور ملک کا احترام اور تحفظ بھی نہیں کریں گے”۔

ریلی میں شریک خواتین نے اپنی ٹویٹس میں واضح کیا کہ نعرے لگانا اور سیٹی بجانا یہ ریلی کی سرگرمیوں کا حصہ تھا اور اس فعل کا مقصد اذان کا مذاق اڑانا نہیں تھا جو کہ ریلی کے دوران شروع ہو گئی۔

عموما ترکی کی پولیس استنبول کے وسط میں اور دیگر مقامات پر احتجاج سے روکتی ہے۔ انقرہ نے 2016 میں انقلاب کی کوشش کے بعد ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے بعد سے پابندیوں کو سخت کر دیا تھا۔ گزشہ برس جولائی میں یہ ایمرجنسی اٹھا لی گئی تھی۔

ایردوآن اس وقت مقامی انتخابات کی مہم کے سلسلے میں مصروف ہیں جو رواں ماہ کی 31 تاریخ کو ہوں گے۔