وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے پر اپوزیشن کے اعترض کو مسترد کرتے ہوئے ریفرنڈم کروانے کی تجویز پیش کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کے رکن نوید قمر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو مذاق بنا دیا گیاہے، سوچے سمجھے بغیر سرعام پھانسی کی قرارداد منظور کرائی گئی۔

انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان قانون سازی کیلئے ہے مگر ملک کو آرڈیننس کے ذریعے چلایا جا رہاہے۔

پیپلزپارٹی کے اعترض پر وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ سرعام پھانسی کی سزا کی قرارداد منظوری درست فیصلہ تھا، اپوزیشن کوکوئی اعتراض ہےتو ریفرنڈم کرالے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم سے فیصلہ ہو جائے گا کہ عوام بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی دینے کے خواہشمند ہیں کہ نہیں۔

زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی کا معاملہ پر حکومتی وزراء میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے، ایک جانب علی محمد خان نے اس قبیح جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو پھانسی کے پھندے پر چڑھانے کیلئے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی تو دوسری جانب وزارت قانون نے سرعام سزائے موت کی مخالفت کردی۔

اس حوالے سے وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ سرعام پھانسی اسلامی تعلیمات اورآئین کےمنافی ہے،1994میں سپریم کورٹ سرعام پھانسی کی سزاغیر آئینی قراردے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ سرعام پھانسی آئین اور شریعت کی خلاف ورزی ہے،وزارت قانون آئین اورشریعت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فوادچوہدری نے بھی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ مسئلہ ہی یہ ہے کہ قوانین تو پہلے سے ہی موجود ہیں یہ تو بحث ہی نہیں، زینب کے کیس سمیت درجنوں کو پھانسی ہوچکی ہے اور ہونی چاہیے۔