جھوٹ اور ملمع کاری کا یہ کاروبار جسے جدید تہذیب کہتے ہیں اس کا بد ترین روپ یہ ہے کہ کسی بھی پروڈکٹ (product) کو اتنا خوبصورت اور جاذب نظر بنا کر بیچتے ہیں کہ خریدنے والے کی آنکھیں چندھیا سی جاتی ہیں۔ اس چکا چوند میں کی گئی خریداری کی سب سے بڑی خرابی اور بددیانتی یہ ہے کہ گاہک کو اول تو اس کے مضر اثرات کے بارے میں بتایا نہیں جاتا اور اگر معلومات موجود بھی ہوں تو ان کو خوبصورت پیشکش میں ایسے چھپایا جاتا ہے کہ آدمی کی اس طرف توجہ تک نہیں ہوتی۔ میں نے انگریزی لفظ “پراڈکٹ” کا استعمال کیا ہے کیونکہ یہ اس جدید تہذیب کے کاروباری پس منظر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس لفظ کی جامعیت اسقدر ہے کہ اس میں جدید معاشرتی زندگی پوری کی پوری ایک پراڈکٹ کے طور پر آجاتی ہے۔ اس پراڈکٹ کا چمکتا، چکاچوند کرتا، آنکھوں کو چندھیاتا اور روشنیوں میں نہایا ہوا کردار عورت ہے۔ یہ بیچاری اس جدید تہذیب کا وہ بل بورڈ ہے جسے اس کے ہر دروازے پر لٹکایا ہوا ہے اور اس کی جاذبیت کی روشنی میں اس تہذیب کی ساری گندگی اور غلاظت کو چھپایا گیا ہے۔ لیکن کس قدر ظلم کی بات ہے کہ جدید تہذیب کا یہ “بل بورڈ” ایک جیتا جاگتا انسان ہے جسے روبوٹ کی طرح تماشا گاہ بنا دیا گیا ہے۔ اسی روبوٹ کی ذاتی زندگی میں جو کچھ اس پر بیت چکا ہے، بیت رہا ہے اور بیتنے جا رہا ہے وہ خوفناک ہے۔ خوفناک اس لیے کہ اس تہذیبی چکا چوند نے جب اس خاتون کو اپنی کاروباری دنیا کی سب سے اہم “پراڈکٹ” بنانے کا فیصلہ کیا، ایک ایسی پراڈکٹ جس کے اردگرد ان کی تفریح، بزنس، معاشرت، سیاست، کاروبار گھومتے تھے تو انہوں نے اس خاتون کو گھر کی محدودیت سے نکال کر تعریف اور توصیف کے انسانی سمندر میں پھینک دیا، جہاں اسکی چند دن کی اچھلتی کودتی زندگی قابل توجہ بنی اور پھراس کے بعد وہ ایک انسانی سمندر کی تاریک گہرائیوں میں غرق ہو گئی۔ اس جدید تہذیب کے چمکتے ہوئے اس بل بورڈ کے نام پر دنیا کا وسیع کاروبار سجایا گیا ہے، اسی لیے اس “پراڈکٹ” کے حقوق کی لاتعداد تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں اور ہر سال آٹھ مارچ کو اس کا عالمی دن بھی منایا جاتا ہے۔ اس عالمی دن کو منانے کا عمل بھی بالکل کاروباری ہے، یعنی جہاں مارکیٹ پہلے ہی کسی پراڈکٹ کو مکمل طور پر خرید رہی ہو، جسے کاروباری زبان میں مزید مال بکنے کی گنجائش نہ ہونا (saturation) کہتے ہیں ،وہاں مزید محنت نہیں کی جاتی، بلکہ نئی مارکیٹیں تلاش کی جاتی ہیں اور وہاں پر تمام تر توانائیاں صرف کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے جو جدید تہذیب میں رنگے جا چکے ہیں جہاں اس بیچاری عورت کے کردار کو ایک بہت بڑے بل بورڈ کے طور پر نصب کر دیا گیا ہے، وہاں نہ حقوق نسواں کی انجمنیں نظر آتی ہیں اور نہ ہی آٹھ مارچ کا خواتین کا عالمی دن اسقدر زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک چونکہ ابھی تک اسی عالمی “بزنس کمیونٹی” کا حصہ نہیں بن پائے جہاں عورت کا وہ کردارجو انہوں نے متعین کیا ہے وہ بخوشی ادا کرے، اسی لیے یہاں یہ دن زیادہ منایا جاتا ہے۔پاکستان میں گذشتہ بیس سال سے آہستہ آہستہ حقوق نسواں کے اس کاروبار کو وسعت دی جا رہی ہے۔ پرویز مشرف کی روشن خیالی سے عمران خان کی جدیدیت تک آتے آتے اس کے نشے میں بھی اضافہ ہوا ہے اور رنگ و روپ میں بھی۔ اس لیے اس سال جو پلے کارڈ عورتوں کی واک میں خواتین نے اٹھائے ہوئے تھے ان کے نشانے پر صرف اور صرف دو چیزیں تھیں ایک خاندانی نظام اور دوسری شرم و حیا۔ آپ ایک ایک پوسٹر کی زبان و نعرہ بازی پڑھ لیں ان کا ٹارگٹ کسی حقوق کی طلب نہیں تھی بلکہ مقصد یہ تھا کہ کیسے عورت بحیثیت ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کے خاندانی کرداروں سے باہر آتی ہے اور دوسرا یہ کہ کس طرح معاشرے میں شرم و حیا کے روایتی تصور کو تار تار کیا جا سکتا ہے ۔ آپ نعرے ملاحظہ کرلیں “عورت بچہ پیدا کرنے والی مشین نہیں”، “اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو”، “آج واقعی ماں بہن ایک ہوگئی ہیں”، “کھانا خود گرم کرنا سیکھ لو”، اس کے علاوہ لاتعداد ایسے پلے کارڈ تھے جن کی عبارتیں درج کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ اس پوری جدوجہد کا ٹارگٹ یہ دو تصورات “خاندانی نظام” اور “شرم و حیا” کیوں ہیں۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ عورت کو جس دن سے انسانی معاشرے نے کاروبار کی دنیا میں لا کر بٹھایا ہے، وہ ان دونوں تصورات پر حملہ کرنے کے بعد ایسا ممکن ہو سکا۔ دنیا کا سب سے پرانا پیشہ(oldest profession)آج تک طوائفوں کے کاروبار کو کہتے ہیں۔ اس کی ابتداء انہی دونوں تصورات کے خاتمے سے ہوئی تھی اور یہی کلیہ اب تک کی تمام کاروباری مہمات میں ایک اصول کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ جدید تہذیب کی چکاچوند دنیا کو ایک شاندار مارکیٹنگ کا شعبہ چاہیے تھا۔ اس قدر روشن اور حواس پر چھا جانے والا کہ پھر اس کے بعد سب کے عقل و ہوش معطل ہو جائیں اور اس کے لئے عورت سے بہترین کون ہوسکتا تھا، جس کے وجود میں اللہ نے خوبصورتی، محبت، ممتا، قربانی، ایثار اور جاذبیت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جس کے بارے میں اس کے خالق کا فرمان ہے “زینت دار بنا دی گئی ہے لوگوں کے لئے محبت رغبتوں کی عورتوں سے ” (آل عمران: 14)۔ اسے اگر اس جدید تہذیب کا بل بورڈ بنانا تھا تو اسے خاندان سے نکالنا ضروری تھا اور اس سے شرم و حیا کے زیور کو چھین کر جسمانی نمائش کے ہنر سے آراستہ کرنا تھا۔ وہ ماں جو اس بات پر غرور کیا کرتی تھی کہ اس نے دنیا کی سب سے مشکل تخلیق “انسان کی تربیت” کی اور اسے معاشرے کو تحفے میں دیا، اب وہ پائلٹ بننے، انجینئر کہلانے اور سائنسدان کا ایوارڈ حاصل کرنے میں فخر کرنے لگی۔ گھر سے نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ اس کا کردار بدل دیا جائے اور اس کو اس تہذیب کی پہچان بنا کر چوراہے میں سجی سجائی گھومتی گڑیا کی صورت نصب کر دیا جائے جس پر ہر لمحہ اشتہارات بدلتے رہتے ہوں۔اس مقصد کے لیے عورت سے شرم و حیا چھیننا بھی بہت ضروری تھا۔ اسے کن کن ترغیبات سے گمراہ کیا گیا۔ تم اگر گھر سے نکلو گی تو زیادہ مستحکم اور محفوظ ہو جاؤ گی، شرم و حیا ترک کرو گی تو تمہارے لیے مستقبل کے دروازے کھل جائیں گے۔ کاش اس چکا چوند میں خوشنما لگنے والی عورت کو اس تہذیب کے مضر اثرات (side effects) بچپن سے کورس میں پڑھائے جائیں۔ اسے بچپن سے بتایا جائے کہ خاندانی نظام کو تباہ اور شرم و حیا کو چھوڑ کر جو جدید مغربی معاشرے تخلیق ہوئے وہ اسقدر درندہ صفت ہیں کہ ان میں اس معصوم عورت پر سب سے زیادہ جنسی حملے ہوتے ہیں۔ کینیڈا، فرانس، جرمنی، سویڈن اور امریکہ دنیا کے دس بڑے ممالک میں سے ہیں جہاں عورتوں پر جنسی حملے (Rape) سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور ایسے ملکوں میں کوئی مسلمان ملک شامل نہیں۔ جدید تہذیب کے آزاد خاندانوں کا حال یہ ہے کہ امریکہ میں ہر منٹ میں بیس عورتیں اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ سے مار کھاتی ہیں۔ ہر چار منٹ میں ایک عورت اس ظلم کا شکار ہوتی ہے، گھریلو تشدد کی وجہ سے 28 فیصد عورتیں بے گھر ہو جاتی ہیں۔ امریکی گھروں کے پچاس لاکھ بچے والدین کے ہاتھوں ہر سال شدید تشدد برداشت کرتے ہیں۔ دنیا میں عورتوں کے منہ پر تیزاب سب سے زیادہ برطانیہ میں پھینکا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کی ایک دنیا ہے۔۔۔بہت تلخ دنیا۔ لیکن اس بیچاری عورت کو گھر سے نکال کر اور اس سے شرم و حیا کی دولت چھین کر اسے چند سال چکا چوند زندگی کے ملتے ہیں جن میں وہ گھر سے بے گھر ہوئی، اولاد سے دور، بار بار گھر بناتی بگاڑتی رہی، دفتر میں ہوسناک نظروں کا سامنا کر کے آگے بڑھتی رہی اور جب یہ چند سال گزر گئے تو وہ ایک مکان کے کمرے میں تنہا، کسی اولڈ ایج ہوم کے بستر پر یا کسی پب یا بار کے بینچ پر خوفناک موت کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ پاکستان کی اس پسماندہ عورت سے بالکل مختلف جسے اس کی اولادیں بڑھاپے میں ہتھیلی کا چھالا بنا کررکھتی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارتی ہیں اور اس کے چلے جانے پر زاروقطار روتی رہتی ہیں۔