وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ پر اعلانیہ حملے کا جواب سامنے آ گیا ہے۔سندھ کی حکمران جماعت نے قومی حکومت بنائے جانے اور ان ہائوس تبدیلی لانے کا فارمولا پیش کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی حکومت اور اِن ہائوس تبدیلی کی باز گشت سنائی دینے لگی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے رہنمائوں سے بھی رابطے شروع کر دئیے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قومی حکومت کے

متوقع وزیراعظم کے لیے بلاول بھٹو اور شہباز شریف کے نام سامنے آئے ہیں۔جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے دو سرکردہ رہنمائوں کے نام بھی متوقع وزیراعظم کے لیے دئیے گئے ہیں۔ یہ دونوں سینئر رہنما پارٹی کے اندر لابنگ کرنے میں مصروف ہیں،ایک رہنما کا تعلق کے پی کے جب کہ دوسرے کا جنوبی پنجاب سے ہے۔جب کہ بلوچستان سے اختر مینگل کا نام بھی سامنے آ سکتا ہے۔اپوزیشن کی طرف سے نمبر گیم حکومت کے برابر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے جن دو ناراض رہنمائوں سے رابطے رکھے ہوئے ہیں وہ وفاقی کابینہ کا بھی حصہ ہیں۔اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس کے حامی ارکان کی تعداد اتنی ہے جتنی اس وقت حکومت کے پاس ہے۔قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے 85, پیپلز پارٹی کے 54، ایم ایم اے کے 16اور اے این پی کی ایک سیٹ ہے جب کہ اپوزیشن کو ایک آزاد امیدوار کی اہمیت بھی حاصل ہے اور ضرورت پڑے پر پی ٹی آئی کے دو رہنما بھی حمایت کر سکتے ہیں۔ نمبر گیم میں اس وقت اپوزیشن کے پاس 158 نشستیں ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 156 ہے ان حالات میں ایم کیو ایم کے 7ووٹ اہمیت اختیار کر گئے ہیں جب ق لیگ اور جی ڈے اے بھی حکومت سے ناخوش ہے۔تاہم حکومت نے ان ہائوس تبدیلی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں متحد ہے اور اپنے پانچ سال پورے کرے گی۔واضح رہے قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کوٹف ٹائم دینے کیلئے اتحاد کرلیا ہے، سابق صدر آصف زرداری نے ایک سوال پر بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد ہوگیا ہے،اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ لائحہ بنانے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے پراتفاق کرلیا ہے